یہ موت نہیں، مسافروں کا قتل ہے – حیا حریم

طیارے کا حادثہ ہوا\0، کئی جانیں ضائع ہوگئی، جنید بھائی جیسے گوہر نایاب بھی ہم نے کھو دیے، دل شدت غم سے پھٹا جا رہا ہے، آنسو تواتر سے بہہ رہے ہیں۔\r\n\r\nاپنے ارد گرد بکھرا ہوا کرب دیکھ کر مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ہم سے زیادہ درد مند دل رکھنے والا کوئی نہیں، ہم سے زیادہ احساس کرنے والا شاید کوئی نہیں۔ لیکن دوسری طرف خبریں آرہی ہیں کہ تباہ ہونے والا بد قسمت طیارہ اڑنے کے قابل ہی نہیں تھا، اس سے لگا کہ جیسے ہم سے زیادہ بےحس کوئی نہیں۔ ہم حادثات کے عادی ہوچکے ہیں. آخر کیا وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدت کا استعمال دوسرے ممالک میں ہم سے زیادہ ہے، یہاں دن میں دو یا تین فلائٹس ہوتی ہیں جبکہ دوسرے ممالک میں شاید ہر گھنٹے میں پانچ ہوتی ہوں۔\r\nلیکن کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہی جہاز تباہ ہوتے ہیں؟ ہماری ہی ٹرینوں کی پٹڑیاں اکھڑتی ہیں؟ ہم ہی ہمیشہ حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔\r\n ابھی بم دھماکوں سے بکھرا خون تازہ ہی ہوتا ہے کہ کسی فائرنگ کی آواز کان میں گونجتی ہے، ابھی ریل کی پٹڑی جوڑنے میں ہوتے ہیں کہ طیارے پھٹنے کے مناظر نظر آتے ہیں، کبھی بادبانی کشتیاں ڈوب جاتی ہیں۔\r\n\r\nمجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر کیوں ہم ہی آفات کا شکار ہیں؟\r\nہم ہر سانحے پر آنسو بہاتے ہیں، ماتم کرتے ہیں اور قدرتی آفات, قسمت کا لکھا کہہ کر خود کو تسلی دیتے ہیں، درحقیقت ہم یہ دل کو تسلی دینے کے بجائے قدرت پر الزام لگاتے ہیں، وہ مہربان ذات جو انگریزوں اور کافروں کے جہازوں کو گرتے سمے بھی تھام لیتی ہے، جو ان کے مسافرین کو لحظوں میں ہی پانی کی گہرائی سے نکالنے کا انتظام کردیتی ہے، وہ اپنے پکارنے والے موحدین کو کیسے آگ میں تڑپتا جلتا چھوڑے گی۔\r\n\r\nبخدا قدرت اور قسمت کے لکھے سے انکار نہیں، ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے رضا بالقضاء ہمارا عقیدہ ہے، لیکن پھر بھی دل میں اک خلش سی ہے، اک سوال سا ہے، اک گھٹن سی ہے۔ دل کہتا ہے کہ کئی مسافروں کو خراب انجن والے جہاز میں بٹھا دینا، ان کے لیے کوئی احتیاطی و حفاظتی انتظامات نہ ہونا، شاید قدرتی آفت کم اور انسانوں کی بےحسی زیادہ ہے، یہ موت نہیں مسافروں کا قتل ہے۔

حیا حریم

حیا حریم ماہنامہ حیا کراچی کی مدیرہ ہیں۔ علوم فقه میں تخصص کے بعد اب علوم قرآن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ آن لائن تعلیم و تربیت اکیڈمی برائے قرآن و علوم عربیہ کی انچارج ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam