قاری حنیف ڈار، پرویزی فکر کے نقش قدم پر - حافظ محمد زبیر

ناقدین کے مسلسل اصرار کے بعد بالآخر قاری حنیف ڈار نے اپنا نظریہ حدیث پیش کر ہی دیا ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ "حدیث" کی حیثیت "تاریخ اسلام" کی جتنی ہے اور یہی تو پرویزی فکر کا خلاصہ ہے کہ وہ ساری زندگی یہی دعوی کرتے رہے کہ جس کی جگالی آج قاری حنیف ڈار کر رہے ہیں۔ یہ تو اس قابل بھی نہیں ہیں کہ کوئی ایسا نیا اعتراض ہی پیدا کر سکیں جو کہ ان کے آباء واجداد نہ کر گئے ہوں۔ وہ لکھتے ہیں:\r\n"حدیث کے سارے مجموعے تاریخ اسلام سے زیادہ کوئی اھمیت نہیں رکھتے،، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی 95٪ انہی راویوں کی روایات 12 جلدوں میں تاریخِ بخاری کہلاتی ھیں جبکہ 13 ویں جلد صحیح بخاری کہلاتی ھے- ھیں سب تاریخ تاریخِ اسلام اور شخصیات کی بائیو گرافی ،، یعنی کہ ھسٹری آف اسلام اکارڈنگ ٹو محمد اسماعیل بخاری،، مگر ان کتابوں کو قرآن کی سوکن بنا کر رکھ دیا گیا، قرآن سے زیادہ تقدس ان کا بھرا گیا، ان کو قرآن کا محافظ کہا گیا- زھر تو ھوتا ھی زھر ھے مگر بعض دفعہ خود دوا بھی زھر بن جاتی ھے۔"\r\n\r\nحدیث نہیں سیرت، پیغمبر کی زندگی کا تاریخی ریکارڈ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ سیرت اور حدیث کے مصادر جدا جدا ہیں۔ کتب سیرت کو کسی نے مصدر شریعت نہیں کہا لیکن کتب حدیث تمام مکاتب فکر کے نزدیک مصادر شریعت کے مآخذ میں سے ہیں۔ چلیں، مان بھی لیں کہ حدیث تاریخ کی جتنی حیثیت رکھتی ہے لیکن کس کی تاریخ؟ یہ اس پیغمبر اسلام کی تاریخ ہے کہ جن کی اطاعت کو فرض کیا گیا ہے اور سنت کو اسوہ حسنہ بنایا گیا ہے۔\r\n\r\nسلف صالحین کی اصطلاح میں سنت، اللہ کے رسول کے قول، فعل اور تقریر کو کہتے ہیں اور حدیث، اس سنت کی روایت کا نام ہے۔ پس سنت پہلے ہے اور حدیث بعد میں ہے۔ سنت آپ کا قول، فعل اور تقریر ہے اور حدیث اس قول، فعل اور تقریر کے بیان کا نام ہے کہ جو صحابی کا ہوتا ہے۔ اس لیے صحیح اور ضعیف حدیث ہوتی ہے نہ کہ سنت کیونکہ سنت تو اللہ کے رسول کا قول، فعل اور تقریر ہے تو وہ کیسے ضعیف یا موضوع ہو سکتا ہے؟ البتہ وہ حدیث ضعیف یا موضوع ہو سکتی ہے کہ جس میں سنت منقول ہو۔ سنت اور حدیث کے اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کے سبب سے بہت سے لوگ بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہوئے ہیں۔\r\n\r\nپس سنت مظروف ہے اور حدیث اس کا ظرف ہے۔ سنت مکین ہے اور حدیث اس کا مکان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب آپ اہمیت کی بات کریں گے تو اصل اہمیت مظروف اور مکین کی ہے نہ کہ ظرف اور مکان کی۔ لیکن یہ بھی واضح رہے کہ بعض اوقات مظروف اپنے ظرف سے پہچانا جاتا ہے اور مکین کا تشخص اس کا مکان بن جاتا ہے۔ لہذا دونوں کی اہمیت مسلم ہے۔ سلف صالحین کے نزدیک مصادر دین، کتاب وسنت ہی ہیں۔ کتاب تو "مابین الدفتین" موجود ہے اور سنت کہاں ہے؟ یہ اہم سوال ہے کہ جس سے حدیث کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ سنت کا صرف اور صرف ایک ہی مصدر ہے اور وہ احادیث کی کتب ہیں۔\r\n