جیل میرے اخوانیوں کا دوسرا گھر – زبیر منصوری

ان میں سے کتنے ہیں جن کے بچے ان کو سلاخوں کے پیچھے ملنے آتے اور دیکھتے جوان ہو گئے.\r\nبے شک لب پر ڈالو تالے طوق و سلاسل پہناؤ،\r\nفکر کو کیسے قید کرو گے تم اپنی زنجیروں میں\r\nمجھے آج بھی اپنی ماں جیسی محترم زینب الغزالی یاد ہے جس پر قید خانے میں کتے چھوڑ دیے گئے، قید خانے کو اذیت خانہ بنا دیا گیا مگر زینب الغزالی کسی پہاڑ کی طرح اپنے لفظوں پر قائم رہیں.\r\nسیسی اور اس کے سلفی دینداروں اور اسرائیل نواز بےدینوں سمیت سارے اتحادی شاید میرے سید قطب اور محمد قطب کی عزیمت کے راستوں کو بھول گئے، یہ میرے حسن البناء کو بھی بھول گئے\r\nمگر میرا پیارا مرسی \r\nمیرے محترم مرشد عام بدیع تو آج بھی تمہاری قید میں ہیں ناں،\r\nذرا سوچو تو تم ان کے آہنی جذبوں کو کیسے شکست دے سکو گے، یہ لوگ پانچ پانچ ہزار کی تعداد میں ایک دن اور ایک ہی مقام پر شہید کر دیے گئے، ان کے گھر جلا دیے گئے اور جوان بیٹے ان کے ہاتھوں میں دم توڑ گئے مگر ان کے جذبوں میں کسی نے ہلکی سی بھی لرزش محسوس کی؟\r\nیہ چٹانوں جیسے لوگ ایسے کیوں ہیں؟\r\nاسلامی تحریکوں کے کارکنان نے کبھی سوچا؟ \r\nصرف ایک چیز کی برکت سے\r\nصرف ایک چیز کے ساتھ تعلق کے سبب\r\nصرف ایک محبت کی وجہ سے\r\nصرف ایک چیز کے سہارے\r\nاور وہ ہے\r\nقرآن عظیم الشان \r\nیہ عجیب آہنی لوگ \r\nایک رمضان \r\nملیون قران \r\nکا ہدف بناتے ہیں اور اسے پورا کر جاتے ہیں\r\nسخت پابندیوں کے دنوں میں ان کے ایم بی ایز اور انجینئرز نے مسجدوں کو مرکز بنا کر بچوں کو قرآن سکھانا شروع کر دیا اور کچھ ایسی مٹھاس، نرمی اور شفقت سے کہ ہزاروں بچوں کو تحریک کے سرگرم کارکن بنا ڈالا.\r\nاس روز عزیز بھائی عبدالغفار بتا رہے تھے اور ان کی آنکھوں میں چمک تھی، یہ چمک نہ جانے آنسوؤں کی نمی سے تھی، یا پھر یقین کی، مگر وہ مجھے روتے ہوئے بچوں کی ایک تصویر دکھا کر کہہ رہے تھے،\r\nزبیر بھائی! یہ بچے معلوم ہے کیوں اس لاش کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں؟یہ نوجوان ان کا باپ نہیں، کوئی رشتہ دار نہیں، یہ ایم بی اے پاس نوجوان ان کو مسجد میں قرآن پڑھاتا تھا اور اس طرح پڑھاتا تھا کہ آج یہ سیسی کی فوج کے ہاتھوں اس کی شہادت پر آنسو بہا رہے ہیں۔\r\nمیرے اخوان! تم نے قرآن کا راستہ اختیار کیا، اس پر ایمان لائے، اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، آج تمام تر مصیبتوں کے باوجود پرسکون ہو، تمہارے چہرے ہشاش بشاش ہیں، تم سلاخوں کے پیچھے بھی مسکراتے ہو، تمہیں کسی عارضی وقتی ظاہری تسلی کی ضرورت نہیں، تمہارے لوگ لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر ہیں، تمہارے قیدیوں کے بچوں کو باہر والوں نے باپ کی کمی اور مان سے محرومی کا احساس نہیں ہونے دیا۔\r\nہمارے لیے دعا کرنا کہ ہمارا رب ہمیں کمزور جان کر آزمائش سے محفوظ رکھے\r\nہمیں امید نہیں اپنی ذات پر یقین سے نوازے.\r\nقرآن کو ہماری محبتوں کا مرکز بنا دے.\r\nہمارے دل اس کے ساتھ دھڑکنےلگیں.\r\nاگر آزمائش ضروری ہی ہے تو پھر ہمیں سکون قلب اور حوصلہ سے اس کے سامنے کھڑا ہونے کی توفیق دے دے اور سرخرو کر دے۔ آمین

زبیر منصوری

زبیر منصوری جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید و محبت بانٹنا، اورخواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam