میں برات کا اعلان کرتا ہوں! - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے سیف اللہ کا لقب دیا تھا لیکن جب ایک غلط فہمی کے نتیجے میں بنو جذیمہ کے بے گناہ لوگ آپ کی تلوار کا نشانہ بنے تو رسول اللہ ﷺ نے بڑے ہی شدید الفاظ کہے: \r\nاللھم انی ابرؤ الیک مما صنع خالد (اے اللہ! میں تیری طرف برات کا اعلان کرتا ہوں اس کام سے جو خالد نے کیا!) \r\nاس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان مقتولین کی دیت بھی ادا کی اور یوں اجتماعی ذمہ داری کا اصول بھی واضح فرمایا۔ \r\n\r\nچکوال میں قادیانیوں کی عبادت گاہ پر حملے کو شریعت، قانون اور اخلاق کے کسی ضابطے کی رو سے جواز نہیں دیا جاسکتا۔ اے اللہ! میں اس فعل سے تیری طرف برات کا اعلان کرتا ہوں! علمائے کرام کو نہ صرف اس نہایت ہی افسوس ناک واقعے کی صریح الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے بلکہ اس کے ذمہ داران کے خلاف قانون کے تحت سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے تاکہ اس مسلم اکثریتی خطے میں آئندہ کسی کو بھی کسی غیر مسلم کے کسی حق پر چڑھائی کی جرات نہ ہوسکے۔\r\n\r\nذمہ داروں کا تعین تو عدالت ہی کرے گی۔ اتنا البتہ واضح ہے کہ ایک جگہ جو قادیانی عبادت گاہ کے طور پر مستعمل تھی اور جہاں سے عدالت نے انھیں نہیں نکالا تھا، اس پر حملہ ہوا ہے۔ جو بھی ذمہ دار ہے، مسلمان ہو یا قادیانی، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور اس حملے کی مذمت بغیر چوں چرا کے ہونی چاہیے۔\r\n\r\nبعض دوست کہہ رہے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی عبادت گاہ تھی جس پر قادیانیوں نے قبضہ کیا تھا۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جب تک عدالت انھیں قابض نہ قرار دے، وہ قابض نہیں ہیں۔ پھر عدالت ہی قبضہ چھڑا سکتی ہے، افراد نجی طور پر یہ حق نہیں رکھتے۔ پھر فائرنگ جس نے بھی کی ہو، اور حملہ جس نے بھی کیا ہو، پوری تحقیق کے بعد اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ محض اس وجہ سے کہ ایک فریق قادیانی ہے، ہمدردی دوسری طرف نہیں ہونی چاہیے۔ یہی حق و انصاف کا تقاضا ہے۔\r\n\r\n ارشاد باری تعالیٰ ہے: \r\nاے ایمان والو، حق پر جمے رہو اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے۔ اگرچہ یہ شہادت خود تمھاری اپنی ذات، تمھارے والدین اور تمھارے قرابت مندوں کے خلاف ہی پڑے۔ کوئی امیر ہو یا غریب، اللہ ہی دونوں کا سب سے زیادہ حق دار ہے تو تم خواہش کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر کج کرو گے یا اعراض کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ، جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔\r\n

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں