ہم ترکی کو مایوس نہیں کر سکتے – محمد عامر خاکوانی

بعض اوقات لکھنے والوں کے لیے ایک مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ کسی خاص ایشو میں ایک سائیڈ کی طرف سے غیر ضروری جذباتی اور شدید ردعمل انہیں اس کے مخالف پوزیشن لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جب یک طرفہ ہی لکھا اور کہا جا رہا ہو، تب یہ لازم ہوجاتا ہے کہ کوئی تو تصویر کا دوسرا کا رخ سامنے لے آئے اور دیکھنے، پڑھنے، سننے والوں کو توازن اور اعتدال پر مبنی رائے تک پہنچنے میں مدد کرے۔\r\n\r\nدو دن پہلے ایک ٹی وی شو میں شریک تھا۔ موضوع پاک ترک سکول اور ترک اساتذہ کے ویزوں میں توسیع نہ ملنا تھا۔ پروگرام میں پاک ترک سکولوں کی فاؤنڈیشن کے ایک پاکستانی ترجمان ، ایک طالب علم کے والد شریک تھے، پیپلزپارٹی سندھ کی رہنما نفیسہ شاہ سے بھی رائے لی گئی۔ اینکر نے پروگرام کو متوازن انداز میں چلانے کی خاصی کوشش کی، مگر شرکا کا مؤقف اس قدر یکطرفہ تھا کہ مجھے سن کر شدید حیرت ہوئی۔ جن صاحب کا بیٹا پاک ترک سکول میں پڑھ رہا تھا، ان کو تو اس سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ پاک ترک تعلقات کس چڑیا کا نام ہیں، پاکستان کی کیا مجبوری ہے یا کچھ اور. وہ صورتحال کو صرف اپنے ذاتی نفع نقصان کی عینک سے دیکھ رہے تھے۔ ترک سکولز کی فاؤنڈیشن کے ترجمان نے پاک ترک سکولز کا مقدمہ لڑنے کے بجائے تمام تر فوکس طیب اردوان کے خلاف بےبنیاد پروپیگنڈہ پر صرف کیا۔ بعض دیگر شوز میں بھی کم و بیش اسی انداز کا رویہ دیکھا، حالانکہ اس ایشو پر سیاست کرنا مناسب نہیں۔ پاک ترک سکولوں کا ایشو تین مختلف زاویے رکھتا ہے، ان سب کو سامنے رکھنا ہوگا۔ پہلا انسانی حوالہ، دوسرا پاک ترک سکولوں کے برقرار رکھنے اور طلبہ کی تعلیم کا معاملہ، تیسرا اور اہم ترین پاک ترک تعلقات کی نزاکت اور حساسیت ہے۔\r\n\r\nپاک ترک سکولز کے اساتذہ کا ایشو سوشل میڈیا پر بھی پچھلے چند دنوں سے سرفہرست رہا ہے۔ ان اساتذہ کو چند دنوں میں گھر کا سامان فروخت کرنا پڑا، جو فطری طور پر آسان نہیں تھا۔ پاک ترک سکولوں کو اگرچہ بیس سال کا عرصہ ہوگیا ہے، مگر یہ سب اساتذہ بیس برسوں سے یہاں نہیں رہ رہے۔ کچھ پرانے بھی ہوں گے، مگر یہ ترک اساتذہ آتے جاتے رہتے ہیں۔ ان کا ترکی ٹرانسفر ہوجاتا ہے اور دوسرے ممالک میں بھی۔ بعض کی یہاں مدت ملازمت دو تین سال بھی ہوگی، مگر یہ انسانی فطرت ہے کہ کرائے کے مکان میں رہے، تب بھی استطاعت کے مطابق آراستہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چھوڑنا پڑے تو ظاہر ہے پریشانی ہوتی ہے۔ یہ انسانی المیہ سوشل میڈیا پر زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ واپس جانے والے ترک اساتذہ کو ان کے شاگردوں کا جذباتی انداز میں الوداع کرنا، ترک بچوں کے کھلونوں کی نیلامی کی دل گداز تصویریں، اپنے کھلونے بکتے دیکھ کر رنجیدہ ہو جانے والے بچوں کا افسردہ احوال، آدمی کا دل پگھل جاتا ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا، مگر سوشل میڈیا پر یہ تصاویر اور ان پر لکھی تحریروں کے جذباتی سٹیٹس ایک خاص قسم کے یکطرفہ اور منفی پروپیگنڈا کا حصہ بن رہے ہیں۔\r\n\r\nہمارے ہاں ایک حلقہ خاموشی سے چین کے خلاف سرگرم ہو چکا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف حیلے بہانوں سے چین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع ہوچکا ہے۔ کہیں ترکی اس سلسلے کی دوسری کڑی تو نہیں بن چکا؟ بعض دوستوں نے دیانت داری سے اس المیہ پر لکھا، مگر کچھ نادیدہ ہاتھ ننھی چنگاری کو آگ بنانے کے درپے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے فرض کریں کہ صورتحال نارمل ہے، یہ استاد یا ان میں سے چند ایک کا معمول کا ٹرانسفر ہو تو کیا بچے اپنے پسندیدہ اساتذہ سے یوں جذباتی الوداعی ملاقاتیں نہیں کریں گے؟ میرے بڑے دو بیٹے خیر سے ایک مقامی سکول میں پانچویں کے طالب علم ہیں۔ پچھلے ایک سال میں ان کی دو تین ٹیچرز مختلف وجوہات کی بنا پر سکول چھوڑ گئیں۔ ہر بار بچے رنجیدہ ہو کر واپس آئے، ٹیچرز کو انہوں نے الوداعی کارڈز اور چھوٹے موٹے تحائف دیے اور ابھی تک انہیں یاد کرتے ہیں۔ یہ روٹین ہے، اس میں مبالغہ کے رنگ بھرنا درست نہیں۔ اسی طرح اگر جس ترک ٹیچر کا تبادلہ ترکی یا کسی اور ملک ہوجاتا، تب بھی اس کے بچوں کو اپنے کھلونے وغیرہ چھوڑنے ہی پڑتے۔ لاہور میں رہتے ہوئے مجھے پانچ چھ کرائے کے مکان بدلنے پڑے ہیں، ہر بار کچھ نہ کچھ ہمیں چھوڑنا پڑتا ہے اور بچے ہمیشہ رنجیدہ ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ میں ہرگز ان لوگوں کو درپیش پریشانی اور تکلیف کا انکار نہیں کر رہا۔ چند دنوں میں سب کچھ سمیٹ کر واپس جانا بہت مشکل ٹاسک ہے، ان ایک سو آٹھ ترک اساتذہ اور ان کے گھرانوں کو یکایک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر انگریزی محاورے کے مطابق اٹس ناٹ اینڈ آف دی ورلڈ۔ ویسے میری ذاتی رائے میں ان ترک ٹیچرز کو مزید کچھ وقت ملنا چاہیے تھا، یہ کام سلیقے سے کیا جاتا تو کیا حرج تھا؟\r\n\r\nترک سکول ٹیچرز کے ویزوں کی توسیع نہ کرنا اور انہیں واپس بھیجنا میرے نزدیک بالکل درست فیصلہ ہے۔ پاکستان کے پاس ایسا کرنے کے سوا کوئی دوسری آپشن تھی ہی نہیں۔ اپوزیشن کو اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو پاک ترک تعلقات کی اہمیت کا ادراک کرنا چاہیے۔ نوازشریف کے ہر فیصلے کو خواہ مخواہ تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں۔ ترکی پاکستان کا بہترین دوست ہے اور آج جو عالمی منظرنامہ بن چکا ہے، اس میں ترکی کی اہمیت ہمارے لیے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ خطے میں جیو سٹریٹجک تبدیلیاں آ رہی ہیں، ممالک اپنے نئے اتحاد بنا رہے ہیں۔ بھارت، ایران اور افغانستان کا اتحاد واضح ہوچکا، بنگلہ دیش بھی جس کا فخریہ انداز سے حصہ بننا چاہتا ہے۔ امریکہ بھارت سٹریٹجک پارٹنر شپ تو موجود ہے ہی، ٹرمپ کے آنے سے اس میں غیر معمولی گہرائی اور مضبوطی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان چین سٹریٹجک پارٹنر اس وقت بہت اہم ہے۔ ترکی بھی اسی سٹریٹجک پارٹنر شپ کا حصہ ہے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ ترکی افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستانی مؤقف کا حامی ہے اور بوقت ضرورت ازبک لیڈروں پر اپنے اثر کو استعمال کرتا ہے۔ ترکی اور چین دنیا کے دو ایسے ممالک ہیں جو کھل کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتے اور پاکستانی مؤقف کی اعلانیہ بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ہمارے دیرینہ دوست عرب ممالک بھی اب ایسا نہیں کر رہے۔ خطبہ حج میں مسئلہ کشمیر شامل نہیں رہا اور پاکستان پر جارحانہ دباؤ ڈالنے والے مودی کو وہاں اعلیٰ ترین ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔ ترک صدر طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جس طرح کھل کر جرات سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی، یہ صرف اردوان ہی کر سکتے تھے۔ ان کی پرجوش اور پرخلوص تقریر کا ترجمہ سن کر آنکھیں نم ہوگئیں۔ بھارت ترکی کے لیے کم اہم ملک نہیں۔ جن وجوہات کی بنا پر ہمارے دیگر برادر مسلم ممالک بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے، وہ سب آپشنز ترکی کے سامنے بھی ہیں۔ ان تمام پرکشش ترغیبات کو نظرانداز کر کے ترکی آؤٹ آف دا وے جا کر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ کیا یہ بات ہم بھلا دیں گے؟\r\n\r\nیہ وزیراعظم نوازشریف یا شریف فیملی اور اردوان فیملی کا باہمی معاملہ نہیں۔ یہ واضح طور پر ریاست ترکی اور ریاست پاکستان کا باہمی تعلق ہے۔ ترک لیڈر طیب اردوان صرف اپنی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہے۔ وہ ترک عوام کے نمائندہ ہیں اور وِل آف ترک کو ظاہر کر رہے ہیں۔ ترکی میں حالیہ ناکام بغاوت کے چند دن بعد استنبول میں پانچ ملین لوگ جمع ہوئے، اس میں طیب اردوان کے سب سے بڑے سیاسی مخالف اور ان کے مقابل صدارتی انتخاب لڑنے والے کمال اوغلو بھی شریک ہوئے اور گولن موومنٹ کے خلاف تقریر کی۔ ترک عوام کی بہت بڑی اکثریت چاہے وہ اسلامسٹ ہوں، سیکولر یا پھر کمالسٹ، یہ سب گولن موومنٹ کے حوالے سے نہایت سخت سوچ رکھتے اور فوجی بغاوت کا ذمہ دار اسے ہی سمجھتے ہیں۔ فتح اللہ گولن کے حوالے سے میری رائے بری نہیں، ترک صدر کو گولن موومنٹ کے ساتھ کیسا برتائو کرنا چاہیے، اس پر میرا اپنا نقطہ نظر ہے، جو انھی کالموں میں کئی بار آ چکا ہے۔ یہ مگر ترکی کا اندرونی معاملہ ہے، اگر ترک ریاست کوئی پالیسی بنائے، جس کی حمایت اپوزیشن بھی کر رہی ہو تو ہم پاکستانیوں کو ان کی خواہش کا احترام کرنا ہوگا۔ پاک ترک سکول البتہ بند نہیں ہونے چاہییں، ان کی جگہ ترکی سے تربیت یافتہ اساتذہ لیے جائیں۔ ترک حکومت اس پر بخوشی رضامند ہوگی۔ اسی طرح انسانی حوالے سے اگر ان ترک اساتذہ کو کچھ وقت مزید دیا جائے تو بہتر ہوگا۔\r\n\r\nایک بات واضح ہے کہ سو لوگوں کی خاطر ہم آٹھ کروڑ ترکوں کو ناراض نہیں کر سکتے۔ ترکوں نے ہماری خاطر امریکہ، بھارت اور دنیا کی کئی عالمی قوتوں کے دباؤ کی پروا نہیں کی تو پھر ہم جواباً احسان فراموشی اور سرد مہری کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔ ہم انہیں مایوس نہیں کر سکتے۔

Comments

FB Login Required

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے سابق مدیر رہ چکے ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

Protected by WP Anti Spam