چین کا تحریک انصاف کو ویزے سے دینے سے انکار – آصف محمود

آصف محمود روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق چین نے خیبر پختونخوا حکومت کے وزراء اور بیوروکریٹس کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے. بادی النظر میں اس اقدام کی وجہ تحریک انصاف کی حکومت کا سی پیک کے معاملے پر عدالت سے رجوع کرنا ہے. میرے نزدیک اگر یہ درست ہے تو اس معاملے کے دو پہلو ہیں اور دونوں انتہائی اہم ہیں. ایک کا تعلق تحریک انصاف سے ہے اور دوسرے کا تعلق چین سے. ایک پاکستانی کے طور پر میرے لیے دونوں پہلو تشویش ناک ہیں.\r\n\r\nپہلا پہلو تحریک انصاف کا رویہ ہے. تحریک انصاف کی چین کے بارے میں پالیسی ایک عرصے سے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے. چین پاکستان کا بہترین دوست ہے. اس وقت سلامتی کونسل میں چین وہ واحد ویٹو پاور ہے جس سے ہم خیر کی امید رکھ سکتے ہیں. چین آپ سے الگ ہو جائے تو مسائل کا پہاڑ کھڑا ہو جائے. جب بھی نازک مرحلہ درپیش ہوتا ہے چین ہمارا ساتھ دیتا ہے، حتی کہ مسعود اظہر صاحب کے معاملے پر بھی جب ہم مطالبہ کرتے ہیں تو وہ ہمارے خلاف قرارداد کو ویٹو کر دیتا ہے. پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ ہماری سفارت کاری میں چین کا مقام و مرتبہ کیا ہے. لیکن عمران صاحب کو اس کی پرواہ نہیں. ان کے پہلے دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ منسوخ ہوا. مجھے بریگیڈئیر آصف ہارون نے بتایا کہ جب سی پیک کا پہلا قافلہ مانسہرہ سے گزر کر آگے آ رہا تھا، عین اس وقت پرویز خٹک صاحب موٹروے پر تھے اور موٹروے بند تھی. ان کے الفاظ تھے کہ فوج کے ڈنڈے نے انہیں واپس بھیجا کہ اس وقت کوئی تماشا نہیں چلے گا، موٹر وے ہر حال میں کلیئر کریں. اتفاقات زمانہ ہوتے ہوں گے لیکن ہر دفعہ نہیں ہوتے. چنانچہ ایک تاثر موجود ہے کہ عمران خان چین کے حوالے سے مشکوک نہ سہی ایک ایسی پالیسی ضرور رکھتے ہیں جو بادی النظر میں نامناسب ہے. چنانچہ خٹک صاحب کا ایک قومی منصوبے پر عدالت چلے جانا بھی بعض حلقوں کے نزدیک قابل تحسین عمل نہ تھا اور یہ ایک قومی منصوبے کو کالاباغ ڈیم بنانے کی کوشش قرار دیا گیا. عمران خان کے مزاج کا یہ رخ انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا.\r\n\r\nتاہم اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے، اور وہ ہے چین کا مبینہ رویہ. پرویزخٹک کے اگر کچھ تحفظات تھے، اور وہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عدالت چلے گئے تھے، تو یہ بہرحال ان کا حق تھا اور چین کو اس پر ردعمل نہیں دینا چاہیے تھا. چین خفا تھا تو اس کو حکومت پاکستان سے اس کا سفارتی سطح پر اظہار کرنا چاہیے تھا. ریاست کا تعلق ریاست سے ہوتا ہے. چین کے ویزے کے لیے جن وزراء اور بیوروکریٹس کو انکار کیا گیا، ان کی اولین شناخت ایک پاکستانی کی تھی اور چین کو اسی شناخت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے تھا.\r\n\r\nچین کی حساسیت کا اگر عالم یہ ہے کہ وہ کسی وزیراعلی کو کسی عدالت سے رجوع کرنے پر اس حد تک خفا ہو جاتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ آگے چل کر یہ حساسیت کن اقدامات میں ظہور کر سکتی ہے. یہ سوال انتہائی اہم سوال ہے. اس سوال میں جہان معنی پو شیدہ ہے. دو ممالک کے تعلقات میں ایسے مراحل بہر حال آ جاتے ہیں جہاں اپوزیشن حکومتی اقدامات پر تنقید کرتی ہے یا عدالت چلی جاتی ہے. اس سے نبٹنا اسی ملک کی حکومت کا کام ہے. یہ دوسرے ملک کا کام. نہیں کہ وہ اس اپوزیشن سے ناراض ہو بیٹھے. اگر چین پاکستان میں سیاسی معاملات پر یوں ردعمل دینے لگا تو آگے چل کر بہت نازک مقامات بھی آ سکتے ہیں. سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے. بلند دوستی اگر ہاءی کورٹ کے ایک کیس سے اتنی مجروح ہو جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے موسموں میں کتنی بجلیاں ہو سکتی ہیں. یہ ایک نازک معاملہ ہے. مکرر عرض ہے کہ نفرت ردعمل اور خودسپردگی سے بالاتر ہو کر تدبر اور تحمل سے چیزوں کو دیکھا جائے.

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ نئی بات میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam