ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اور خارجہ پالیسی – ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

خارجہ پالیسی سے منسلک دنیا بھی اک عجیب شے ہے۔ بسا اوقات کامیابی کا اثر (تاثر نہیں) دوچند کرنے کے لیے اسے تنقید کے غلاف میں لپیٹنا ضروری ہو جاتا ہے۔\r\n\r\nان دنوں ”ہارٹ آف ایشیا کانفرنس“ میں پاکستان کی شمولیت کے حوالہ سے ہمارے ہاں سوشل ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں جاری مباحث اور تنقید کچھ ایسا ہی معاملہ نظر آتا ہے۔ بعض اسٹیٹس اور بیانات دیکھ کر تو باقاعدہ یہ گمان ہوتا ہے گویا خود حکومت یا اس کے اداروں کی جانب سے یہ اسپانسرڈ ہیں کہ ۔۔۔ آنچ ٹھنڈی نہ پڑ جائے۔\r\n\r\nاس کانفرنس میں پاکستانی مندوبین کے ساتھ ناروا سلوک کے ضمن میں جذبات اور ان میں شامل اخلاص کی قدر کرتے ہوئے صرف ایک جانب توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ بالعموم یہ کہا جا رہا ہے کہ یا تو پاکستان سے اندازے کی غلطی ہو رہی ہے یا پھر یہ کسی “نیازمندی” کا نتیجہ ہے کہ بھارت کے ہاتھوں پاکستانی وفد کو سبکی کا سامنا ہؤا ۔\r\nیہ نکتہ مزید تجزیہ کا محتاج ہے۔\r\n\r\nبھارت میں جو کچھ ہؤا اس کا پاکستان کو پہلے سے بہت خوب اور بالکل ٹھیک تھیک اندازہ تھا۔ جو لوگ دفتر خارجہ کی کرسیوں پر بیٹھے ہیں وہ صبح شام یہی سب دیکھتے اور کرتے ہیں۔\r\n\r\nاس طرح کے معاندانہ رویہ کے باوجود جب آپ کہیں جا پہنچتے ہیں تو اس کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں جو اس Posturing سے بلند ہوتے ہیں جسے ہم بے توقیری وغیرہ کے نام سے یاد کرتے ہیں :\r\n1۔ اس کانفرنس میں جا کر پاکستان نے خود اپنے لیے اور اپنے دوستوں کے لیے سفارتی سپیس حاصل کی اور سب کو باور کروایا کہ پاکستان تو امن کا خواہاں ہے اور خطے میں امن کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے خواہ اس کا مطلب سرحدی جھڑپوں کی فضا اور نہایت غیر دوستانہ ماحول میں کسی بیٹھک میں شامل ہونا ہو۔\r\n2۔ اس سے پاکستان کے ان “دوستوں” کی تسلی کروانا بھی مقصود ہوتا ہے جو اٹھتے بیٹھتے پاکستان کو اچھے چال چلن کی “نصیحت” کرتے رہتےہیں۔\r\n3۔ اس وقت پاکستنان کا اس کانفرنس میں شامل ہونا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ پاکستان، چین اور روس رواں ماہ ایک الگ میکانزم کے تحت افغان مسئلہ کے حوالہ سے باہمی غور و خوض کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کی یہ بھی کوشش رہی ہو گی کہ اس پر سولو فلائٹ یا پارٹی بازی کا الزام نہ لگ سکے ، نالخصوص بھارت اور اس کے حلقئہ اثر کی جانب سے۔\r\n\r\nاس تناظر میں آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں جاری تنقید سے حکومت کو کس قدر فائدہ ہو گا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی بے محل نہ ہو گا کہ وطن واپسی پر سرتاج عزیز صاحب کی ”غیرجارحانہ“ پریس کانفرنس اور افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کے مثبت انداز میں تذکرے سے بھی بھارت کو خاطر خواہ مایوسی ہوئی ہوگی۔\r\n\r\nاب گزرتے گزرتے چند باتیں اور ۔\r\nپاکستان کی سفارتی تنہائی پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئی ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کوئی بنگلہ دیش، نیپال یا بھوٹان وغیرہ نہیں جسے دنیا بھارت کی معرفت جانتی ہو۔ پاکستان خطہ کا ایک اہم ملک ہے اور دنیا میں اس کے تعلقات براہ راست اور اس کی اپنی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ وہ مسلم دنیا ہو، چین، روس اور امریکہ ہوں یا پھر اقوام متحدہ کے دیگر ممالک۔ پاکستان نے عالمی معاملات میں ہمیشہ ایک مثبت کردار ادا کیا ہے اور شمالی کوریا کی طرح کوئی انتہائی پوزیشن لے کر نہیں بیتھ رہا جو اسے نشانہ بنایا جا سکے یا تنہائی کا شکار کر دیا جائے۔\r\n\r\nاس وقت بھی افغان مسئلہ کے حل کے لیے پاکستان اور امریکہ میں اعلی سطحی رابطہ نہ صرف قائم بلکہ پوری طرح فعال ہے۔ امریکہ پاکستان کو الگ تھلگ نہیں کرنا چاہتا۔ و اس کے ساتھ پارٹنر شپ کا خواہاں ہے۔ ان حالات میں بھی امریکی کانگریس سے پاکستان کے لیے 90 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری اس بات کا اشارہ کہی جا سکتی ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کا معاملہ پاکستان چین کے سپرد کرنا چاہتا ہے ۔ جبکہ امریکہ اس میں پاکستان کو شامل رکھنا چاہتا ہے ۔ اس کے لئے وہ ترغیب اور ترہیب دونوں کا استعمال کر رہا ہے۔ اشرف غنی سے 50 کروڑ ڈالر والی بات لازم نہیں کہ مودی صاحب نے کروائی ہو ۔۔۔۔ اس کا محرک امریکہ بھی ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ جس میکانزم سے یہ رقم ارینج ہونا ہے وہ بھی امریکی آشیرباد سے ہی بروئے کار آیا کرتا ہے۔ اس وقت بھی قائم مقام امریکی نمائندہ لارا ملر اسلام آباد کے دورہ پر ہیں اور مبینہ طور افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ جہاں تک امریکہ کا پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے متعلق مطالبہ ہے ، اسے بھی اس امریکی پریشر کا حصہ ہی سمجھنا چاہیے جو وہ پاکستان پر افغان مذاکرات کے حوالہ سے ڈال رہا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے پاکستان میں ہونے کے کے امکانات کس قدر ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ آپ پاکستان میں ڈرون حملوں کی تعداد سے لگا لیں۔ پچھلا حملہ کب ہوا؟ اور کس پر ہوا ؟ یاد کیجیے۔ بہت کچھ سمجھ میں آجائے گا۔\r\n\r\nآخری بات ڈونلد ٹرمپ صاحب کے ساتھ پاکستانی وزیراعظم کی گفتگو۔\r\nامریکہ کے آئندہ نائب صدر جناب مائک پینس کے کشمیر کے حل اور اس میں ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کے ممکنہ کردار پر مبنی بیان نے کم از کم یہ تو واضح کر دیا کہ نہ تو ٹرمپ صاحب مدہوش تھے اور نہ میاں صاحب کی انگریزی اتنی کمزور ہے۔ سوال یہ پیدا ہونا چاہیے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ ممکنہ طور اس پیشرفت کا تعلق ٹرمپ صاحب کے ان انتخابی وعدوں سے ہے جس میں وہ امریکی ملازمتیں واپس امریکہ لانے کا بار بار کہتے رہے۔ امریکہ میں آئی ٹی کا بہت سا کام بھارت کو آؤٹ سورس ہوتا ہے اور ان کے کسی بھی ایسے فیصلے سے بھارت متاثر ہو گا جس میں آؤٹ سورسنگ پر قدغن لگائی گئی ہو۔ دوسری جانب بھارت امریکہ کا ایک اہم اسٹریٹیجک پارٹنر ہے ۔ اسے ناراض نہیں کیا جا سکتا۔ شاید اس لیے وہ پاکستان سے دعا سلام کا تاثر دے رہے ہیں کہ بھارت اس موت کے بجائے معاشی دھچکہ کے بخار پر بخوشی راضی ہو جائے۔ بہت ممکن ہے یہ نہایت عارضی فیز ہو ۔۔۔۔ لیکن پاکستان نے اسی کو ایک امکان سمجھتے ہوئے جھٹ سے اپنا نمائندہ امریکہ ارسال کر دیا ۔ دیکھیے اب اس سے کیا برآمد ہوتا ہے۔\r\n\r\nپاکستان کوئی جرمنی ، روس یا چین نہیں ہے ۔ ہماری خارجہ پالیسی بھی اس لیول کی نہیں ہو سکتی۔ بہرحال جو بھی ہے اور جو لوگ دفتر خارجہ بیٹھے ہیں وہ ایسے نہیں کہ ہم ہر روز سینہ کوبی کو ہی وطیرہ بنا لیں۔\r\nتاہم اس سب کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس وقت ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شمولیت کے حوالہ سے تنقید کا سلسلہ بند کر دیا جائے۔ اس وقت یہی نیشنل انٹرسٹ ہے! :)\r\n

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

Protected by WP Anti Spam