”قادیانی“ آرمی چیف اور لبرلزم کا پائے چوبیں - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

محمد مشتاق آج فیس بک پر مسلسل کئی پوسٹس نظر سے گزریں جن میں متوقع آرمی چیف کے قادیانی ہونے یا نہ ہونے پر بحث کی گئی ہے۔ کئی دوستوں نے اس ضمن میں میری رائے پوچھی ہے۔ کسی کے بارے میں بغیر تحقیق کے یہ مشہور کر دینا کہ وہ قادیانی ہے نہایت غلط بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی رہنمائی کرے جنھوں نے بغیر تحقیق کے ایسی باتیں پھیلانے میں حصہ ڈالا ہے۔ بہرحال اب چونکہ یہ بحث شروع ہوگئی ہے تو یہ بتانا ضروری ہوگیا ہے کہ کیوں آرمی چیف کا مسلمان ہونا ضروری ہے؟\r\n\r\nپہلے ایک ”نولبرل“ دوست کی موشگافیوں پر مختصر تبصرہ پیشِ خدمت ہے۔ ان نولبرل دوست کی وال تک میری رسائی نہیں ہے۔ ایک اور دوست نے ان کے ارشادات مجھے بھیجے اور ان پر تبصرے کے لیے کہا۔ چنانچہ یہ چند سطور لکھ رہا ہوں:\r\nفرماتے ہیں:\r\n”پاکستانی ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کا کسی بھی گھرانے میں پیدا ہونا پاکستانیت کی کسی بھی درجے میں نفی نہیں کرتا۔“\r\nعرض ہے:\r\nتو جو ہزاروں افغانی پاکستان میں پیدا ہوئے، وہ کیوں پاکستانی نہیں ہوئے؟ گویا محض پاکستان میں پیدا ہونا پاکستانی ہونے کےلیے کافی نہیں ہے۔\r\nمزید فرماتے ہیں:\r\n”کوئی بھی شہری کسی بھی گھرانے میں پیدا ہونے سے پہلے استخارہ نہیں کرتا۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا میرا کمال نہیں اور احمدی گھرانے میں پیدا ہونا کسی کا قصور نہیں۔“\r\nعرض ہے:\r\nاستخارے والی بات محض زیب داستاں کےلیے اضافہ کی گئی ہے۔ اسے نظرانداز کیجیے۔ اگلی بات پر غور کریں۔ پیدائش کوئی کمال یا قصور نہیں لیکن بلوغت کے بعد مسلمان رہنا یا احمدی رہنا کمال یا قصور ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی بھی دوسرا اچھا کام کمال اور کوئی بھی دوسرا برا کام قصور ہوتا ہے۔ اسلام یا کفر کا انتخاب یا اس پر بقائمی ہوش و حواس باقی رہنا بہرحال کمال یا قصور ہے۔ کمال یا قصور کے کچھ معیارات پر خود لبرلز بھی یقین رکھتے ہیں ورنہ یہ حضرت یہ تنقید کیوں کرتے؟\r\nآگے فرماتے ہیں:\r\n”کسی بھی فرد کا بطور شہری کسی بھی منصب پر بیٹھ کر ملک کی خدمت کرنا، اس کا پیدائشی حق ہے۔“\r\nجواباً عرض ہے:\r\nکسی بھی منصب پر فائز ہو کر ملک کی خدمت کرنے کےلیے محض شہری ہونا کافی نہیں ہے ورنہ کیا فرنود عالم کو اسی طرح چیف جسٹس بننے کا حق ملنا چاہیے جیسے انور ظہیر جمالی کو ہے؟ عمر و تعلیم اور دیگر کورسز کی شرط رکھی جاسکتی ہے اور انٹیلی جنس ایجنسیز سے کلیئرنس رپورٹ درکار ہوتی ہے تو مذہب کی شرط کیوں نہیں رکھی جاسکتی؟ اور مذہب کی یہ شرط صدر سمیت کئی عہدوں کےلیے دستور اور قانون نے پہلے ہی رکھی ہوئی ہے۔ جب تک وہ دستوری اور قانونی شقیں ختم نہیں کی جاتیں، یہ باتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ مزید یہ کہ منصب پر فائز ہوکر خدمت کرنا حق نہیں ذمہ داری ہے۔ پیدائشی حق تو بہت دور کی بات ہے۔ دستور میں بنیادی حقوق کی فہرست میں دیکھیے۔ کہاں لکھا ہے کہ صدر یا آرمی چیف بننا ہر شہری کا بنیادی حق ہے؟ پھرجو بنیادی حقوق اس فہرست میں دیے گئے ہیں ان پر بھی قانوناً کتنے قدغن عائد کیے جاسکتے ہیں اور عائد کیے گئے ہیں؟\r\nمزید فرماتے ہیں:\r\n”کسی بھی منصب پر آنے والے شہری کی اہلیت اور میرٹ پر سوال اٹھانے کا ہر شہری کو حق ہے، کلمہ سننے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ چار قل اور چھ کلمے یاد ہونا ایمانداری اور حب الوطنی کی ضمانت نہیں ہو سکتا۔“\r\nعرض ہے:\r\nجب مان لیا کہ اہلیت اور میرٹ پر سوال اٹھانے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے تو آدھا کیس تو خود ہی مان لیا۔ باقی آدھے پر اس طرح غور کیجیے کہ اہلیت اور میرٹ کا فیصلہ کرنے کےلیے معیار کیا ہے؟ لبرلزم کے توہمات یا اسلامی قانون کے اصول؟\r\n\r\nآرمی چیف کا مسلمان ہونا کیوں ضروری ہے؟\r\n\r\nاب جب بات یہاں تک آگئی ہے کہ محض ”پاکستان میں پیدائش“ کافی نہیں ہے، نہ ہی محض ”پاکستانی شہری ہونا“ کافی ہے ، بلکہ ”اہلیت“ کا کوئی مزید معیار بھی ہوسکتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اہلیت کا یہ معیار کس قانون کی رو سے طے ہوگا؟\r\n\r\nدستورِ پاکستان کی پہلی دفعہ اس ملک کو ”اسلامی جمہوریہ“ قرار دیتی ہے۔ اس دستور کی دوسری دفعہ اسلام کو اس ملک کا ”ریاستی مذہب“ قرار دیتی ہے۔ پھر دفعہ 2 – الف اعلان کرتی ہے کہ قراردادِ مقاصد دستور نافذ العمل حصہ ہے۔ قراردادِ مقاصد نہ صرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلی کا اعلان کرتی ہے بلکہ یہ بھی صراحت کرتی ہے کہ اہلِ پاکستان تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کی مقررکردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کریں گے۔ دفعہ 8 کا یہ کہنا ہے کہ جو قوانین دستور میں مذکور بنیادی حقوق سے متصادم ہوں وہ تصادم کی حد تک کالعدم ہوں گے۔ تاہم آگے تقریباً ہر بنیادی حق کے متعلق اعلان کیا گیا ہے کہ یہ لامحدود نہیں بلکہ ”قانون، امن عامہ اور اخلاقیات“ (subject to law, public order and morality) کی حدود میں مقید ہے۔ یہاں قانون سے مراد صرف ریاستی قانون نہیں بلکہ اسلامی قانون بھی ہے۔ چنانچہ کسی بھی حق پر اسلامی قانون کی قیود بہرحال موجود ہیں۔\r\nآگے دیکھیے کہ دستور میں ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں کے ضمن میں دفعہ 31 میں تصریح کی گئی ہے کہ ریاست اپنے مسلمان شہریوں کو اسلام کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کرے گی۔ پھر دفعہ 41 میں قرار دیا گیا ہے کہ صدر کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ دفعہ 91 میں یہی تصریح وزیرِاعظم کے متعلق کی گئی ہے۔ دونوں کے حلف نامے میں یہ بات شامل کی گئی ہے کہ ”وہ نظریۂ پاکستان کے تحفظ کے لیے کوشش کریں گے جو کہ پاکستان کے تخلیق کی بنیاد ہے۔“ ان دونوں کے حلف ناموں میں توحید اور ختم نبوت پر ایمان کا اقرار بھی ہے۔\r\n\r\nدفعہ 227 کے تحت اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جائےگا جو قرآن و سنت میں مذکور احکامِ اسلام سے متصادم ہو اور یہ کہ موجودہ تمام قوانین کو ان احکام کے مطابق کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کو سفارشات دینے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل گئی ہے۔ پھر وفاقی شرعی عدالت بھی بنائی گئی ہے جس کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ احکامِ اسلام سے متصادم قوانین کو تصادم کی حد تک کالعدم قرار دے۔ وفاقی شرعی عدالت کے نہ صرف تمام ججز کا مسلمان ہونا لازمی ہے بلکہ اس عدالت میں ایک فریق یا دوسرے فریق کے حق مین دلائل دینے والے وکیلوں کا مسلمان ہونا بھی ضروری ہے۔ پھر جب اس عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے بنچ میں اپیل کی جاتی ہے تو اپیل کی سماعت کرنے والے تمام ججز کا مسلمان ہونا بھی ضروری ہے۔ دفعہ 260 میں مسلمان اور غیر مسلم کی تعریف بھی پیش کی گئی ہے جس کی رو سے احمدیوں کے دونوں گروہ غیر مسلم قرار پائے ہیں۔\r\n\r\nان دفعات اور دیگر کئی دفعات کی موجودگی کی وجہ سے سپریم کورٹ نے بارہا یہ فیصلہ سنایا ہے کہ پاکستان کا دستور ”اسلامی“ ہے، سیکولر نہیں اور یہ کہ یہ اسلامیت ایک عام دستوری ترمیم کے ذریعے بھی ختم نہیں کی جاسکتی بلکہ اس کے لیے نئی دستور سازی کی ضرورت ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ عوام کے سامنے باقاعدہ صراحت کے ساتھ یہ اعلان کیا جائے کہ ہم اسلامی دستور ختم کرکے سیکولر دستور لانا چاہتے ہیں؛ پھر اگر اس پروگرام اور منشور پر عوام نے اتنی اکثریت منتخب کروائی جو ایسی دستوری ترمیم کرسکے تو صرف اسی صورت میں ہی یہ اسلامیت ختم ہوسکتی ہے۔\r\n\r\nاسلامی قانون کے اصول اس ضمن میں یہ ہیں کہ اگر مسلمان کسی غیر مسلم حکومت کے تحت رہتے ہوں تو ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی غیرمسلم کی کمان کے تحت جنگ لڑیں، الا یہ کہ اپنے دین اور جان و مال کی حفاظت کے لیے ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہ ہو۔ اس استثنائی صورتحال کی مثال سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ اور ان بعض صحابہ کی زندگی سے ملتی ہے جب وہ حبشہ میں مقیم تھے اور حبشہ پر دشمن ملک نے حملہ کیا تو مسلمانوں کو یقین تھا کہ اگر دشمن کا غلبہ ہوا تو ان کی دینی آزادی باقی نہیں رہ سکے گی۔ چنانچہ وہ نجاشی کی فوج کی معیت میں دشمن کے خلاف لڑے اور فقہائے کرام اسے انفرادی حق دفاع کے تحت ذکر کرتے ہیں۔\r\n\r\nجہاں تک ایسے علاقے کا تعلق ہے جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو تو وہاں لازم ہے کہ ان کا سپہ سالار مسلمان ہو۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں: ایک یہ کہ اسلامی قانون کی رو سے جہاد ایک عبادت ہے جس کا مطالبہ صرف مسلمان سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ جیسے غیرمسلم سے نماز کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا ایسے ہی اس سے جہاد کا مطالبہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مزید یہ کہ اصلاً غیرمسلموں کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، البتہ چونکہ غیرمسلموں کو اپنی جان، مال اور دوسرے حقوق کے دفاع کا حق حاصل ہے، تو وہ اپنی مرضی سے مسلمانوں کے شانہ بشانہ جنگ میں شریک ہوسکتے ہیں اور اس بنا پر بہت سی رعایتوں اور انعام و اکرام کے بھی مستحق ہوجاتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلامی قانون کی رو سے غیرمسلم کو مسلمان کے اوپر قانونی اختیار (ولایہ) حاصل نہیں ہوتا۔ جب تک موجودہ دستور کی اسلامیت برقرار ہے، اسلامی قانون کا یہ اصول دستورِ پاکستان کی رو سے بھی لازم ہے۔\r\n\r\nواضح رہے کہ دستور کی رو سے مسلح افواج کے حلف میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ”اسلامی جمہوریۂ پاکستان“ کے دستور کا تحفظ کریں گے، جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ اس دستور کی اس کی اسلامیت سمیت حفاظت مسلح افواج کی ذمہ داری ہے۔ اس حلف کا آغاز ”بسم اللہ الرحمان الرحیم“ سے اور اختتام ”اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی کرے“ کے الفاظ پر ہوتا ہے۔\r\n\r\nہمارے لبرل دوست ہر معاملے میں ”عوام کے حقِ انتخاب“ کی بات کرتے ہیں۔ یہاں بھی یہی حقِ انتخاب فیصلہ کرچکا ہے اور جب تک یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہوتا خود ان لبرلز کے اصول کے مطابق اس اسلامی دستور کی کی پابندی ضروری ہے۔ ہمارے ان لبرلز دوستوں کے سامنے ہم یہاں روتھ شیلڈ خاندان کے اس چشم و چراغ کی مثال رکھیں گے جو یہودی ہونے کے باوجود لندن سٹی سے دارالعوام کا رکن منتخب ہوا تو اس نے حلف لینے سے انکار کیا کیونکہ حلف کے الفاظ میں ”ایک مسیحی کے سچے ایمان“ (the true faith of a Christian) کے الفاظ تھے۔ اس کی رکنیت ختم ہوئی۔ پھرالیکشن ہوئے اور وہ منتخب ہوا۔ پھر اس نے انکار کیا ۔ پھر یہ سلسلہ دہرایا گیا۔ یہاں تک کہ بالآخر برطانوی پارلیمنٹ نے قانون منظور کرکے اس حلف کے الفاظ تبدیل کرلیے اور پھر روتھ شیلڈ نے حلف اٹھالیا۔ یہی اصولی طریقہ ہمارے لبرلز کے سامنے کھلا ہے۔ عوام کے سامنے کھل کر اسلامی دفعات ختم کرنے کا منشور پیش کیجیے اور عوام اس کے باوجود آپ کو منتخب کرلیں تو پھر بے شک اسلامی دستور کو سیکولر دستور میں تبدیل کیجیے۔ جب تک موجودہ دستور برقرار ہے، عوام کا فیصلہ یہی ہے اور اس فیصلے کی پابندی آپ پر آپ کے اپنے اصول کی رو سے لازم ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں