مرد، عورت اور جنس - مجاہد حسین خٹک

مجاہد حسین خٹک مرد کے لیے جنس بذات خود ایک منزل ہے جبکہ عورت کے لیے منزل تک پہنچنے کا فقط ایک رستہ۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے یہ جذبہ مرد میں کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے تاکہ انسانی نسل آگے بڑھ سکے جبکہ عورت کے لیے یہ تحفظ، محبت یا ممتا کے حصول کا ذریعہ ہے۔\r\n\r\nاگر عورت میں بھی یہ جبلت مقصود بالذات ہوتی تو مرد اور عورت اپنی تمام توانائیاں اسی کی تسکین میں صرف کر دیتے اور سماجی ترقی کا کوئی امکان باقی نہ رہتا۔ اگر مرد میں یہ جذبہ اس قدر شدت سے موجود نہ ہوتا تو انسانی نسل آگے نہ بڑھ پاتی، اور اگر عورت میں مرد کی طرح یہ جبلت بھر دی جاتی تو انسانی معاشرت آگے نہ بڑھ پاتی اور ہم ابھی تک غاروں میں مقید ہوتے۔\r\n\r\nنہ ہی عورت کے جسم میں خرابی ہے اور نہ ہی مرد کی فطرت میں۔ دونوں ہی قدرت کی منشا کے اسیر ہیں۔ جب کوئی مذہبی انسان عورت کے جسم کو گناہ کر مرکز قرار دیتا ہے تو وہ منشا ایزدی کے خلاف بات کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب ایک لبرل سوچ کا حامل فرد مرد کی فطرت کوقصوروار ٹھہراتا ہے تو وہ عقل کے خلاف بات کرتا ہے۔ قدرت کی طرف سے پیدا کیے گئے اسی فرق کی وجہ سے عورت اپنا جسم ڈھانپتی ہے۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا یعنی عورت کے لیے جنس مقصود بالذات ہوتی اور مرد میں کسی اور مقصد کے حصول کا ذریعہ تو عورت کے بجائے مرد اپنے جسم ڈھانپتے۔ اسی لیے عورت کے جسم کو قصور وار ٹھہرانا حماقت ہے۔\r\n\r\nمسلمان معاشرے میں مردانہ جبلت کے خوف سے عورت کو سماج میں وہ آزادی نہیں دی جاتی جو مرد کو میسر ہے۔ مغرب میں عورت کو آزادی تو دے دی گئی لیکن دونوں کے درمیان موجود فطرت کے فرق کو نظر انداز کیا گیا جس کے نتیجے میں عورت شمع محفل بن کے رہ گئی۔\r\n\r\nعورت کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے بارے میں آخری فیصلہ وہ خود کرے۔ تاہم اس فیصلے کے حوالے سے خاندان اور سماج کی سطح پر ایسی روایات موجود ہونی چاہییں جو اسے بہتر فیصلے تک پہنچنے میں رہنمائی فراہم کر سکیں۔ یہ بھی فقط پہلا مرحلہ ہے جو ابھی تک مسلمان معاشروں میں ناپید ہے۔ اس ضمن میں کوئی سنجیدہ کوشش بھی سامنے نہیں آئی۔ جب عورت کسی فیصلے پر پہنچ جائے تودوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اگر وہ گھر سے باہر جا کر پڑھنے یا ملازمت کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو سماج کے ساتھ ساتھ ریاست کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ یہ لازم ہے کہ گھر سے باہر اس کی حفاظت کے لیے ادارے تخلیق کیے جائیں جو مرد کی جارحانہ جبلت سے اس کی حفاظت کریں۔ مسلمان معاشروں میں اس سمت کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جس کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنے والی عورت کو قدم قدم پر یا تو تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا پھر مرد کے سامنے جھک کر سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔\r\n\r\nدورجدید میں گھر سے باہر جانے والی عورتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ روح عصر کا ایسا تقاضا ہے جس پر کوئی بند نہیں باندھ سکتا۔ اس کی مخالفت کرنا ایک سلبی رویہ ہے۔ مثبت عمل یہ ہے کہ مرد کو نہ صرف عورت کا احترام سکھایا جائے، جس کا آغاز بہرحال گھر سے ہوگا، بلکہ قانون کو بھی اس بارے میں انتہائی حساس بنا دینا چاہیے تاکہ خوف کی وجہ سے مرد اپنی جبلت کو قابو میں رکھنے پر مجبور ہو جائے۔\r\n\r\nاگلی ایک دو دہائیوں میں گھر پر بیٹھنے والی خواتین کی تعداد انتہائی کم ہو جائے گی۔ اس لیے ابھی سے اس جانب ایک منظم انداز میں قدم اٹھانا چاہیے اور ہر سطح پر روایات و ادارے تخلیق کرنے چاہییں جو عورت کو تحفظ فراہم کر سکیں۔ ہم ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کو گھر میں مقید کرنا ہی مسئلے کا حل ہے۔ یہ غلط فہمی ہے کیونکہ روح عصر کا تیز دھارا ہمارے تمام خیالات کو بہا کر لے جائے گا اورہم افراتفری میں ہاتھ پیر ماریں گے جب سماجی سطح پرخاندان کا ادارہ تباہی کے قریب جا چکا ہو گا۔ مسلمانوں نے پچھلی ایک دوصدیوں میں ہر معاملے پر یہی رویہ اختیارکیا ہے اور یہی ہمارے زوال مسلسل کی بنیادی وجہ ہے۔