تحریک انصاف پر الزام اور ٹارزن کی واپسی - محمد عامر خاکوانی

بھائی سچی بات ہے مجھے دو باتوں کی سمجھ نہیں آ رہی۔ ایک تو یہ کہ تحریک انصاف نے اگر سپریم کورٹ کے موجودہ بنچ سے فیصلہ کرنے کی اپیل کی ہے اور جوڈیشل کمیشن بنانے کی مخالفت کی ہے تو اس سے عمران خان کی کمزوری کہاں ثابت ہوئی اور یہ کہاں ثابت ہوا کہ تحریک انصاف بھاگ گئی ہے ؟\r\n \r\nیہ ٹھیک کہ تحریک انصاف جوڈیشل کمیشن بنوانے کے لیے سپریم کورٹ گئی تھی، ایسا جوڈیشل کمیشن جس کے پاس اختیارات ہوں اور جو وزیراعظم کا احتساب کر سکے۔ سپریم کورٹ میں مگر جو کارروائی ہوئی، اس سے بہت کچھ بدل گیا ۔ بلکہ ایک طرح سے اس کیس کا پورا رخ ہی تبدیل ہوگیا۔ تحریک انصاف کیا، خود مسلم لیگ ن والوں کو یہ خبر نہ تھی کہ ایسا یوٹرن ان کی قیادت لے گی ۔ \r\n\r\nمسلم لیگ ن کی قیادت کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس فلیٹس کی ملکیت وغیرہ کے ھوالے سے تمام ثبوت موجود ہیں۔ جب سپریم کورٹ مین معاملہ آگے بڑھا تو پتہ چلا کہ نہیں کچھ بھی نہیں ہے اور قطری شہزادے کا خط پیش کرنا پڑا۔ یہ ایک ایسا یوٹرن تھا جس نے اچھے بھلے نون لیگیوں کو بھونچکا کر دیا۔ میرے کئی دوست ن لیگ کے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ نجی طور پر ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ قطری شہزادے کے خط کا دفاع کرنے کے لئے بے مثال ڈھٹائی چاہیے ۔ حسین نواز، مریم نواز، بیگم کلثوم نواز اور خود میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ میں جو تقریر فرمائی تھی، ان سب سے یہ ایک سو اسی ڈگری کا انحراف ہے ۔ اس خط کے بعد صورتحال بالکل ہی بدل گئی ۔\r\n\r\nاس سے پہلے تحریک انصاف وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ صرف اس لئے کر رہی تھی کہ وہ اپنی اس پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر آزادانہ تحقیقات نہیں ہونے دیں گے ۔ اب باسٹھ تریسٹھ کے تحت وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ ان کے وکیل نے بیانات میں تضاد اور پارلیمنٹ میں کی گئی وزیراعظم کی تقریر میں جھوٹ بولنے اور قوم کو دانستہ دھوکہ دینے پر کیا ہے ۔ تحریک انصاف کو یہ قطعی امید نہیں تھی کہ میاں صاحب اس بری طرح کیس میں پھنس جائیں گے ۔ \r\n\r\nکل بیرسٹر علی ظفر نے یہی کہا کہ تحریک انصاف نے اچھا کیس بنا لیا ہے اور وکیل صفائی دلائل سے مطمئن نہیں کر سکے۔ یہ تاثر ن لیگ کے حامیوں کے سوا بیشتر وکلا کا ہے ۔ \r\nاس تازہ صورتحال میں تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ کمیشن بنانا وقت ضائع کرنا اور کیس کو لٹکانا ہے ۔ جو کچھ عدالت کے سامنے آ چکا ہے ، اس میں اتنا کچھ ہے کہ فیصلہ کیا جا سکے۔ اس لئے وہ سپریم کورٹ سے فوری فیصلے کی آپشن کی طرف گئی تاکہ جو بھی ہونا ہے ، ہو جائے ۔ شائد ان کے ذہن میں یہ بھی ہو کہ کمیشن بنا تو دو تین مہینے سے لے کر چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں اور یہ بنچ تو ٹوٹ جائے گا ، پھر نیا بنچ بنے گا جس میں معلوم نہیں کون کون ہوں۔ \r\n\r\nیہ نکتہ بھی ذہن میں رکھئیے کہ سپریم کورٹ یہ جو کمیشن بنا رہی تھی، وہ دونوں فریقین کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات وغیرہ کی تصدیق کے لئے تھا۔ سپریم کورٹ کوئی سپیشل انویسٹی گیشن والا کمیشن نہیں بنا رہی تھی۔ تحریک انصاف کا موقف یہی ہے کہ جو تضادات سامنے آ چکے ہیں، ان قانونی نکات پر فیصلہ دے دیا جائے ، اب کوئی لمبی چوڑی تحقیقات کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ نعیم بخاری نے اچھے طریقے سے اپنے دلائل پیش کئے ہیں۔ \r\n\r\nتحریک انصاف انصاف لینے سپریم کورٹ آئی تھی، یہ فیصلہ غلط تھا یا درست ، اس سے قطع نظر، آج بھی وہ اسی سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہی تھی، اسی بنچ سے فیصلے کی درخواست کی تھی ، خواہ ان کے حق میں ہو یا مخالفت میں۔ یہ تو بڑا سادہ موقف ہے، اس میں یوٹرن کیسا اور بھاگنے والی بات کہاں سے آ گئی۔ بھاگے تو وہ ہیں جو اچانک ہی تحت الثریٰ سے قطری خط برآمد کر لے آئے، اپنے تمام پچھلے بیانات کو بھول کر ۔ \r\n\r\nحقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں جس حد تک یہ کیس چلا ، اس کے بعد اب یہ واضح کیس بن چکا ہے، اس پر فیصلہ سنانے میں کیا قباحت ہوسکتی تھی؟ سب کچھ اتنا واضح ہوچکا ہے ، تضادات بھی آ چکے، منی ٹریل کی وضاحت نہ ہونا بھی آ چکی ، صفائی کا عجیب وغریب موقف بھی سامنے ہے ۔ پی ٹی آئی کے اخباری صفحات اگر پکوڑے بیچنے والے ہیں تو وہ بھی سامنے ہی ہیں۔ فیصلہ سنا دیا جاتا۔\r\n\r\nاس کے بجائے جناب چیف جسٹس صاحب نے عجیب وغریب فیصلہ کیا۔ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ کیس کس نوعیت کا ہے، اپنی ریٹائرمنٹ کا بھی علم تھا ، وہ اس بنچ میں شامل ہی نہ ہوتے۔ سترہ ججوں میں سے کوئی سے پانچ جج لیے جا سکتے تھے ۔ اگر شامل ہوئے تو پھر اب فیصلہ سنا دیتے۔ جنوری تک مؤخر کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کچھ کہا جائے تو پھر عدلیہ کہتی ہے کہ توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ خاموش رہنا ہی کافی ہے، مگر بہرحال ایک فیصلہ اور ایک رائے تاریخ کی بھی ہوتی ہے، وہ کیا ہے، ہر کوئی اس سے واقف ہی ہے ۔ \r\n\r\nویسے اس پہلی بات سے جڑی ہوئی حیرت ہے کہ اچانک اگلے چیف جسٹس کا بیس دن پہلے اعلان کیوں کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں تو اگلے نمبر والا ہی چیف بنتا ہے، فوج کی طرح یہاں نیچے سے اوپر نہیں آ سکتا۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ اگلا چیف جسٹس کون ہے تو پھر اس اچانک اعلان کا کیا مقصد تھا؟ کیا کوئی خاص پیغام دینا مقصود تھا ؔ؟ اس پر مزید کچھ کہا جائے تو ایک بار پھر عدلیہ کی توہین کا مسئلہ سر اٹھا سکتا ہے، اس لیے اتنا ہی کافی ہے۔\r\n\r\nدوسری حیران کن بات ’’ٹارزن‘‘ کی واپسی ہے۔ پرویز رشید کا اچانک نمودار ہونا ہے۔ سیرل المائیڈہ والے معاملے یعنی ڈان لیکس کے بعد پرویز رشید سے استعفی لیا گیا تھا۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف مستعفی ہوئے تھے، حکم انہی کا چل رہا تھا وزارت میں۔ بہرحال پرویز رشید اس دن کے بعد منظرسے غائب تھے۔ اب اچانک ہی وہ نمودار ہوئے اور ایک لمبی چوڑی چارج شیٹ عمران خان کے خلاف عائد کر دی۔ حیرت یہ ہے کہ کیا حکومت خود کو ڈان لیکس والے معاملے سے آزاد محسوس کر رہی ہے یا جنرل راحیل شریف کے جانے سے حکومت کی خود اعتمادی بہت بڑھ گئی ہے یا پھر سپریم کورٹ میں کیس کے موخر ہونے سے اس پر دباؤ بالکل ختم ہوگیا ہے۔ کیا ایسی بات ہوئی کہ پرویز رشید نمودار ہو گئے۔ آج رات یہی بات ہر جگہ ڈسکس ہوتی رہی۔ ن لیگ کے بعض حامی صحافیوں کا خیال ہے کہ یہ ایک تباہ کن غلطی ہے۔ پرویز صاحب کے بجائے مریم اورنگ زیب ہی سے پریس کانفرنس کرانی چاہیے تھی۔ بہرحال میاں صاحب نے اپنی طاقت اور اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے ۔\r\n

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں