ڈاکٹر عبد السلام صاحب کا مسئلہ کیوں مختلف ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ہمارے کئی دوستوں نے ڈاکٹر عبد السلام صاحب کے مسئلے کو اقلیتوں کے حقوق کا مسئلہ بنادیا ہے حالانکہ میرے نزدیک ان کا کیس sui generis ہے۔ ان کا مسئلہ دیگر اقلیتوں سے، بلکہ دیگر احمدیوں سے بھی یکسر مختلف ہے۔\r\n عاصم بخشی بھائی نے میری ایک فیس بک پوسٹ پر تفصیلی کمنٹ کیا۔ مجھے یقین تھا کہ اس پوسٹ پر سب سے تفصیلی کمنٹ انھی کا ہوگا لیکن میرا حسنِ ظن یہ تھا کہ جواب نسبتاً مضبوط بنیادوں پر قائم ہوگا اور واقعتاً مجھے کچھ آگاہی مل جائے گی۔ مجھے افسوس ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ انھوں نے ابن سینا، الخوارزمی اور ابن خلدون کے نام سے موسوم ڈیپارٹمنٹٹس یا سڑکوں کی مثالیں دیں جو قطعاً غیر متعلق ہیں کیونکہ وہ صدیوں پرانے لوگ ہیں خواہ ان کےعقائد یا تصورات کے بعض پہلوؤں پر تنقید بھی کی گئی ہو لیکن ان کا معاملہ احمدیوں کے معاملے سے مختلف ہے۔ \r\nبلکہ جسٹس کارنیلیئس یا بھگوان داس یا دیال سنگھ کی مثالیں بھی اگر دی جائیں تو غیر متعلق ہوں گی کیونکہ دیگر اقلیتوں کا معاملہ احمدیوں سے مختلف ہے۔ \r\nبلکہ دیگر احمدیوں کی مثال بھی غیر متعلق ہوگی کیونکہ عبد السلام صاحب اور دیگر احمدیوں میں اس لحاظ سے فرق ہے کہ یہ ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اس کے بعد بہت کچھ کیا ہے، یا کم از کم ان پر بہت کچھ کرنے کا الزام ہے۔ \r\nعام احمدی کی حب الوطنی پر مجھے کوئی شبہ نہیں ہوگا لیکن عبد السلام صاحب کے متعلق میں ضرور کچھ آگاہی چاہوں گا۔ اس لیے اسے خواہ مخواہ اقلیتوں کے حقوق کا مسئلہ بنانا مناسب نہیں ہے۔ \r\nاسی طرح یہ بھی کافی نہیں ہے کہ وہ فزکس کے استاد تھے، یا ریاضی میں ان کا یہ یا وہ کارنامہ ہے۔ بلکہ یہ بھی کافی نہیں ہے کہ فلاں زمانے میں انھوں نے یہ یا وہ کارنامہ سرانجام دیا تھا کیونکہ جب احمدیوں کو پارلیمنٹ نے دستوری ترمیم کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا تو اس کے بعد کے عبد السلام اور اس سے پہلے کے عبد السلام میں فرق واقع ہوا اور یہ فرق کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ \r\n”غداری“ کا الزام تو باچاخان ، عبد الولی خان اور فقیر ایپی پر بھی لگا۔ باچا خان کے نام پر پشاور ایئرپورٹ اور مردان میں میڈیکل کالج ، عبد الولی خان کے نام پر مردان میں یونیورسٹی اور فقیر ایپی کے نام پر اسلام آباد میں (سب سے زیادہ کھڈوں والی) سڑک ہے۔ ان پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا لیکن عبد السلام کا نام کسی ڈیپارٹمنٹ کو دیا جائے تو اعتراض ہوگا اور اس اعتراض کو محض تنگ نظری اور ملائیت کے کرشمے قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لازماً دیکھنا پڑے گا کہ کیا چیز ہے جس نے احمدیوں کے مسئلے کو دیگر مسائل سے اور عبد السلام کے مسئلے کو دیگر نام نہاد ”غداروں“ سے الگ کردیا ہے۔ اس حساسیت کو سمجھنے کی، نہ کہ اس کا مضحکہ اڑانے کی، ضرورت ہے ۔\r\nیہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کسی ”بےنام“ ڈیپارٹمنٹ کو ان کے نام کرنے کے بجائے کسی اور کے نام سے منسوب ڈیپارٹمنٹ کو کیوں ان کے نام کردیا گیا؟ جن کا نام ہٹایا گیا، ان کا کیا قصور تھا؟ لائل پور سے فیصل آباد تک کے سفر پر جن کو اعتراض ہوتا ہے ان کو یہاں کیوں اعتراض نہیں ہے؟ \r\nباتیں اور بھی ہیں لیکن یار زندہ صحبت باقی!\r\n

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam