سکون کہیں نہیں ہے – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

سکون کہیں نہیں ہے!\r\nایک امیر ترین شخص نے اپنے گھر کے باہر یہ الفاظ کندہ کرا رکھے ہیں جبکہ اس کے گھر کے ساتھ ہی اس کے بہت سے مختلف النوع شو رومز میں سے ایک چمکتا دمکتا کار شوروم موجود ہے. جب بھی کبھی فارن ٹورز سے تھک جاتا ہے تو آرام کے لیے اپنے آبائی گھر میں واپس آ جاتا ہے. لیکن سکون یہاں بھی نہیں ملتا. ایک روز مختلف طبقہ ہائے فکر کے مولویان و مفتیان کرام اکٹھے ہو کر صاحب کو سمجھانے پہنچے کہ جناب آپ کا یہ جملہ غلط ہے، غیر مناسب ہے، آپ اسے ہٹا دیجیے. صاحب نے ان تمام معززین سے سوال کیا .. جناب عالی اس جملے ”سکون کہیں نہیں ہے“ سے آپ کو کیا بے سکونی ہے؟\r\n\r\nاپنے اردگرد نظر دوڑائیں. ہر شخص مضطرب ہے، بھاگ رہا ہے، ہل من مزید کی آگ پوری شدت سے بھڑک رہی ہے، اور سر توڑ کوشش کے باوجود بجھائے نہیں بجھتی. \r\nوجہ کیا ہے.؟\r\nوجہ دنیا کے معاشی نظام میں پنہاں ہے.\r\nمیرا تیرا سکون دنیا کے معاشی نظام کو اسٹینڈ اسٹل پر لا کھڑا کرے گا. \r\nکیا ہوگا اگر آپ کے پاس زندگی کا سفر طے کرنے کے لیے جو کچھ زاد راہ میسر ہے، اس پر آپ قناعت کر لیں؟ جناب عالی کارپوریٹ ورلڈ کا ایک گاہک کم ہو جائے گا. \r\nاگر آپ کے پاس سائیکل ہے تو موٹر سائیکل انڈسٹری کے لیے آپ پوٹینشل کلائنٹ ہیں،\r\nاگر آپ کے پاس چھوٹی کار ہے تو لگژری کار والے آپ کے لیے رجھانے والے اشتہارات بنا بنا کر ہلکان ہو رہے ہیں،\r\nآپ مرسڈیز یا فراری ڈرائیو کر رہے ہیں تو جہاز سازی کی صنعت آپ کو مجبور کرے گی کہ اپنا ذاتی جہاز آپ کے استعمال میں ہونا ہی چاہیے.\r\n\r\nیہی دوڑ خواتین میں لگی ہے. برانڈز کی دوڑ نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین کر کھلی آنکھوں اور سوئے دماغوں میں خواب بھر دیے ہیں. مقابلے کی دوڑ. نیا موسم نیا چیپٹر. فیشن ڈیوا.\r\nکاسمیٹک انڈسٹری نے آپ میں سانولی سلونی نمکین رنگت، سفید بالوں، موٹاپا، جھائیوں اور جھریوں کا خوف پیدا کر رکھا ہے. کیوں؟ کیونکہ اگر آپ اپنی رنگت پر راضی ہیں تو رنگ گورا کرنے والی صنعت کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے اور اگر آپ آملے، ریٹھے یا دہی سے سر دھو کر بال چمکا لیتی ہیں تو شیمپو اور کنڈیشنر والوں کا کباڑا ہوتا ہے.\r\nموٹاپے کو بچہ پیدا ہونے کے بعد کا قدرتی عمل گردانتے ہوئے اپنی مامتا پر راضی ہیں تو فگر امپروو کروانے والی پراڈکٹس، وزن کم کروانے والے قہوے اور فگر شیپرز کے ساتھ ساتھ جم بھی بند ہو جائیں گے. \r\nآپ کو اپنی عمر کے ساتھ ساتھ چہرے پر باریک لکیروں کے بڑھتے پھیلتے جال سے مسئلہ ہوگا، تبھی تو ڈے اینڈ نائٹ اینٹی ایجنگ کریمیں اور لوشنز بکیں گے. \r\nآپ اپنے حجاب میں راضی ہیں تب بھی شیمپو اور ہئیر ڈائی بنانے والی کمپنیز ناراض ہو جاتی ہیں. ظاہر ہے کہ اپنا نقصان کسے اچھا لگتا ہے.\r\n\r\nجناب! جان لیجیے کہ عام انسان کی بےسکونی میں کارپوریٹ ورلڈ کا سکون مخفی ہے. گاؤں میں کھلے ہوا دار کچےگھر میں پرسکون شخص کے بچوں کو اولڈ فیشن ہونے اور دنیا سے پیچھے رہ جانے کا طعنہ دے کر ہی تو نئی بڑی ڈیویلپڈ کالونی میں چھوٹے سے لیکن نئے فیشن کے مطابق بنے بنگلے میں شفٹ ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے نا. \r\nسرکاری اسکول سے پڑھ کر ترقی پانے والےگزیٹڈ آفیسرز کے بچے اب مہنگے ترین پرائیویٹ اسکولز اور فارن یونیورسٹیز سے تعلیم حاصل کریں گے تبھی کولیگز میں ناک کٹنے سے بچےگی اور کارپوریٹ سیکٹر کے ایجوکیشن بلاک کی چاندی چھوڑ ہیرے موتی ہوں گے. \r\n\r\nبھیا اس سب کا سادہ سا حل اپنے سے نچلے کو دیکھ کر ان نعمتوں پر شکرگزار ہونا ہے جو آپ کو ان سے زیادہ میسر ہیں، نہ کہ اپنے سے اونچے کو دیکھ کر بےسکون ہونا. تو پھر اس بےسکونی میں کب تک رہنے کا ارادہ ہے؟

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

Protected by WP Anti Spam