بچوں کی تربیت اور شیر کی آنکھ - تنزیلہ یوسف

بڑے بوڑھوں سے سنتے آئے ہیں کہ کھلاؤ سونے کا نوالہ دیکھو شیر کی آنکھ سے۔ بچے قدم قدم پر اپنے بڑوں کی راہنمائی کے محتاج ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر انھیں اپنے بڑوں سے درست اور صحیح انداز میں راہنمائی نہ مل پائے تو یہ ان کی کردار سازی کے عمل میں جو خلا پیدا کرتا ہے، وہ ساری عمر کے لیے رہتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچے کی اولین درس گاہ ہوتی ہے اور ابتدائی پانچ سالوں میں بچہ وہ بہت کچھ سیکھ جاتا ہے، جو آگے چل کر اس کے کام آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ بچے پیدا کرنا آسان اور پالنا بہت مشکل ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے، ماں اس کی صورت دیکھ کر وہ تمام تکالیف کہ جن سے گزر کر وہ بچے کو جنم دیتی ہے، بھول جاتی ہے۔ پھر جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے، توں توں یہ تکلیف چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں بدلنے لگتی ہے۔ بچہ بیمار پڑ گیا، ماں باپ دونوں فکرمند ساری ساری رات آنکھوں میں گزر رہی ہے کہ کسی طرح بچے کو آرام مل پائے۔ آہستہ آہستہ زندگی گزارنے کے ڈھب سکھانے میں ماں جان کنی کے ان لمحات کو یکسر بھول جاتی ہے کہ کیسے اس کی آنکھ کا تارہ دنیا میں آیا۔ بچے کی سکولنگ پھر آگے کے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے جنکشن، جو منزل مقصود تک اس کو لے جانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

آج کل ہو یہ گیا ہے کہ باپ تو اولاد کی خاطر پیسہ کمانے کی مشین بنا ہوا ہے کہ جدید سہولتیں نیٹ، موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ وغیرہ جو اس کے بچوں کے کلاس فیلوز کو میسر ہیں تو جناب میرا بچہ کیوں کسی سے پیچھے رہے، یہی سوچ اس کو رات دن پیسہ کمانے کی مشین بنائے رکھتی ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے بچوں کو اگر بنیادی ضروریات کے لیے اس کے پیسے کی ضرورت ہے، وہیں ان بچوں کی تر بیت اور کردار سازی کے عمل میں ماں کے ساتھ باپ کی بھی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اس کو باندھے رکھوں یا اڑنے دوں - حفصہ عبدالغفار

اور رہ گئے بچے.... تو وہ وقت سے پہلے ملنے والی سہولت کے نام پر تعیشات کے سبب بگڑتے ہی ہیں۔ سکول کے زمانے میں اردو کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ماں بچوں کو سکول کے لئے گھر سے لنچ بنا کر دیتی تھی۔ اورہمیشہ یہی روٹین رہی،بیٹا تھوڑا بڑا ہوا تو اس کا دل بھی چاہتا کہ اس کے پاس اور لڑکوں کی طرح پیسے ہوں مگر ماں دینے سے انکار کردیتی۔ پھر اس لڑکے نے اپنے کلاس فیلوز کو لنچ بیچنا شروع کردیا۔ یہ تھی اس کی پہلی چوری، بڑھتے بڑھتے یہ عادت اس کو سگریٹ نوشی اور پھر نشے کی لت تک لے گئی۔ ماں باپ کے علم میں جب یہ بات آئی تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ پھر ایک دن وہ نشے کی حالت میں گھر کو ہی آگ لگا بیٹھتا ہے کہانی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ بہت زیادہ سختی بچوں کو چھوٹی چھوٹی چوریاں، بڑوں سے جھوٹ بولنا سکھاتی ہے۔ بے جا سختی اور بہت زیادہ نرمی دونوں صورتیں ہی بگاڑ کا سبب ہیں۔ آج بہت سے گھروں میں ماں باپ کو نہیں پتہ ہوتا کہ بچہ اگر کمرہ بند کرکے پڑھائی کے نام پر انٹرنیٹ کھول کے کیا کچھ کررہا ہے؟

ماں باپ بچوں کی موجودگی میں ہی خاندانی معاملات پر گفتگو کررہے ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر غیبت ہی ہوتی ہے یوں بچے ان معاملات میں دلچسپی لینے لگتے ہیں جو ان کے لیے غیر اہم ہونے چاہیے۔ بچوں کے اساتذہ، ٹیوٹرز کے کردار کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔ یہ ساری کارروائی ماں باپ بچوں کی موجودگی میں کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ اس سے بچے اپنے بڑوں کو کیسے بےعزت کرنا ہے، یہ سیکھ رہے ہیں۔

معاشرے کا مفید شہری اور مستقبل کے بہترین معمار بنا نے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ انھیں کم از کم اس وقت تک سپورٹ،راہنمائی فراہم کی جائے کہ جب تک وہ خود درست انداز میں فیصلے کے قابل نہ ہوجائیں۔ ہم بچوں کو سکھاتے ہیں کہ جھوٹ مت بولو مگر خود ان کے سامنے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔ بچے سوچتے ہیں کہ جب وہ بڑے ہوں گے تب وہ بھی دھڑلے سے جھوٹ بولاکریں گے۔ بچوں کی تربیت کے عمل میں ان پر شیر کی نگاہ رکھنا اتنا مشکل کام نہیں جتنا آج کے دور میں سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ عمل طویل ضرور ہے مگر مشکل یا خدانخواستہ ناممکن نہیں۔

Comments

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف نے پنجاب یونیوسرٹی سے اسلامک اسٹدیز میں ایم اے کیا ہے۔ ہاؤس وائف ہیں۔ دلیل سے لکھنے آغاز کیا۔ شعر کہتی ہیں، اور ادب کے سمندر میں قطرے کی مانند گم ہونے کے بجائے اپنی پہچان بنانا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں