عوام کے لیے سیکیورٹی پلان - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سیاسی حکمرانوں کا پلان \r\nابھی ایک بہت محترم دوست سے مکالمہ ہورہا تھا کہ حکمرانوں کو محفوظ بنانے کے لیے کتنے عوام کی قربانی دی جاتی ہے؟ میں نے کہا کہ حکمرانوں کو بھی حادثات پیش آتے ہیں لیکن ان کی حیثیت استثنائی ہوتی ہے۔ دوسری طرف حادثات میں عوام کی ہلاکت کا تخمینہ لگالیجیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 18کروڑ عوام پر ایک حکمران ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اوسط معلوم کرنی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ حساب لگا کر دیکھ لیجیے کہ ایک حکمران کو بچانے کے لیے کتنے ہزار عوام کی قربانی دی گئی؟ عوام کے تحفظ کے بجائے وسائل حکمرانوں کے تحفظ کے لیے لگائے گئے اور نتیجے میں حکمران تو محفوظ ہوگئے لیکن عوام قربان کیے گئے۔ تو دیکھنا یہ ہے کہ ایک حکمران کی جان اوسطاً کتنے عوام کی جان دے کر بچائی گئی؟\r\n\r\nمذہبی سیاست دانوں کا پلان \r\nاس پر ایک اور صاحبِ علم نے کہا کہ کیا حکمرانوں کو سیکیورٹی دینا شرعاً غلط ہے؟ اب اس پر کیا بحث کرتے؟ انھیں ایک صاحب کا سنایا گیا یہ واقعہ بتایا کہ جب ایم ایم اے کے ایک وزیر صاحب سے کہا گیا کہ منتخب ہونے سے قبل آپ پروٹوکول کے خلاف تھے اور خلفائے راشدین کی مثالیں دیتے تھے لیکن اب آپ کی اتنی سیکیورٹی ہوتی ہے جبکہ عمر رضی اللہ عنہ کی تو سیکیورٹی نہیں ہوتی تھی، تو ان کا جواب تھا کہ تبھی تو شہید کیے گئے! \r\n\r\nفوج کا پلان \r\nمردان کینٹ ایریا کو چاروں طرف سے بلند و بالا فصیلوں کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے؛\r\nپھر ان بلند و بالا فصیلوں کے آگے خاردار باڑھ لگا کر ان فصیلوں کو محفوظ کیا گیا ہے؛\r\nپھر اس باڑھ کے آگے پولیس کا دستہ تعینات کرکے اس باڑھ کو بھی محفوظ کیا گیا ہے؛\r\nپھر اس پولیس کے دستے سے آگے عام شہری ہوتے ہیں جو کسی حد تک پولیس کو حفاظت فراہم کرتے ہیں ؛\r\nاور یہ شہری خود سب سے پہلا ہدف بنتے ہیں۔\r\n