اہل محبت کی ادائیں - سراج الدین امجد

اہل محبت کے لیے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سعادت افروز لمحات تجدید عہد وفا کا بانکپن لیے ہوئے ہیں۔ آپ کی ذات ستودہ صفات سے تعلق کی استواری کے مختلف انداز و احوال ہیں، کہیں کثرت درود ہے تو کہیں مطالعہ سیرت، اور ذکر ولادت. کہیں خصائل و شمائل کا بیان ہے تو ساتھ ساتھ تذکار معجزات بھی سامانِ عقیدت لیے ہوئے ہے. اسی طرح نظم و نثر میں اہل محبت نے یوں گلہائے عقیدت پیش کیے ہیں کہ ' دامن دل می کشد کہ جا اینجا است ' کا معاملہ لگتا ہے. اظہار محبت کے مختلف پیراؤں میں صوفیہ کا عقیدت کیشی کا اپنا انداز ہے جبکہ صاحبان قرطاس و قلم کے ہاں مدحت طرازی رسول کے اپنے اسالیب ہیں. یہ گناہگار بھی ان ایام فرخندہ فرجام میں مدحت سرائی کے نظم و نثر کے شاہپاروں سے اپنی بساط بھر لطف اندوز ہو تا رہا ہے. آج کل کچھ لوگوں کی محبت رسول کے عنوان پر ہی جس طرح نسبت توحید معرض خطر میں پڑ جاتی ہے، ان کے لیے تو یہ ادائے محبت شاید ہضم کر نا مشکل ہو، تاہم خاکسار پر تو حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ کا یہ قول وجد طاری کر دیتا ہے کہ میں تو اللہ پاک سے بھی محبت اس لیے کرتا ہوں کہ وہ رب محمد ہے. رسالہ ”مبدء و معاد“ میں فرماتے ہیں ”محبت آں سرور ( صلی اللہ علیہ وسلم) بر نہج مستولی شدہ است کہ حق سبحانہ وتعالیٰ را بواسطہ آں دوست می دارم کہ رب محمد است.“ اسی طرح صاحبان نظر ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پو چھا گیا کہ آپ کو خدا زیادہ پیارا ہے یا محبوب خدا ؟ آپ نے فر مایا ؛ محبوب خدا کیونکہ ہم نے خدا کو انہی کے ذریعے پہچانا ورنہ وہ تو ازل سے موجود تھا .علامہ اقبال نے اسی حوالے سے”اسرارو رموز“ میں بڑے دلآویز اشعار کہے ہیں.\r\n\r\nمعنی حرفم کنی تحقیق اگر \r\nبنگری بادیدۂ صدیق اگر \r\nقوت قلب و جگر گردد نبی \r\nاز خدا محبوب تر گردد نبی \r\nاور یہ بات کہہ کر تو علامہ نے ”لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا” میں ذکر احسان عظیم کی گو یا تشریح کردی \r\nمی توانی منکر یزداں شدن \r\nمنکر ازشان نبی نتواں شدن \r\nیعنی ہو سکتا ہے کہ ایک انسان خدا کا انکار کرے لیکن حضور اکرم کی شان (رحمۃ للعالمینی) کا انکار نہیں کر سکتا. سچی بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود نہ ہو تا تو یہ کائنات نہ ہوتی. اقبال نے کیا خوب کہا؛ \r\n\r\nہرکجا بینی جہان رنگ و بو\r\nآنکہ از خاکش بروید آرزو \r\nیا زنور مصطفےٰ اورا بہااست \r\nیا ہنوز اندر تلاش مصطفےٰ است\r\n\r\n