نظریہ رسالت ﷺ اوراس کا منہج - ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

دنیا میں مبعوث کیے گئے انبیاء کی سیرتوں کا مطالعہ کریں تو ان کی جدوجہد کا محور ومرکز اور ون پوائنٹ ایجنڈا توحید ہی نظر آتا ہے۔جسکے نتیجے میں انہوں نے وقت کے فرعونوں، نمرودوں اور ابو جہلوں کو للکارا۔آنحضور ﷺ جب تک محمد بن عبداللہ تھے۔ ان سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں تھا۔ قریش مکہ آپﷺ کے شمائل کا برملہ اعتراف کرتے۔صادق وامین کے القابات دیتے۔چالیس سال تک آپ ﷺ کو کسی نے پتھر نہیں مارا، کوئی گالی نہیں دی، کوئی طعنہ نہیں دیا، کوئی تشدد نہیں کیا۔

وہ دین جس کی اشاعت کے لیے مکہ کو مرکز بنایا گیا تھا، وہ عقیدہ جو حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی اولاد کو سکھایا تھا وہ ناپید ہو چکا تھا۔ کعبہ جسے خداوند وحدہ لاشریک کی عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا تھا وہاں اب تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا پاٹ بڑی دھوم دھام سے ہو رہی ہے۔ نسل ابراہیم باقی ہے لیکن دین ابراہیم کا نام و نشان تک انہیں رہا۔

اڑھائی تین ہزار سال کے بعد اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ محمد مصطفے ٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) تشریف لاتا ہے اور فاران کی چوٹی پر کھڑے ہوکر اعلان فرماتا ہے۔ قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا (النحل) اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہو نجات پا جاؤ گے) مکہ کے خاموش ماحول میں ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔ توحید کا نعرہ بلند ہونے پر اہل مکہ کا ردعمل حیرت، نفرت اور عداوت کے مرحلوں کو طے کرتا ہوا اب سنگدلانہ تشدد کی شکل اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنے آبائی عقائد، نظریات اور رسوم کے تحفظ میں ہی اپنی بقا کا راز مضمر سمجھتے ہیں۔ انہیں یہ اندیشہ ہے کہ اگر ان کے عقائد و نظریات پر کوئی آنچ آئی، تو ان کا وجود تک مٹ جائے گا اور اپنا وجود کسے عزیز نہیں۔ اس لیے وہ ہر قیمت پر اپنے فرسودہ نظام حیات کو بچانا چاہتے ہیں۔ لیکن اسلام کی سادگی، سچائی اور معنویت کے سامنے ان کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔

وہی صادق وامین کہنے والے آپﷺ کے شمائل کا اعتراف کرنے والے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن وجمال کے گیت گانے والے دشمن بن گئے۔ نعوز با اللہ ردعمل میں آپ کو شاعر مجنوں، دیوانہ، یتیم پتہ نہیں کیا کیا طعنے اور ازیتیں دینے لگے۔ ثابت ہوا کہ انہیں آپ سے پیار محمد بن عبداللہ کی حیثیت سے تھا نہ کہ محمدالرسول اللہ ﷺ کی حیثیت سے۔ یہی وہ ون پوائنٹ ایجنڈا ہے جس کی بنیاد پر نظریاتی جنگ شروع ہوتی ہے۔ یہی نظریہ رسالت ہﷺ ہے۔حضور ﷺ کی دنیا میں تشریف لانے پر خوشی ضرور منانی چاہیے کہ انہوں نے دنیا کو شرک وجہالت کی گھٹاٹوپ آندھیوں سے نکال کر توحید کے نور سے منورکیا۔ہمیں آج خوشی مناتے وقت اس نظریاتی جدوجہد کو نہیں بھولنا چاہیے اس کو بنیاد بناکر آج کے فرعونوں، نمرودوں اور ابوجہلوں کو للکارنا ہو گا۔تمام جھوٹے معبودان باطلہ کا قلع قمع کرنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:   غزوۂ اُحد سے حاصل شدہ سبق - مفتی منیب الرحمٰن

آج ہمیں اپنے محبوبﷺ کی آمد پر خوشی مناتے وقت ا ن کی نظریاتی اساس کو یاد رکھنا ہو گا اور تجدید عہد کرنا ہو گا کہ اللہ تعالی کی وحدانیت، اس کی الوہیت، اس کی ربوبویت اس کی صفات میں کسی کو شریک نہیں ٹھرائیں گے۔ دنیا کے خداؤں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ جھوٹ نہیں بولیں گے۔ رشوت نہیں لیں گے۔ یتیم کا حق نہیں ماریں گے۔ بیوہ سے بدسلوکی نہیں کریں گے۔والدین کا احترام کریں گے۔ہمسایوں کے حقوق کا خیال کریں گے۔ مالی اخلاقی، دعلمی بددیانتی نہیں کریں گے۔بڑے کا احترام اور چھوٹوں پر شفت کریں گے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پاسداری کریں گے۔ آقا کی آمد پر خوشی کے اس موقع پر آپ کی سیرت کا یہ تاریخی واقعہ بھی پڑھ لیں۔کس قدر آپ حقوق العباد کی ادائیگی کے لیے متفکر رہتے۔ ا پنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں تو کسی ٹی او آرز کا مطالبہ نہیں کرتے۔ نہ ہی منصب نبوت کی بنیاد پرکوئی اسثثنا مانگا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام ہیں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید بخار تھا،پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ مدینہ میں اعلان کردو کہ جس کسی کا حق مجھ پر ہو وہ مسجدِ نبوی میں آکر اپنا حق لے لے۔۔۔مدینے کے لوگوں نے جب یہ اعلان سُنا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور مدینہ میں کہرام مچ گیا،سارے لوگ مسجدِ نبوی میں جمع ہوگئے،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آنکھوں میں آنسو تھے، دل بے چین وبے قرار تھا،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں آپ صلی اللہ علیہ کو اس قدر تیز بخار تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوا جا رہا تھا۔ اپنے اصحاب کی یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ اے میرے ساتھیو! تمھارا اگر کوئی حق مجھ پر باقی ہو تو وہ مجھ سے آج ہی لے لو، میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے رب سے قیامت میں اس حال میں ملوں کہ کسی شخص کا حق مجھ پر باقی ہو، یہ سن کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا دل تڑپ اُٹھا، مسجدِ نبوی میں آنسوؤں کا ایک سیلاب بِہ پڑا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رو رہے تھے لیکن زبان خاموش تھی، کہ اب ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا ساتھ چھوڑ کر جا رہے ہیں، اپنے اصحاب کی یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ اے لوگو! ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے. میں جس مقصد کے تحت اس دنیا میں آیا تھا وہ پورا ہوگیا، ہم لوگ کل قیامت میں ملیں گے.

یہ بھی پڑھیں:   غزوۂ اُحد سے حاصل شدہ سبق - مفتی منیب الرحمٰن

یک صحابی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، روایتوں میں ان کا نام عُکاشہ آتا ہے، عرض کیا یا رسول اللہ، میرا حق آپ پر باقی ہے، آپ جب جنگِ اُحد کیلئے تشریف لے جارہے تھے تو آپ کا کوڑا میری پیٹھ پر لگ گیا تھا میں اس کا بدلہ چاہتا ہوں، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہا کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ لوگے؟ کیا تم دیکھتے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہیں۔ اگر بدلہ لینا ہی چاہتے ہو تو مجھے کُوڑا مار لو۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لو، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر اسے بدلہ لینے دو، اس کا حق ہے، اگر میں نے اس کا حق ادا نہ کیا تو اللہ کی بارگاہ میں کیا منہ دکھاؤں گا، اس لیے مجھے اس کا حق ادا کرنے دو، آپ صلی اللہ علیہ نے کُوڑا منگوایا اور حضرت عُکاشہ کو دیا اور کہا کہ تم مجھے کُوڑا مار کر اپنا بدلہ لے لو، حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یہ منظر دیکھ کر بے تحاشا رُو رہے تھے، حضرت عُکاشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری ننگی پیٹھ پر آپ کا کُوڑا لگا تھا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کُرتہ مبارک اُتار دیا اور کہا لو تم میری پیٹھ پر کُوڑا مار لو، حضرتِ عُکاشہ رضی اللہ عنہ نے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ مبارک کو دیکھا تو کوڑا چھوڑ جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کو چُوم لیا اور کہا یا رسول اللہ فَداکَ ابِی واُمی! میری کیا مجال کہ میں آپ کو کُوڑا ماروں، میں تو یہ چاہتا تھا کہ آپ کی مبارک پیٹھ پر لگی مہر نبوّت کو چوم کر جنّت کا حقدار بن جاؤں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا، تم نے جنّت واجب کرلی.

Comments

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، مذاہب ثلاثہ میں امن اور جنگ کے تصورات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، تدریسی و صحافتی شعبوں سے برابر وابستہ ہیں، ایک ٹی وی چینل میں بطور اینکر بھی کام کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں