خاموشی کا محاصرہ، دنیا کے نام کھلا خط – رضوان اسد خان

پیارے دنیادارو!\r\n\r\nیہ خط ہے محصورین کی جانب سے، جن میں دس لاکھ سے زیادہ شامی عوام شامل ہیں، جنہیں اسوقت فاقوں سے مارا جا رہا ہے. یہ محاصرہ کوئی نیا نہیں، یہ کئی سالوں سے جاری ہے. دنیا بھوک کے ہاتھوں جان دیتے بچوں کے لیے محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے؛ یہ انکے لیے روزانہ کا ایک ایسا معمول بن گیا ہے جس کے خلاف کوئی ہمدردی یا ردعمل اب ضروری نہیں سمجھا جاتا. محض ایک عام سی جدید طرز کی جنگ میں ایک عام سا جدید طرز کا محاصرہ جس کا لقمہ 5 لاکھ سے زائد لوگ بن چکے ہیں. یہ خط آپ لوگوں کی ہمدردی بٹورنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کی ذمہ داری کا اعلامیہ ہے؛ آپ کے نام، ان لوگوں کے نام جو محاصرے سے باہر کی دنیا میں بیٹھے ہیں اور اس محاصرے کو توڑنے کےلیے آپ کی عدم کوشش کے نام. \r\n\r\nمحصور ہونا دوسرے الفاظ میں دراصل اپنی بقا کے حق سے محروم کر دیا جانا ہے؛ اپنے محبوب لوگوں کی کفالت کی صلاحیت سے عاری کر دیا جانا. محصور ہونا درحقیقت اپنے ہی شہر، اپنے ہی محلے میں قید کر دیا جانا ہے. آپ کا اپنا گھر ہی وہ کوٹھری بن جاتا ہے جہاں آپ تشدد کا شکار ہوتے ہیں، جہاں آپ کو اپنے ہی بچوں کو بھوک سے بلکتے، موت کی آغوش میں جاتے دیکھنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے. یہ عوامی بھوک اس آمر کا ہتھیار ہے جو لوگوں کو اپنی مرضی کے آگے گھٹنوں کے بل جھکانا چاہتا ہے. آپ گھاس پھونس، درختوں کے پتے، حتی کہ اپنے پالتو جانوروں کو کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں. آپکے بچے وافر خوراک اور چاکلیٹس کی کہانیاں ایسے سنتے ہیں گویا کہ وہ کوئی دیو مالائی داستان ہو، جسکا آپ صرف تصور کر سکتے ہیں پر جو کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتی. \r\n\r\nمحصور ہونا محض خوراک سے محرومی کا نام نہیں، یہ ادویات، وسائل، خدمات، تعلیم اور حتی کہ آپکی مرضی پر بھی پابندی کا نام ہے. آپ کے پاس سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جانے کا اختیار بھی نہیں بچتا کہ کسی جگہ پناہ گزین کی حیثیت سے ہی رہ لیں. آپ ایک ایسی صورتحال میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں جس میں آپ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہتے. محصور ہونا ایک خطرناک، مہلک اور مایوس کن صورتحال میں بے یارو مددگار چھوڑ دیا جانا ہے. جن علاقوں کا محاصرہ کیا جاتا ہے وہاں اوپر سے بیرل بموں کی بارش کر دی جاتی ہے جس میں عام شہریوں کو قصداً نشانہ بنایا جاتا ہے. \r\n\r\nیعنی قصہ مختصر یہ کہ آپ نہ صرف قید، بھوکے، کمزور، اپنے دفاع سے قاصر، بے یار و مددگار پڑے ہیں، بلکہ آپ کے سر پر تنا آسمان اوپر سے آپ پر آتش و آہن کی بارش برسا رہا ہے اور آپ کے لیے چھپنے کی کوئی جائے پناہ نہیں. اور مزید یہ کہ محاصرے کا مطلب ہے امکانات کا فقدان؛ آپ مستقبل کے بارے میں سوچنے، خواب دیکھنے اور امید کے دیے جلانے جیسی “عیاشیوں” کے متحمل نہیں رہتے. وہ واحد فکر جو آپکے دامن گیر رہتی ہے وہ ہے آپکی بقا، کہ کیسے آپ نے اگلے دن تک زندہ رہنا ہے. \r\n\r\nعزیز دنیادارو! آپ کو یہ بتانا کہ محاصرہ کیا ہوتا ہے؟ بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو اس کا کوئی اندازہ نہیں. کسی ایک محصور علاقے میں امداد کا ایک جہاز بھیجنا کوئی معنی نہیں رکھتا. آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ شام میں 15 سے زیادہ علاقے محاصرے کی زد میں ہیں، جہاں لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں. آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ ایک امدادی جہاز ایک علاقے کے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کی ضروریات پوری کرتا ہے. اور اس ایک ماہ کے بعد بھوک کا یہ منحوس دائرہ پھر سے شروع ہو جاتا ہے.