روشن خیالی کا پاکستان - آصف محمود

اب ایک ہی کسر رہ گئی ہے کہ روشن خیالی بغلیں بجاتے ہو\0ئے منادی کرا دے کہ پاکستان کا خواب ملالہ یوسف زئی نے دیکھا تھا اور اس خواب کو حقیقت ڈاکٹر عبدالسلام نے بنایا. جہاں تک اقبال اور جناح کی بات ہے، یہ مذہبی انتہا پسندوں کا پروپیگنڈا ہے.\r\n\r\nمعلوم نہیں ہم توازن سے بات کیوں نہیں کر سکتے. ملالہ ایک بیٹی ہے جس پر ظلم ہوا. ہمارے انتہا پسندوں میں سے بعض نے اس پر ہونے والے ظلم کو ایک ڈرامہ قرار دے دیا اور اسے یہود و نصاری کا ایجنٹ بنا دیا، اور بعض نے اسے مفکر بنا کر پیش کر دیا اور اس کے نام سے کتاب چھاپ کر معلوم نہیں کس کی فکر کا ابلاغ کیا. وہ نہ مفکر ہے نہ ہی ایجنٹ. ایک مظلوم بیٹی تھی جسے بعد میں غالب تہذیب نے گود لے لیا.\r\n \r\nڈاکٹر عبدالسلام سائنس کی دنیا کا بہت بڑا نام تھے. ان کا یہ مقام ان سے کوئی نہیں چھین سکتا. محض اس لیے انہیں غدار قرار دے دینا انصاف نہیں ہے کہ وہ قادیانی تھے. اتنا بڑا الزام لگانے کے لیے ٹھوس ثبوت چاہیے. ڈاکٹر اے کیو خان صاحب کی ایک روایت کافی نہیں. اکیلی مرغی انڈا نہیں دے سکتی، اسے مرغے کا تعاون درکار ہوتا ہے لیکن یہاں پورے ایٹم. بم کا کریڈٹ ایک شخص کو دیا جاتا ہے. یہ درست رویہ نہیں. تاہم ایسا بھی نہیں کہ ڈاکٹر اے کیو خان کی غیر معمولی خدمات کا انکار کر دیا جائے. کسی عام آدمی کے منہ سے نہیں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اعلی ترین سطح پر بیٹھے رہے لوگوں سے اے کیو خان کی خدمات کا اعتراف میں نے بارہا سن رکھا ہے. کیسے انکار کر دوں؟\r\n\r\n ایک طرف مذہبی طبقہ ہے جو قادیانی ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالسلام کے بطور سائنسدان مقام کا انکار کر رہا ہے تو دوسری طرف قادیانی اور سیکولر طبقہ ہے جو جواب میں ڈاکٹر اے کیو خان کی توہین کر رہا ہے اور عبدالسلام میں وہ خوبیاں بھی دھونڈ کر بیان کر رہا ہے جن کا خود عبدالسلام کو بھی علم نہ ہو گا. \r\n\r\nسائنسدانوں کے مقام کا تعین عقیدے کی بنیاد پر نہیں ان کی مہارت اور ملک سے محبت کی بنیاد پر ہونا چاہیے. یہاں بہرحال ڈاکٹر عبدالسلام کا ڈاکٹر اے کیو خان سے کوئی موازنہ اور مقابلہ نہیں. دور دور تک.

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں