دورہ آسٹریلیا یا اینڈ گیم؟ شاہد اقبال خان

دورہ آسٹریلیا بہت سے کپتانوں اور کھلاڑیوں کے کرکٹنگ کیرئیر کی موت ثابت ہوا۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو 2000ء کے دورہ آسٹریلیا کے بعد وسیم اکرم اور 2010ء کے دورہ کے بعد محمد یوسف کو کپتانی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ 2007ء میں مارکوس ٹریسکوتھک اور 2014ء میں جوناتھن ٹراؤٹ جیسے بڑے کھلاڑیوں نے دورہ آسٹریلیا ادھورا چھوڑ دیا جو ان کے کیرئیر کا اختتام ثابت ہوا۔ اس لیے دورہ آسٹریلیا کو اینڈ گیم یا کیپٹن کلر بھی کہتے ہیں۔\r\n\r\nپاکستان کرکٹ ٹیم آج کل دورہ آسٹریلیا پر ہے۔ آن پیپر پاکستانی ٹیم آسٹریلیا سے بہتر ہے۔ پاکستان کی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں پچھلے دو سالوں میں صرف ایک بار سیریز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ بھی نیوزی لینڈ کے خلاف کیونکہ بارش کی وجہ سے پاکستان ٹیم کو پریکٹس کا موقع نہ مل سکا۔ دوسری طرف آسٹریلیا پچھلی تین ٹیسٹ سیریز لگاتار ہار چکا ہے، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آسٹریلیا کی کمزور ترین ٹیم کا اگر دنیا کی مضبوط ترین ٹیم سے بھی آسٹریلیا میں مقابلہ ہو تو فیورٹ ہمیشہ آسٹریلیا ہی ہوتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔\r\n \r\nپاکستان میں کرکٹ فینز کا یہ خیال ہے کہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ میں کنڈیشن اور وکٹ ایک جیسی ہی ہوتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ آسٹریلیا میں عام طور پر یہ ٹیمیں بھی اتنی ہی مشکلات کا شکار ہوتی ہیں جتنی ایشین ٹیمیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وکٹ کا مختلف ہونا ہے۔ انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں وکٹ پر گھاس ہوتا ہے جس سے بال سیم اور سوئنگ ہوتا ہے۔ ان ملکوں میں اگر بادل رہیں تو وکٹ پر تین دن تک فاسٹ باؤلر کی بال سوئنگ ہوتی رہتی ہے اور اگر دھوپ نکلے تو دوسرے دن ہی سوئنگ ختم ہو جاتی ہے اور وکٹ ایشیا کی وکٹوں جیسا کھیلنے لگتی ہے۔ یہاں گھاس کی وجہ سے سپنر کو مدد نہیں ملتی کیونکہ وکٹ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوتی۔ آسٹریلیا میں وکٹ پر گھاس نہیں ہوتی، آسٹریلوی مٹی کافی سخت ہے، اس وجہ سے وکٹ سخت ہوتی ہے اور اس پر باؤنس ہوتا ہے۔ یہ باؤنس فاسٹ اور سلو دونوں طرح کے باؤلرز کو مدد دیتا ہے اور جیسے جیسے دھوپ نکلتی ہے، اس باؤنس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے یا پھر وکٹ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ڈبل باؤنس کرنا شروع کر دیتی ہے جس سے بیٹنگ کرنا پانچوں دن ہی کافی مشکل رہتا ہے۔\r\n\r\n آسٹریلیا میں جہاں ِایک طرف مہمان ٹیم کو بیٹنگ میں مشکل پیش آتی ہے، وہیں باؤلنگ بھی آسان نہیں ہوتی۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی تو یہ کہ آسٹریلیا کے گراؤنڈز سخت ہونے کی وجہ سے فاسٹ باؤلرز کو فٹنس مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہت سے باؤلر دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ آسٹریلیا میں وہ بلے باز کامیاب رہتے ہیں جو اوپن سٹانس سے کھیلتے ہیں کیونکہ ان کے لیے باؤنس کھیلنا نہ صرف آسان ہوتا ہے بلکہ باؤنس سے رنز بنانے میں بھی کافی مدد ملتی ہے۔ ایسے ایشین بلے باز بھی آسٹریلیا میں کافی کامیاب رہے ہیں جو اوپن سٹانس سے کھیلتے تھے جن میں لکشمن، انضمام، سہواگ، کوہلی اور جےسوریا شامل ہیں۔ آسٹریلیا کے تمام بلے باز اوپن سٹانس سے کھیلتے ہیں جس وجہ سے انہیں آسٹریلیا میں آؤٹ کرنا مہمان ٹیم کے لیے امتحان بن جاتا ہے۔\r\n\r\nآسٹریلیا کا میڈیا بھی ایک بگڑا ہوا بچہ ہے اور اکثر لگتا ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے آسٹریلوی میڈیا ان کھلاڑیوں کو ٹارگٹ کرتا ہے جن سے آسٹریلوی ٹیم کو خطرہ ہوتا ہے۔1999ء کے ورلڈکپ میں جب شعیب اختر خوف کی علامت بنا ہوا تھا تو آسٹریلوی میڈیا نے پاکستان آسٹریلیا میچ سے قبل شعیب اختر کے ایکشن مشکوک ہونے کا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ مقصد صرف شعیب اختر کی کھیل سے توجہ ہٹانا تھا۔ ہر دفعہ جب انگلیینڈ ٹیم ایشیز کھیلنے آسٹریلیا جاتی ہے تو آسٹریلوی میڈیا انگلش ٹیم کے اہم کھلاڑیوں کو تنازعات میں الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ٹریسکوتھک اور ٹراؤٹ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ابھی جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بھی آسٹریلوی میڈیا نے مہمان کپتان فاف ڈوپلیسس کو الجھانے کی کافی کوشش کی تھی۔ پاکستانی ٹیم پہلے ہی غیر ملکی دوروں میں تنازعات کا شکار رہتی ہے۔ اب اس دورے میں ٹیم کو تنازعات سے بچانے میں ٹیم مینیجمنٹ کا کافی اہم کردار ہوگا کیونکہ پاکستانی ٹیم کے اکثر کھلاڑی پہلی دفعہ آسٹریلیا کا دورہ کر رہے ہیں۔ پاکستان ٹیم کو ذہنی طور پر آسٹریلیا سے گراؤنڈ میں اور گراؤنڈ سے باہر بھی مقابلے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔\r\n

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam