گولن موومنٹ کے حوالے سے موقف کیوں تبدیل ہوا؟ محمد عامر خاکوانی

تھوڑی دیر پہلے ایک نوجوان دوست سے بات ہو رہی تھی۔ کہنے لگے کہ آپ نے گولن کے معاملے پر تاریخی یوٹرن لیا ہے، ان کا اشارہ پاک ترک سکول کے اساتذہ کے حوالے سے میرے آج ٹی وی کے شو کی گفتگو کی طرف تھا، جس میں پاک ترک سکول ٹیچرز کے ویزوں کی توسیع نہ کرنے اور انہیں پاکستان سے بھیجنے کی حمایت کی گئی۔ انہیں میں نے مختصر جواب دیا کہ گولن مجھے پاکستان سے زیادہ عزیز نہیں ہوسکتا۔ میری سید فتح اللہ گولن یا کسی اور کے بارے میں کوئی بھی ذاتی رائے ہوسکتی ہے، مگر جب وہ ایشو پاکستان پر اثرانداز ہو تو میں ایسی صورت میں چیزوں کو پاکستان کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔ میرے نزدیک سب سے پہلے پاکستان کا تصور اہم ہے۔ ترک صدر طیب اردوان کے بارے میں میری رائے کچھ بھی ہوسکتی ہے، ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد حکومتی پالیسی کے حوالے سے تحفظات ہوسکتے ہیں، فتح اللہ گولن کے بارے میں رائے نرم ہوسکتی ہے، مگر یہ بہرحال ترکوں کا اندرونی معاملہ ہے۔ ترک ریاست گولن موومنٹ کے بارے میں کوئی پالیسی بنائے، ہم پاکستانی بطور تجزیہ کار اس حوالے سے اپنی کوئی رائے تو رکھ سکتے ہیں، مگر اسے ترکوں پر تھوپ نہیں سکتے، جس طرح ہمیں یہ پسند نہیں کہ ہمارے دوست ممالک پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناک گھسانے سے گریز کریں اور بطور ریاست ہمارے ریاست موقف سے معاملہ رکھیں۔ یہی اصول ہمیں ترکی کے بارے میں بھی بنانا ہوگا۔\n\nمیری یہ سوچی سمجھی رائے کہ پاک ترک سکول کے ٹیچرز کے معاملے پر پاکستان کق کسی بھی صورت میں ترک حکومت کے خلاف نہیں جانا چاہیے۔ یہ ترک ٹیچرز پاکستانی شہری نہیں ، یہاں ورک ویزے پر تھے،جو ختم ہونے پر توسیع نہ کرنا حکومت کی مرضی اور حق ہے۔\n\nاس حوالے سے جو فیصلہ وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے کیا، وہ بالکل درست اور پاکستان کے مفاد میں ہے۔ نواز شریف پر تنقید کے بہت سے مواقع موجود ہیں، جس سے ہم بھرپور انداز میں ’’فائدہ‘‘ اٹھاتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر حکومتی فیصلے کی مخالفت کی جائے اور ایسا کرتے ہوئے ملکی وقومی مفادات کو تہس نہس کر دیا جائے ۔ ایسا کرنا قطعی طور پر درست نہیں۔ تحریک انصاف کے نوجوان پرجوش کارکنوں کو اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ ہم ایک سو لوگوں کی خاطر آٹھ کروڑ ترکوں کو ناراض نہیں کر سکتے، قطعی ایسا نہں کرنا چاہیے۔ جس ملک نےہمارے کشمیر کاز کو اس قدر آگے جا کر بھرپور انداز میں سپورٹ کیا، ہم اس کاجواب کیا اس زہریلے پروپیگنڈے سے دیں جو سوشل میڈیا پر چند دنوں سے جاری ہے؟ میں اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں کی نیت ، اخلاص پر شک نہیں کر رہا۔ انہوں نے دیانت داری سے اپنی رائے دی ، جو بلاجواز اور بے وزن نہیں۔ یہ کام سلیقے سے نہیں کیا گیا، کچھ دنوں کی مزید مہلت دے دینی چاہیے تھی۔ یہ زیادتی ہوئی۔ اب مگر یہ معاملہ ایک پروپیگنڈہ مہم بنتا جا رہا ہے، اس لیے اسے احتیاط سے دیکھنا اور جذبات میں بہہ کر زیادہ آگے جانے سے گریز کرنا ہوگا۔\n\nاس ایشو پر بڑی تفصیل سے کالم لکھا ہے، انشااللہ صبح وہ روزنامہ دنیا میں شائع ہوگا۔

Comments

FB Login Required

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ دنیا میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے سابق مدیر رہ چکے ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

Protected by WP Anti Spam