اردوان،گولن، پاک ترک سکول اور پاکستان - آصف محمود

آصف محمود نفرت، محبت اور عصبیت جب بھی غالب آ جائیں، فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی انصاف اور اعتدال سے محروم ہو جاتا ہے۔ دیانت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ آدمی جب رائے قائم کرے تو ان جذبات کو اعتدال میں رکھ کر کرے۔ ان میں سے کوئی ایک جذبہ منہ زور ہو جائے تو جو رائے تشکیل پاتی ہے وہ کسی کے جذبات کی آسودگی کا سامان تو فراہم کر سکتی ہے، علم اور دیانت کی دنیا میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔\r\n\r\nپاک ترک سکول کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ اس کو دیکھنے کے دو مروجہ طریقے ہیں۔\r\nاول: ہم سیکولر ہیں، ہم طیب اردوان کی اسلام دوست پالیسیوں کے ناقد ہیں اس لیے ایک موقع ملا ہے تو ہمیں سارے حساب برابر کر دینے ہیں اور ثابت کر دینا ہے کہ اردوان سے برا حکمران اس وقت روئے زمین پر نہیں ہے۔\r\nدوم :ہم اسلام پسند ہیں،ہمیں طیب اردوان بہت اچھے لگتے ہیں،مسلم دنیا میں وہ واحد حکمران ہیں جن کے دل میں امت کا درد موجود ہے ۔اس لیے اگر وہ کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو وہ عین حق ہے، وہ کسی کو دہشت گرد یا یہودی ایجنٹ کہتے ہیں تو ٹھیک کہتے ہیں۔ ان کی دوستی اور مخالفت ذاتی یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجہ اسلام ہے، وہ کسی کو عزیز رکھتے ہیں تو اسلام کی وجہ سے اور کسی کی مخالفت کرتے ہیں تو اسلام کی خاطر۔چونکہ اسلام ہی ان کی ترجیح اول ہے، اس لیے وہ جو کہتے اور کرتے ہیں وہی ٹھیک ہے۔ اس پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے۔\r\n\r\nاس مروجہ صف بندی سے ہٹ کر بھی اس معاملے کو سمجھنے کا ایک طریقہ موجود ہے۔ میری رائے میں یہی درست عمل ہے۔ طیب اردوان خیر کی ایک قوت کا نام ہیں، وہ پاکستان کے دوست ہیں، بنگلہ دیش نے جب ’ البدر‘ کے شہداء کو پھانسیاں دینا شروع کیں تو خود ہمارے حکمران مجرمانہ خاموشی اوڑھ کر بیٹھ گئے، اس موقع پر طیب اردوان تھے جنہوں نے پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کی اور بنگلہ دیش سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔ اردوان وہ واحد رہنما ہیں جن سے مسلم دنیا کی نشاة ثانیہ میں کسی کردار کی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے، مسلم دنیا کی ذلت اور زوال کی ڈھیر ساری وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم معاشرے آمریتوں اور شہنشاہیتوں کی گرفت میں رہے ہیں اور یہاں جمہوری قدریں فروغ نہیں پا سکیں۔ جمہوری قدریں ہی ہوتی ہیں جو معاشروں کو توانا رکھتی ہیں۔ ان قدروں کو پامال کر کے مسلم دنیا خود پامال ہو رہی ہے۔ طیب اردوان ایک ایسے رہنما ہیں جو اس وقت مسلم دنیا میں جمہوریت کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ خوبی اس دور میں بہرحال ایک بہت غیر معمولی خوبی ہے۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ طیب اردوان کی خوبیوں کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ان کے غلط اقدامات کے جواز تلاش کیے جائیں، نہ ہی ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ان کو خوبیوں کا انکار ایک صحت مند رویہ ہوگا۔ ہر بات اور ہر چیز کو اس کے میرٹ پر دیکھا جانا چاہیے۔ ہر فیصلہ دلیل اور دیانت کے اصولوں پر پرکھا جانا چاہیے نہ کہ نفرت اور عقیدت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جانا چاہیے۔\r\n\r\nاب آئیے پاک ترک سکولوں کے معاملے کی جانب۔ اس معاملے میں چند باتیں غور طلب ہیں۔\r\n1۔ چونکہ ان اساتذہ پر تعزیر کا کوڑا اس لیے برس رہا ہے کہ وہ گولن کے قریب ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ فتح اللہ گولن کی تحریک ایک دہشت گرد تحریک ہے؟ طیب اردوان صاحب کا دعوی یہی ہے لیکن اس دعوی کا ثبوت کیا ہے؟ کوئی دعوی محض اس وجہ سے تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ ایک معزز آدمی کا دعوی ہے۔ اس کے لیے شہادتیں درکار ہوتی ہیں۔ ترکی میں کتنے دھماکے اس تنظیم نے کیے؟ کتنے خود کش حملوں میں یہ لوگ ملوث رہے؟ ان کے کتنے عسکری تربیتی مراکز آج تک منظر عام پر آئے؟ سبوتاژ اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا ان کا کوئی ریکارڈ ہے؟ فتح اللہ گولن ایسا نہیں کہ کل منظر عام پر آئے ہوں اور ہمیں بتایا جا رہا ہو کہ وہ تو ایک دہشت گرد ہیں۔ ترکی میں ان کے کام کی ایک طویل تاریخ ہے۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ ان کا کام فکری ہے۔ آپ اس کام سے ایک ہزار ایک اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن آپ اس کو دہشت گردی نہیں کہہ سکتے۔گولن نے ترک سماج کی تہذیب کی ہے اس میں ہیجان یا تشدد پیدا نہیں کیا۔ انہیں آخر کس اصول کے تحت دہشت گرد قرار دیا جائے؟ ابھی بھی ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد جس طرح سے گولن کی تحریک کے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو ملازمتوں سے فارغ کیا گیا ہے اور محض ایک مفروضے کی بنیاد پر ان کا جینا اجیرن کر دیا ہے، اس سب کے باوجود ترکی میں دہشت گردی کی کوئی ایک کوشش بھی گولن تحریک سے منسوب نہیں کی جا رہی۔ ان کے وابستگان نے نہ قانون کو ہاتھ میں لیا نہ سڑکوں پر بلوہ کیا نہ ہی دہشت گردی کی کوئی کارروائی کی۔ جو تحریک ان حالات میں بھی کسی انتہا کی اسیر نہ ہو اسے دہشت گرد کہنا کسی صائب الرائے آدمی کے لیے تو ممکن نہیں ہو سکتا۔\r\n\r\n2۔ اگر یہ سارا مقدمہ اس بنیاد پر اٹھایا گیا ہے کہ ترکی میں ناکام بغاوت کے پیچھے گولن کا ہاتھ تھا، تو انصاف اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کے ٹھوس ثبوت لائے جائیں۔ جو لوگ اس بغاوت میں شامل تھے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ لیکن محض اس خوف کی بنیاد پر کسی تحریک کو سینگوں پر نہیں لیا جا سکتا کہ باغی عناصر فکری طور پر گولن کے قریب تھے۔ پاکستان میں بھی ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ ضیاءالحق نے بھٹو کو پھانسی دی۔ ضیاءالحق فکری طور پر سید ابوالاعلی مودودی سے متاثر تھے۔ وہ چیف بنے تو فوج میں تفہیم القرآن عام ہو گئی۔ اب پی پی پی کی حکومت بنی تو اگر وہ اس شک کی بنیاد پر جماعت اسلامی کے خلاف کارروائی شروع کر دیتی اور جس محکمے میں جماعت اسلامی کا آدمی ملازم پیشہ تھا، اسے گھر بھیج دیتی تو کیا یہ ایک ذمہ دارانہ رویہ ہوتا۔ اردوان جیسے کئی جواز بلکہ ان کے دلائل سے زیادہ مستحکم دلائل پی پی پی بھی تراش سکتی تھی۔ سید مودودی نے انتخابی معرکے میں کہا تھا کہ : ”یہ بعینہ غزوہ تبوک ہے“۔ تو کیا اس بنیاد پر جماعت اسلامی کو سینگوں پر لے لیا جاتا؟ ہر جرم کا ذمہ دار اس کو کرنے والا ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ ناکام بغاوت کے نام پر اپسے مخالفین کو چن چن کر جیلوں میں ڈالا جائے اور ملازمتوں سے نکال دیا جائے۔ ابھی حال ہی میں سید منور حسن نے پاک فوج کے شہداء کو اس وقت شہید ماننے سے انکار کر دیا تھا جب وہ دہشت گردوں سے لڑ رہے تھے تو کیا اردوان کی طرح یہاں کی حکومت جماعت اسلامی کے سارے سکولوں پر قبضے کر لے کہ یہ فکری طور پر دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں اور فوج اور پولیس اور عدلیہ سے چن چن کر ایسے لوگوں کو نکال باہر کرے جو فکری طور پر جماعت اسلامی سے وابستہ رہے ہوں؟ ظاہر ہے کہ جماعت اسلامی خیر کی قوت کا نام ہے اور اس کے خلاف ایسے کسی اقدام کا کوئی جواز نہیں ہے.\r\n\r\n3۔ ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ طیب اردوان پاکستان کے دوست ہیں اور پاکستان ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات چند لوگوں کے لیے کیسے خراب کر سکتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ پاک ترک سکول دنیا کے کتنے ممالک میں ہیں، کیا باقی ساری دنیا نے یہ سکول بند کر دیے ہیں یا اساتذہ کو نکال دیا ہے؟ حد تو یہ ہے کہ آذربائیجان جیسے ملک نے بھی ان سکولوں کو بند کرنے سے انکار کر دیا ہے؟ تو کیا جن جن ممالک نے یہ سکول بند کرنے سے انکار کر دیا ہے ان سے ترکی کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں؟ کیا ترکی نے دنیا کے ان سارے ممالک سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں جنہوں نے پاک ترک سکول بند کرنے سے انکار کر دیا ہے؟ ہم نے یہ کب اور کیسے طے کر لیا کہ اردوان صاحب کا مطالبہ من و عن نہ ماننے سے تعلقات خراب ہو جاتے؟ یہ ساری دنیا میں مزارع کا کردار ادا کرنے کے لیے کیا صرف ہم رہ گئے ہیں؟ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ یہ ترک اساتذہ پاکستان سے نکل کر جن ممالک کو جا رہے ہیں، ان میں سے اکثریت مسلم ممالک ہیں تو اگر یہ دہشت گرد تنظیم کے لوگ ہیں تو یہ دیگر اسلامی ممالک انہیں کیوں قبول کرنے کو تیار ہیں؟ کیا ترکی کا سارا دباؤ صرف ہمارے لیے تھا؟ ہم نے کب تک اقوام عالم کا ”چھوٹو“ بن کر زندگی گزارنی ہے؟\r\n\r\n4۔ ایک دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ یہ ترکی کا اپنے باشندوں کے ساتھ معاملہ ہے۔ ہمارا اس سے کوئی لینا دینا ہے۔ جنہیں نکالا گیا وہ ترکی کے شہری تھے۔ ترکی نے کہا کہ انہیں نکال دو تو پاکستان نے نکال دیا ۔اس لیے ہمارا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ علم کی دنیا میں اس دلیل کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ بین الاقوامی قوانین میں ریاست اور فرد کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ فرد کوئی جانور نہیں ہے کہ ریاست اس کی مالک ہو اور جب چاہے اس کی قسمت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ سنا دے۔ بین الاقوامی قانون میں فرد کا اپنا ایک مسلمہ وجود ہے۔ ایسا نہیں کہ ایک ریاست دوسری ریاست سے کہے کہ میرا ایک جانور تمہارے پاس ہے اسے واپس کر دو اور وہ اسے واپس کر دے۔ فرد ایک محترم وجود ہے جس کو بین الاقوامی قوانین و ضوابط میں کچھ تحفظات دیے گئے ہیں۔ جو احباب اس مؤقف کا ابلاغ کر رہے ہیں، ان سے گذارش ہے کہ Universal Declaration of Human Rights کا مطالعہ کر لیجیے، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا مؤقف کس قدر کمزور اور سطحی ہے۔ ایک ملک کا شہری دوسرے ملک میں قیام پذیر ہو اور اس کا ملک اسے واپس مانگ لے تو اس باب میں، ایسا نہیں کہ، قانون خاموش ہو۔ اقوام متحدہ میں اقوام عالم نے مل بیٹھ کر اس طرح کی صورت حال سے نبٹنے کے لیے بہت محنت کے بعد قانون سازی کر رکھی ہے۔ اقوام متحدہ کے 1951ء کے کنونشن میں، جس میں بعد ازاں 1967ء کے پروٹوکول نے تر میم کر کے اسے مزید بہتر بنا دیا۔ ساری بحث ہی اسی صورت حال پر کی گئی ہے کہ ایک شہری اگر اپنے ملک سے باہر کہیں رہ رہا ہو، اسے خطرہ ہو کہ سیاسی اختلاف یا کسی مخصوس سماجی گروہ سے تعلق کی وجہ سے اسے اپنے ملک میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور وہ واپس اپنے ملک نہ جانا چاہتا ہو تو اس کو کیا حقوق حاصل ہوں گے۔ اب اس بارے قانون بہت واضح ہے۔ کسی ریاست کو کوئی حق نہیں کہ ایسے فرد کو ملک سے نکال باہر کرے۔ آپ نے تین دن میں نکل جانے کا حکم دے دیا۔ پاکستان اور ترکی دونوں کی حکومتوں کو اقوام متحدہ کا یہ کنونشن اور اس کے پروٹوکول بھول گئے۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ کیوں؟ بین الاقوامی قوانین صرف ایک صورت میں اس کی اجازت دیتے ہیں اور وہ صورت اسی کنونشن کے آرٹیکل 1(f) میں بیان کر دی گئی ہے۔ اس ذیلی شق کے تحت ایسے افراد کو دستیاب قانونی تحفظ صرف اس صورت میں ختم ہو سکتا ہے، اگر وہ جنگی جرائم میں ملوث ہوں، انسانیت کے خلاف دہشت گردانہ اقدامات کرتے رہے ہوں یا وہ اقوام متحدہ کے اصولوں اور مقاصد کو پامال کر چکے ہوں۔ ہم جاننا چاہیں گے کہ ترک اساتذہ نے 1951ء کے کنونشن کے آرٹیکل 1(f) میں دیے گئے جرائم میں سے کس جرم کا ارتکاب کیا ہے اور کب کیا ہے؟ یہ ترک اساتذہ اس وقت سے پاکستان میں ہیں، جب پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی گولن کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری جاری فرما رہی تھی اور رجب طیب اردگان پاکستان تشریف لے جاتے تھے تو ان سکولوں میں بھی جایا کرتے تھے۔ اس کے بعد اردوان اور گولن میں جو بھی اختلاف رہا ہو، سوال یہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والے ان اساتذہ کو کیسے مجرم قرار دے سکتا ہے جو اس سارے دورانیے میں (جب طیب اردوان اور گولن دوست تھے اور پھر مخالف ہو گئے) پاکستان میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے؟ ان کے جرم کی نوعیت کیا تھی؟ یہ کیوں نہیں بتایا جا رہا؟\r\n\r\n5۔ پاکستان کے ترکی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔ ان تعلقات کو بنتی بدلتی حکومتوں کی خواہشات پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ ان تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔ 1966ء میں پاکستان نے رجسٹریشن آف فارنرز آرڈر جاری کیا، اس میں دنیا کے صرف دو ممالک ایسے تھے جن کے بارے اس کی دفعہ 3(L) میں کہا گیا کہ ان کے شہری پاکستان میں رجسٹریشن کروائے بغیر تین ماہ تک قیام کر سکتے ہیں۔ یہ تعلق خاطر معمولی نہیں ہے۔ یہ حکومتوں کا بھی ہے اور دو معاشروں کا احترام باہمی بھی ہے۔ اس لیے محض یہ کہہ دینا کہ ہم ترک حکومت کی بات ماننے پر مجبور تھے درست رویہ نہیں ہے۔ ترک حکومت بھی محترم ہے مگر دو معاشروں میں جو احترام کا تعلق ہے وہ بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ سفارت کاری ہوتی کیا ہے؟ نازک مرحلے پر راستے تلاش کرنا ہی سفارت کاری ہے۔ کسی ایک انتہا کا اسیر ہو جانا سفارت کاری نہیں ہوتی۔ طیب اردوان کے لیے میرے دل میں احترام ہے مگر جس طرح اساتذہ کو نکالا گیا اس نے دکھی کر دیا۔ یہ دکھ اگر ہمارا سماج محسوس کر سکتا ہے تو کیا ترک سماج میں اس کو محسوس کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ آج وہاں ایک مکتب فکر کی حکومت ہے، کل دوسرا آ گیا تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟\r\n\r\n6۔ بعض احباب کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ان ترک مہمانوں کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں پاکستان کا مفاد دیکھنا چاہیے۔ بات یہ ہے کہ ہماری پریشانی محض ترک اساتذہ نہیں ہیں۔ ہماری اصل پریشانی تو یہ ہے کہ ریاست پاکستان میں کب وہ وقت آئے گا جب ہم بیرونی دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کر دیں گے۔ دباؤ آتا ہے تو ریمنڈ ڈیوس یہاں سے نکل جاتا ہے، دباؤ آتا ہے تو ہم سفارتی آداب کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور افغانستان کے سفیر کو امریکہ کے حوالے کر دیتے ہیں، ایوب خان نے بہت پہلے کتاب لکھی تو عنوان باندھا Friends, Not masters لیکن عملا صورت حال یہ ہے کہ ہر دوست آخری تجزیے میں ہمارے لیے وائسرائے ہی بن جاتا ہے۔ ہمارے اس زوال مسلسل کی کوئی باٹم لائن ہے؟ ہمارے تجزیہ نگاروں نے اس قوم کو نفسیاتی طور پر بیمار بنا دیا ہے۔ کوئی ہمیں ’برادر اسلامی ممالک‘ کا لولی پاپ دے کر بےحمیت بنانا چاہتا ہے تو کوئی مغرب کا خوف دلا کر۔ ہماری نسل کو ان حکمرانوں اور دانشوروں نے ملامتی صوفی بنا دیا ہے۔ ہمیں ہر وقت یہی بتایا جاتا ہے کہ ہمارا تو ستیاناس ہو جائے اگر برادر اسلامی ممالک ہمارے لیے یہ نہ کرے۔ یوں لگتا ہے دنیا میں ان دوست ممالک کی نظر کرم نہ ہوتی تو ہماری تو داستاں تک نہ باقی ہوتی۔ ہر وقت ہی کولہو کے بیل کی طرح ان برادر ممالک کے احسانات تلے دبے رہتے ہیں اور ان نامعلوم احسانات کی کوئی بھی قیمت دینے کو تیار رہتے ہیں۔ یہ افیون فروشی اب بند ہونی چاہیے۔ اقوام عالم ہوں یا امت مسلمہ، کوئی کسی پر کوئی احسان نہیں کرتا۔ کسی ملک نے ہم سے کچھ اچھا کیا ہوگا تو بدلے میں ہم نے بھی اس کے لیے کچھ کیا ہی ہوگا۔ لو اور دو کے اس کھیل میں احترام باہمی تو ہو سکتا ہے، بلاوجہ کی ممنونیت کا طوق گلے میں ڈالے پھرنا ایک غیر ضروری کام ہے۔ اسے اتار پھینکیے۔\r\n\r\n7۔ اس معاملے میں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چونکہ سکول بند نہیں ہوئے بلکہ طیب اردوان کے حکم پر ایک اور ادارے نے ان سکولوں کا انتظام سنبھال لیا ہے، اس لیے اس پر شور مچانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ دلیل بھی ایک کمزور دلیل ہے۔ اس میں چند چیزیں غور طلب ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سکولز ترکی حکومت کی ملکیت ہیں؟ دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ سکولز حکومت ترکی کے نہیں بلکہ نجی ملکیت میں ہیں۔ ان پر الزام ہی یہی ہے کہ انہیں گولن نیٹ ورک کے لوگ چلا رہے ہیں تو گویا یہ معاملہ محض چند اساتذہ کو نکالنے کا نہیں بلکہ ایک نجی سکول پراجیکٹ پر ناجائز قبضے کا بھی ہے۔ جب یہ سکول ترک حکومت کے ہیں ہی نہیں اور ان کو بنانے سے اس مقام تک پہنچانے کی ساری عرق ریزی ایک پرائیویٹ ادارے نے کی ہے تو ترک حکومت کے پاس کون سا اخلاقی اور قانونی جواز ہے کہ وہ ان کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے اور ہمیں بتائے کہ اب اس سکول کو فلاں تنظیم چلائے گی۔ کیا پاکستان میں جنگل کا قانون ہے کہ کوئی معزز آدمی آئے اور اس کے حکم پر ہم کسی اور کی جائیداد اٹھا کر اس کے حوالے کر دیں؟\r\n\r\n8۔ اس معاملے نے ہمارے سماج کے فکری افلاس کو بھی عیاں کر دیا ہے۔ یہ سماج دو انتہا پسند طبقات کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ جب بھی کوئی مسئلہ سر اٹھاتا ہے، یہ گروہ باہم دست و گریباں ہو جاتے ہیں اور اس چاند ماری میں حقائق اور انصاف کا خون ہو جاتا ہے۔ اس وقت جب پاک ترک سکولوں کا معاملہ اٹھایا گیا تو بعض حضرات طعنہ دینے لگ گئے کہ چند اساتذہ کے لیے تو بہت بولا جا رہا ہے، اس وقت کیوں نہیں بولے جب عافیہ صدیقی کو اٹھایا گیا یا افغانستان کا سفیر امریکہ کے حوالے کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ یہ طعنہ مذہبی طبقہ سیکولر حضرات کو دے سکتا ہے لیکن یہ طعنہ ہر اس فرد کو نہیں دیا جا سکتا جو پاک ترک سکولز کے معاملے پر احتجاج کر رہا ہو۔ اس ملک میں دائیں اور بائیں کی تقسیم سے بالاتر ہو کر بھی کچھ لوگ موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ظلم کو ظلم کہنے سے پہلے فکری بد دیانتی اوڑھ کر یہ نہیں دیکھتے کہ ظالم کس گروہ کا ہے اور مظلوم کس گروہ کا۔یہ ظلم کو صرف ظلم سمجھتے ہیں۔ ظلم ظلم ہوتا ہے، ڈرون حملوں کی صورت میں ہو، عافیہ صدیقی کے مقدمے کی شکل میں ہو، ترک سکولوں پر قبضے کی صورت میں ہو یا کسی بھی اور شکل میں۔ اس کی سنگینی میں فرق ہو سکتا ہے لیکن ظلم ظلم ہی کہلائے گا۔ یہ المیہ ہے کہ سیکولر طبقہ اس ظلم کے خلاف نہیں بولتا جو مسلمانوں پر ہو رہا ہو اور مذہبی طبقہ اس ظلم کے جواز تلاش کرتا رہتا ہے جو مسلمانوں سے سرزد ہو رہا ہو۔ اس سماج کو ایسے رویوں کی ضرورت ہے جو ظلم کو ظالم اور مظلوم کی شناخت سے بالاتر ہو کر دیکھے۔\r\n\r\n9۔ مجھے اپنے دوستوں کا بہت احترام ہے لیکن میں اس دلیل کو کیسے تسلیم کر لوں کہ ہم ترکی کو مایوس نہیں کر سکتے، اس لیے ہم نے سب کچھ ٹھیک کیا ہے۔ ہم امریکہ کو مایوس نہیں کر سکتے، ہم نے اپنا ستیاناس کروا لیا۔ ہم برادر اسلامی ممالک کو مایوس نہیں کر سکتے، ہم نے ان کی باہمی چپقلش میں اپنا ملک میدان جنگ بنوا لیا۔ ہم دوسروں کو مایوس نہ کرنے کی اس خواہش میں کیا اپنی شکل ہی بگاڑ لیں۔ یہ سفر کہاں رکے گا؟\r\n\r\nمجھے کچھ احباب نے میسجز بھیجے کہ ہم تو آپ کو اسلام پسند سمجھتے تھے لیکن آپ نے بہت مایوس کر دیا۔ ان دوستوں سے گذارش ہے کہ انہوں نے کب سے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسلام دوستی کے جملہ حقوق ان کے نام محفوظ ہو چکے ہیں۔ خلیفۃ المسلمین کی اسلام دوستی بھی ایک الگ موضوع ہے، اس پر بھی کسی روز بات کروں گا۔ میری رائے میں یہ ہمارے ساتھ ہونے والی ’ضیاءالحقی‘ سے مختلف نہیں ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں کسی عصبیت کا ڈاکخانہ نہیں بن سکتا۔ میں جسے درست سمجھتا ہوں، وہ بیان کر دیتا ہوں، میں صرف اس خوف سے گونگا شیطان نہیں بن سکتا کہ فلاں گروہ کو اس مؤقف سے فائدہ نہ ہو جائے اور فلاں گروہ کو نقصان نہ ہو جائے۔ رائے اور مؤقف الہام نہیں ہوتا۔ امام شافعی ؒ نے اس باب میں آخری بات کہہ دی ہے کہ : میں اپنی رائے کو درست سمجھتا ہوں لیکن اس میں غلطی کے امکان کو تسلیم کرتا ہوں اور میں دوسرے کی رائے کو غلط سمجھتا ہوں لیکن میں اس میں صحت کے امکان کو رد نہیں کرتا.“

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!