عبدالسلام سینڑ اور تبدیلی مذہب کے لیے عمر کی شرط – محمد عامر خاکوانی

سکول کے زمانے میں ہمارے ایک اسلامیات کے استاد کہا کرتے، مومن وہ ہے جو عدل کو اپنا شعار بنائے، یاد رکھو کہ کسی کی دشمنی تمہیں عدل اور انصاف سے دور نہ کر سکے کہ یہی رب تعالیٰ کا حکم ہے۔\r\n\r\n کئی برس گزر گئے ، نامور ادیب، مترجم، مدیر، صحافی اور شاہکار ترجمہ قرآن وسیرت انسائیکلو پیڈیا کے مصنف سید قاسم محمود نے ایک عجیب بات بتائی۔ سید صاحب آج مٹی کی چادر اوڑھے سو رہے ہیں۔ جاننے والے جانتے ہیں، جو نہیں جانتے، ان کے لئے اس عبقری کا مختصر تعارف کرانا چاہوں گا۔ اردو ادب،اردو پڑھنے والوں اور پاکستانیوں پر سید صاحب کے بہت احسانات ہیں۔ نوجوان تھے، جب کسی مضمون پر سرکاری انعام ملا، سردار عبدالرب نشتر اس وقت گورنر مغربی پنجاب تھے۔ سردار صاحب نے انعام دیتے ہوئے نوجوان قاسم محمود کو غور سے دیکھا اور بولے، تم نوجوان ہو، محنتی اور ذہین لگ رہے ہو، میرا مشورہ ہے کہ اپنی صلاحتیوں کو اردو انسائیکلو پیڈیاز کی ترتیب میں صرف کرو، پاکستانیوں کو اس کی اشد ضرورت ہے۔ سید قاسم محمود نے انسائیکلو پیڈیا کا نام پہلی بار سنا تھا، اس کے بارے میں جانکاری حاصل کی اور پھر غیرمعمولی عزم کے ساتھ اس مشن میں جت گئے ۔ اپنی تمام عمر اس میں کھپا دی۔ شاہکار کے نام سے مکتبہ قائم کیا اور سستی کتابیں چھاپنے لگے،وہ کتاب جس کی قیمت پچاس سو تھی، شاہکار اسے دو چار روپے میں فروخت کر دیتا۔ اسلامی انسائیکلو پیڈیا کی قسط وار اشاعت شروع کی، حتیٰ کہ ہزار صفحات سے زائد ضخیم اسلامی انسائیکلو پیڈیا شائع ہوگیا ، پاکستان کے حوالے سے پہلا انسائیکلو پیڈیا چھاپا، جس کا نام برٹینیکا کی مناسبت سے انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا رکھا۔ انسائیکلو پیڈیا سائنس، انسائیکلو پیڈیا تاریخ وتمدن پر کام جاری رہا۔ ایک سکالرشپ پر کچھ عرصہ جاپان رہنا پڑا۔ وہاں ایک بک سٹال پر کتاب دیکھی، ٹائٹل پر صرف یہ لکھا تھا، دنیا کی عظیم ترین کتاب۔ کھول کر دیکھا تو وہ قرآن پاک کا جاپانی زبان میں ترجمہ تھا۔ عربی متن کے بغیر صرف جاپانی میں ترجمہ چھاپا گیا تھا۔ سید صاحب کو آئیڈیا پسند آیا کہ اس طرح قرآن پاک کا ترجمہ اردو زبان میں الگ سے بھی چھاپنا چاہیے تاکہ اسے لوگ بہ آسانی سفر میں لے جا سکیں، بستر کے سرہانے رکھ کر پڑھا کریں ۔ عربی متن کے ساتھ اردو تراجم تو موجود ہیں ہی، اس طرح کا ایک ترجمہ بھی ہوجائے ۔ واپس آ کر کوشش کی، مگر کوئی کاتب اس کے لئے تیار نہیں ہوا۔ اس کے بعد وہ شاہکار ترجمہ قرآن چھاپنے لگے، اس میں عربی متن کے ساتھ مولانا فتح محمد جالندھری کامشہور لفظی ترجمہ، سید مودودی کا با محاورہ ترجمہ اوراسی صفحے پر علامہ عبداللہ یوسف علی کا انگریزی ترجمہ موجود ہوتا۔ جہاں ضرورت محسوس ہوتی ، وہاں مختصر تفسیری اشاریے دئیے جاتے، اس کے لئے مختلف مشہور تفاسیر سے استفادہ کیا گیا۔ شاہکارترجمہ قرآن آج بھی دستیاب ہے، ہر پارہ الگ الگ اور اکٹھا بھی ۔ قرآن کے بعد صیحح بخاری کے ترجمے کی طرف متوجہ ہوئے ، حدیث کے عربی متن کے ساتھ اس کا اردو اور انگریزی ترجمہ۔ مگر وہ کام آگے بڑھ نہ سکا۔ جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کے بعد ایسے حالات بنے کہ انہیں اپنا ادارہ بند کر کے لاہور سے کراچی شفٹ ہونا پڑا۔ نئے سرے سے زندگی کا آغاز کیا، عالمی ڈائجسٹ میں ملازمت کی، سب رنگ کے لئے لکھتے رہے اور پھر رفتہ رفتہ شاہکار کے پراجیکٹس پر دوبارہ سے کام شروع کر دیا۔ زندگی کے آخری دس پندرہ برسوں میں سیرت مبارکہ کے حوالے سے جم کر کام کیا اور دو جلدوں میں شاندار سیرت انسائیکلو پیڈیا ترتیب دے ڈالا۔ آخری دنوں میں انسائیکلو پیڈیا قرآنیات پر کام شروع کیا، تین چار اقساط ہی چھپی ہوں گی کہ بلاوا آگیا۔ جو کام اداروں کے کرنے کے تھے، وہ سید قاسم محمود نے تن تنہا کر ڈالے ۔ سید صاحب سے آخری عمر میں کئی ملاقاتیں رہیں۔ بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتے ، کالموں پر اپنی رائے دیتے اور کبھی کبھار کوئی رقعہ اپنے صاحبزادے سید عاصم محمود کے ہاتھ بھجوا دیتے، جس میں کوئی مشورہ، تجویز ہوتی۔ \r\n\r\n سید صاحب ایک زمانے میں لیل ونہار میں ملازم تھے۔ سبط حسن ایڈیٹر تھے۔ سبط حسن لیجنڈری ایڈیٹر سمجھتے جاتے ہیں، سید قاسم محمود ان کی ایڈیٹنگ کی بہت تعریف کرتے ۔ سبط حسن کے نظریات معروف ہیں۔ ایک بار نوجوان سید قاسم محمود نے کوئی مضمون لکھ کر مدیر کے کمرے میں بھیجا۔ مسودے کی پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا تھا۔ سبط حسن نے قاسم محمود کو بلایا اور کہا کہ یہ سطر کاٹ دو۔ قاسم محمود ہچکچائے، کہا کہ آپ مدیر ہیں جو کاٹنا چاہتے ہیں، خود ہی کاٹ دیں۔ سبط حسن نے کہا کہ نہیں میں اپنے قلم سے اس نہیں کاٹنا چاہتا، آپ خود کر دیں۔ سید قاسم محمود نے جواب دیا، میں ایسا کرنے پر استعفے کو ترجیح دوں گا اور اب آپ یہ حکم واپس لے لیں گے ، تب بھی میں یہاں کام نہیں کروں گا۔ سبط حسن نے کہا، تم جذباتی ہو رہے ہو، میں نہیں چاہتا کہ تم مستعفی ہو۔ سید قاسم محمود اس دوران اپنا مختصر سامان سمیٹ چکے تھے ، خاموشی سے سلام کر کے چلتے بنے، دوبارہ مڑکر نہ دیکھا۔ سید قاسم محمود کا میں نے ایک بار تفصیلی انٹرویو کیا تھا، اس میں یہ واقعہ انہوں نے سنایا مگر یہ نہیں بتایا کہ سبط حسن مرحوم نے کیا سطر کاٹنے کا کہا تھا۔ بعد میں ان کے صاحبزادے نے بتایا کہ اصل واقعہ کیا تھا اور سید قاسم محمود ازراہ انکسار دانستہ یہ بات نہیں بتایا کرتے تھے۔ \r\n بات سید قاسم محمود کی ایک محفل سے شروع ہوئی۔ اس میں سید صاحب نے بتایا کہ سائنس میگزین انہوں نے نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کے کہنے پر شروع کیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام سے شائد سید صاحب نے کوئی انٹرویو لیا تھا۔ بعد میں ڈاکٹر عبدالسلام نے انہیں کہا، پاکستان میں سائنس کے حوالے سے خاصا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو میں سائنس پر کوئی اچھا میگزین بھی موجود نہیں ، آپ اس طرف توجہ دیں اور سائنس پررسالہ نکالیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے تجویز دی ، نوجوانوں کو سائنس کی طرف متوجہ کرنا چاہیے، اس حوالے سے آپ کوئی سکالرشپ بھی دینا چاہئیں تو ضرور دیں، اس کے اخراجات میرے زمے ہیں۔ سید قاسم محمود نے یہ واقعہ سنایا تو کسی نے سوال کیا، ڈاکٹر عبدالسلام نے کبھی اس حوالے سے مدد کی تھی یا صرف مشورہ ہی دیا۔ سید صاحب کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی، کہنے لگے، سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام مجھے مستقل اس حوالے سے کچھ نہ کچھ بھجواتے رہے، کبھی کسی کے ہاتھ اور کبھی کسی اور ذریعے سے ، اپنی موت تک ڈاکٹر عبدالسلام کی جانب سے پیسے ملتے رہے، جو وعدہ انہوں نے کیا، اسےآخر تک نبھایا۔