\r\n\r\nآپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس امدادی سامان کو اسدی حکومت کے ناکوں سے گزر کر پہنچنا ہوتا ہے، جو اسے جان بچانے والی ادویہ سے محروم کر کے آگے بھیجتے ہیں. تو پھر ایک غیر نفع بخش کام کو کیوں مسلسل جاری رکھا جائے؟ کیا آپ کے خیال میں ہم احمق ہیں؟ یا شاید آپ کا خیال یہ ہے کہ ہم زیادہ عرصے تک کوئی مسئلہ نہیں رہیں گے؟ جوں جوں ہماری بقا کے امکانات معدوم ہوتے چلے جا رہے ہیں، توں توں وہ ایک تنہا امدادی رسد محض میڈیا کے طوفان کے آگے بند باندھنے کی ایک بھونڈی کوشش سے زیادہ کچھ محسوس نہیں ہوتی جس کا مقصد غالباً محصور شامی عوام کی مدد سرے سے ہوتا ہی نہیں. \r\n\r\nاگر آپ مدد کرنے کے قابل نہیں رہے تو کم از کم اس کی اہمیت سے لاپرواہ تو نہ ہوں. جب ہم اپنے بمشکل سانس لیتے، ڈھانچہ بنے جاں بلب بچوں کی ویڈیوز بنا رہے ہوتے ہیں تو اس کا مقصد کوئی بڑی خبر بریک کرنا یا محض دیکھے جانے کی خواہش نہیں ہوتی. ہمارے پاس اور کوئی راستہ ہی نہیں. ہم تو محض دنیا کو متوجہ کر کے، جھنجھوڑ کے، امداد کے طالب ہوتے ہیں، خواہ وہ کتنی بھی ہو اور کسی بھی قسم کی ہو. لہٰذا جب ہم دیکھتے ہیں کہ بین الاقوامی امدادی تنظیمیں ہمارے مرتے ہوئے بچوں کی فوٹیج کو محاصرے کے خاتمے کی اپنی نیم دلانہ کارروائیوں کی تشہیر کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور اسی شام وہ اسدی حکومت کی گود میں بیٹھی دمشق سے موصول ہونے والی رپورٹس کو اسدی بیانیے سے مطابقت دیتی نظر آتی ہیں تو ہم اسے ”فاقوں کا استحصال“ کے سوا اور کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں، فاقوں کا شرمناک استحصال.\r\n\r\nاس سب پر مستزاد یہ کہ ہمیں محض محاصرے میں لاوارث ہی نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ ہمارے بیانیے کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے. ہماری آواز کی چوری اور اسے مسخ کرنے کا عمل جاری ہے. گھاگ قسم کے، جوڑ توڑ کے ماہر سیاسی گماشتے ہمارے فاقہ زدہ بچوں کو محض ایک سیاسی مہرے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں. وہ محاصرے کے مسئلے کو بین الاقوامی استعماری کھیل میں پھنسا ایک ایسا قابل بحث ایشو بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں جس پر ”بھاؤ تاؤ“ کا امکان پیدا کیا جا سکے. لیکن مسئلہ حقیقت میں تو نہایت سیدھا سادہ ہے:\r\nکسی بھی انسانی ہاتھوں کے جنم دیے گئے مصنوعی قحط کو لاکھوں انسان تو درکنار، کسی ایک بچے کی جان لینے کی بھی اجازت نہیں دی جا سکتی. \r\n\r\nیہ ایک ایسا عالمی نظام ہے جو کروڑوں لوگوں کو اپنے غاصب حکمرانوں سے مذاکرات پر مجبور کرتا ہے، جواب میں کسی بھی قسم کے تحفظ کی ضمانت کے بغیر. آپ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایک ماں جس کا بچہ بھوک سے مر رہا ہو، کسی بھی قسم کے امن مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی. ایک ایسی آبادی جو کہ محاصرے میں قید، بیرل بموں کا نشانہ بن رہی ہے، اور ج سکے جوان عقوبت خانوں میں مارے جا رہے ہیں، وہ ہرگز مذاکرات پر خوشدلی سے رضامند نہ ہوگی. شہریوں کو تحفظ دیے بغیر مذاکرات کی آڑ لینا جارح کو قتل عام کا مزید موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے. یہ کھلی اجازت ہے کہ وہ شامی عوام کے محاصرے جاری رکھے اور انہیں زندانوں میں حبس بے جا میں رکھ کر سزائیں دے جبکہ دنیا کے سامنے امن کی کوششوں کا ڈھونگ رچاتا پھرے. \r\n\r\nعزیز دنیادارو! ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ ہماری آواز بنیں. خدارا ہمیں اپنی (مجرمانہ) خاموشی میں تو محصور نہ کریں. ہمیں یقین ہے کہ انسانیت کا رشتہ ہمیں پار لگا سکتا ہے. دنیا کی مائیں ہماری روتی بلکتی ماؤں کی آواز سن سکتی ہیں. بھوک اور فاقہ زدگی کو جنگی ہتھیار بننے سے روکیں، ہمارے نجات دہندہ اور شہریوں کے محافظ بنیں. شام میں محاصروں کو توڑنے کے لیے آج ہی اپنے حصے کا کام کریں.\r\n\r\n

Comments

FB Login Required

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

Protected by WP Anti Spam