\r\n\r\n پچھلے دنوں حکومت نے قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کر دیا۔ دو تین دنوں سے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت کچھ شائع ہوتا رہا۔ ڈاکٹر عبدالسلام پر سخت تنقید ہوتی رہی، حکومت کو بھی مطعون ٹھیرایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جذباتیت اور عدم رواداری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اختلاف رائے برداشت نہیں کیا جاتا۔ کسی رائے سے اختلاف ہوا تو جھٹ سے اس پر کوئی نہ کوئی لیبل چسپاں کر دیا۔ اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ کسی متنازع یا جذباتی ایشو میں لوگ کمنٹ کرتے ڈرتے ہیں ، خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام کے حوالے سے رکھنے کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی بن گیا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک عام اور سادہ حکومتی فیصلہ ہے، اس میں کوئی سازشی تھیوری ڈھونڈنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کام برسوں پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان کی زیادہ خدمت کی یا کم یا ملک کے لئے کچھ نہیں کیا، اس پر لمبی بحث کی ضرورت نہیں، یہ بات تو بہرحال طے ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو فزکس میں نوبیل انعام ملا اور وہ پاکستان کے واحد نوبیل لاریٹ ہیں۔ انہیں جس تھیوری پر یہ انعام دیا گیا، اس کی غیر معمولی اہمیت کو فزکس کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر ڈاکٹر عبدالسلام کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں یونیورسٹی کے کسی فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام پر رکھنے میں کیا برائی ہے ؟ فزکس کے طالب علموں کی موٹی ویشن کے لئے ایک نوبیل لاریٹ کا نام استعمال کیا تو یہ عین فطری اور منطقی بات ہے، مقصد صاف ہے کہ بچو تم لوگ بھی محنت کرو اورکوئی ایسا کارنامہ انجام دو کہ نوبیل انعام مل سکے ۔\r\n\r\nجہاں تک ڈاکٹر عبدالسلام کے قادیانی ہونے کا تعلق ہے، فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام بدلنے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ قادیانیت کے حوالے سے اس کالم نگار کی رائے واضح ہے، جو شخص ختم نبوت کا قائل نہیں، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، مرزا غلام احمد قادیانی اوران کے ماننے والوں کی یہی پوزیشن ہے اور الحمداللہ پاکستانی پارلیمنٹ نے انہیں غیر مسلم قرار دے رکھا ہے۔ میرے نزدیک قادیانیوں کی یہ غیر مسلم والی حیثیت طے شدہ معاملہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں ری اوپن کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے ۔ اداکار حمزہ عباسی نے ایک ٹی وی شو میں یہ کوشش کی تو اس اخبارنویس نے دوسروں کے ساتھ پوری قوت سے اس کی مزاحمت کی، سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر یہ مقدمہ لڑا اور الحمداللہ پیمرا نے وہ شو ہی بند کر دیا۔ قانون تحفظ رسالت میں کسی بھی قسم کی ترمیم کے بھی ہم مخالف ہیں۔ عالمی سطح پر اس قانون کے حوالے سے دبائو موجود ہے، مگر اس کی مزاحمت کرنی چاہییے۔ اس کے ساتھ ساتھ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قادیانی پاکستانی ہیں، پاکستانی اقلیت کے طور پر انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں ،جن کا ذکر آئین میں موجود ہے۔ اسلام میں اقلیتیوں کے حوالے سے واضح قوانین موجود ہیں۔ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کئی مثالوں سے یہ واضح کر دیا کہ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی زندگی،جان ومال اور حقوق کا تحفظ کس طرح کرنا ہے۔ پاکستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، اپنی اقلیتیوں کا ہم نے ہی خیال رکھنا ہے ، ان کے لئے کچھ سپیس پیدا کرنی چاہیے ۔ جو چیزیں ہم غیر مسلم ممالک میں بطور مسلمان اپنے لئے طلب کرتے ہیں، کم از کم وہ تو اپنے اکثریتی مسلم ملک میں غیر مسلموں کو دی جائیں۔ ملک کی درجنوں یونیورسٹیوں میں سے ایک کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام رکھنے ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر رکھنے سے کوئی قیامت نہیں آگئی۔ اس حوالے سے غیر ضروری حساسیت اور جذباتیت پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔\r\n\r\n کم وبیش یہی معاملہ سندھ میں مذہب تبدیلی کے لئے اٹھارہ برس کی عمر لازمی ہونے کا قانون ہے۔ اس پر بھی خاصا شور مچا ہے، کئی ممتاز علما کرام نے بھی اس پر قلم اٹھایا۔ اہل علم مذہبی حوالوں سے اپنی رائے دے سکتے ہیں، انہیں ہی اس کا حق حاصل ہے۔ میرے جیسے عام اخبارنویس کو البتہ اس قانون میں بھی کوئی ہیجان یا زیادتی محسوس نہیں ہوئی۔ سندھ مسلم اکثریتی صوبہ ہے، جہاں اندرون سندھ کے بعض اضلاع میں ہندو آبادی رہتی ہے۔ ایک عرصے سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے، بعض این جی اوز اسے اٹھانے میں پیش پیش رہتی تھیں کہ نابالغ ہندوئوں کو ڈرا دھمکا کر زبردستی مسلمان کیا جا رہا ہے۔ یہ الزام غلط ہی ہوگا، لیکن اگر اتمام حجت کے لئے مذہب بدلنے کے لئے اٹھارہ برس کی عمر کی پابندی عائد کر دی گئی ہے تو اس سے کیا نقصان ہوگا؟ کتنے لوگ اس سے متاثر ہوں گے؟ پندرہ ، سولہ یا سترہ برس کے کتنے لڑکے یا لڑکیاں ہیں جو اسلام قبول کرنا چاہ رہی ہیں اور اس پابندی سے ان کے لیے مسئلہ پیدا ہوجائے گا؟ اٹھارہ برس کے بعد تو کوئی پابندی نہیں اور پھر اس قانون کا مطلب یہ ہوا کہ ریاست اٹھارہ برس کے بعد تبدیلی مذہب کو پروٹیکشن دے رہی ہے۔ اس سے وہ تمام باطل پروپیگنڈہ دم توڑ جائے گا، جس کے مطابق نابالغ ہندو بچوں کو مسلمان بنایا جا رہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں قانونی طور پر بالغ اٹھارہ برس کی عمر میں ہوتا ہے، شناختی کارڈ سے بینک اکائونٹ اور ڈومی سائل سے ووٹ ڈالنے تک تمام کام اسی عمر میں ہوتے ہیں، اگر اٹھارہ برس کی عمر میں تبدیلی مذہب کا قانون بھی اس تناظر میں غلط نہی ۔ رب تعالیٰ نے ہمیں پاکستان کی شکل میں مسلمان اکثریتی ملک دیا ہے تو ہمیں اس اکثریت میں ہونے، طاقت میں ہونے کا کچھ بھرم بھی رکھنا چاہیے، ایسے اقدامات علامتی نوعیت کے ہوتے ہیں، مگر ملک کے اندر اقلیتیوں اور بیرون ملک غیر مسلم دنیا کے لئے اس سے اسلام اور مسلمانوں کا مثبت امیج پیدا ہوتا ہے۔\r\n\r\n سکول کے زمانے میں ہمارے ایک اسلامیات کے استاد کہا کرتے، مومن وہ ہے جو عدل کو اپنا شعار بنائے، یاد رکھو کہ کسی کی دشمنی تمہیں عدل اور انصاف سے دور نہ کر سکے کہ یہی رب تعالیٰ کا حکم ہے۔ \r\n

Comments

FB Login Required

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے سابق مدیر رہ چکے ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

Protected by WP Anti Spam