غیرت بریگیڈاور سوال نمبر پانچ – محمد عامر خاکوانی

چند سال پہلے ہمارے ہاں مشروط امریکی امداد کے حوالے سے بعض سوالات اٹھے اور مین سٹریم میڈیا پر بحث نے جنم لیا۔ یہ کیری لوگر بل کا ایشو تھا، جس پر ایک بڑے حلقے نے اعتراضات کیے اور نکتہ اٹھایا کہ ہمیں اپنی قومی پالیسیاں خود داری اور وقار کے ساتھ بنانی چاہییں۔ جب قومی غیرت کی بات ہوئی تو ہمارا لبرل، سیکولرسوچ رکھنے والا ایک حلقہ اس پر معترض ہوا۔ قومی غیرت، خودداری اور عزت کی بات چونکہ بنیادی طور پر مذہبی حلقے سے کی گئی، اس لیے تنقید کرنے والوں میں وہ سب شامل ہوگئے، جو اہل مذہب سے روایتی اختلاف کرتے اور مذہبی سوچ کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ ان لوگوں نے قومی یا ملی غیرت کی اصطلاح کا مذاق اڑایا اور تمسخراڑانے کے لیے ایک ترکیب ”غیرت بریگیڈ“ ایجاد کی۔\n\nبعض دوسرے ایشوز کی طرح ”غیرت بریگیڈ“ والے معاملے کا بڑی مہارت کے ساتھ بعض لکھنے والوں نے یوں تمسخر اڑایا کہ یار لوگ غیرت کی بات کرتے منہ چھپانے لگتے کہ کہیں غیرت بریگیڈ کا طعنہ نہ سننا پڑے۔ حالانکہ کون ہے جو غیرت کے جذبے سے انکار کرے گا؟ پھر اس کے مقابلے کی اصطلاح تو بےغیرت بٹالین یا پلاٹون کی بنتی ہے، کون ہے جو خود کو یہ کہلانا چاہے گا؟ کسی کو بےغیرتی کا طعنہ دینا نامناسب اور عامیانہ بات ہے۔ ویسے کسی بھانڈ نے ”بےغیرت بریگیڈ“ کے نام سے گانا بھی بنایا، اس نام سے کسی انگریزی اخبار میں کالم بھی دیکھا۔ ایسا کرنے والے کی ”ہمت“ اور ”خود اعتمادی“ پر حیرت ہوئی، بہرحال ہر ایک کی اپنی زندگی ہے، جس طرح گزارنا چاہے، گزار سکتا ہے۔ دراصل بعض اصطلاحات اسی نیت سے گھڑی جاتی ہیں اور پھر ان پر اس قدر لفظی گولہ باری کی جاتی ہے کہ غبار ہر طرف پھیل جائے اور اصل مفہوم نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ تنقید بھی عجب انداز سے کی جاتی ہے۔ کوئی شخص قومی غیرت کا نام لے تو اس پر بہت سی چیلیں جھپٹ پڑتی ہیں کہ تمہیں جرات کیسے ہوئی غیرت کا نام لینے کی، کشکول ہاتھ میں ہے، دوسروں سے مدد پر گزارا ہے، خود کچھ کر نہیں سکتے، قرضوں میں بال بال جکڑے ہوئے ہو اور نام لیتے ہو غیرت کا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ یہ سب باتیں درست، مگر کیا اس پرشادیانے بجائے جائیں، رقص فرمایا جائے، دھمال ڈالی جائے؟ یہ سب انتہائی ناپسندیدہ، تکلیف دہ اور کربناک باتیں ہیں۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ برائلر مرغی کی طرح گردن ڈال کر ڈھیر ہوجایا جائے۔ قومی غیرت کے تصور ہی سے مزاحمت کی لہر پیدا ہوتی اور فرد سے گروہ، گروہ سے افراد کے حلقے اور پھر پوری قوم میں غلامی کی زنجیریں توڑنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، جس کا فطری نتیجہ تدبیر اور اس پر عمل کی کوشش کی صورت میں سامنے آتا ہے، اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ سب کچھ یکسر بدل جاتا ہے ۔ وہی غلام قوم سر اٹھا کر جینے لگتی ہے۔ یہ سادہ سی بات ہمارے بعض ”مہربانوں“ کو سمجھ نہیں آتی یا پھر یہ کہہ لیں کہ بطور قوم خود کو لعن طعن کر کے، سروں میں خاک ڈالے بغیر صف ماتم بچھائی نہیں جا سکتی۔\n\nجب بھی اسی غیرت کا تصور قوم کے دائرے سے نیچے ایک فرد تک آتا ہے تو گرمی گفتار بڑھ جاتی ہے۔ جب بھی کوئی شخص کسی حوالے سے اخلاقی روایات کی بات کرے، سماج میں حیا کے تصور کو نمایاں کرنے کی کوشش کرے اور منکرات، فواحش پر تنقید کرے تو ایک حلقہ دوبارہ سے مضطرب ہوجاتا ہے۔ پاکستانی ٹی وی چینلز پر بھارتی ڈراموں کی بندش، قابل اعتراض اشتہارات اور انٹرٹینمنٹ مواد پر تنقید کی جائے تو بجائے حقیقت کے اعتراف اور نامناسب چیزوں کی مذمت کرنے کے جوابی طعنہ یہ دیا جاتا ہے کہ ملک میں غربت، بدحالی، آلودہ پانی وغیرہ پر آپ لوگوں کی غیرت کیوں نہیں جاگتی، اس پر بات کیوں نہیں کرتے؟ رائٹ ونگ یا اسلامسٹوں کو یہ بات یوں کہی جاتی ہے، جیسے غربت کی بڑھتی ہوئی شرح، کرپشن ، مہنگائی، آلودہ پانی وغیرہ کے ذمہ دار وہی ہیں۔ بھائی سادہ سی بات ہے کہ وہ بھی غلط ہے، یہ بھی غلط ہو رہا ہے۔ جب کوئی ایشو سامنے آتا ہے، تب اس پر ہی بات ہوتی ہے۔ یہ تو کوئی نہیں کرتا کہ پہلے ایک طویل فہرست بناکر ان کے لیے قرارداد مذمت منظور کرے اور پھر جان کی امان چاہ کر کرنٹ ایشو پر بات کرے۔ غلط کو غلط ہی کہنا چاہیے۔ غیرت کے نام نہاد تصور کو لے کر اپنے گھروں کی عورتوں کو قتل کرنے والوں کا غیرت سے کیا واسطہ؟ وہ تومجرم، قاتل اور جنونی ہیں۔ رائٹسٹ ہمیشہ اس نام نہاد غیرت کے تصور کے ناقد رہے ہیں۔ اب تو اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس حوالے سے بڑی واضح سفارشات دی ہیں۔ یہ اور بات کہ ہمارے لبرل حلقوں میں سے کسی کو اسلامی نظریاتی کونسل کے علمائے کرام کی جانب سے غیرت کے نام پر قتل، قرآن سے نام نہاد شادی وغیرہ پر سخت سزاؤں کی سفارشات کو سراہنے کی توفیق نہیں ہوئی۔\n\nچند دن پہلے ایک ایشو سوشل میڈیا پر خاصا زیربحث رہا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے میٹرک کے انگریزی کے پیپر میں سوال نمبر پانچ یہ تھا کہ اپنی بڑی بہن پر مضمون لکھیں، ممتحن نے تین چار پوائنٹس بتائے کہ ان حوالوں سے بات کی جائے، ان میں لکس، فزیک اور ایٹی ٹیوڈ یعنی رویہ شامل تھا۔ یہ سوال شامل کرنے کی کوئی تک نہیں تھی۔ ایسا آج تک کبھی نہیں ہوا۔ کسی میٹرک کے لڑکے سے یہ پوچھنا کہ اپنی بڑی بہن پر مضمون لکھو، جس میں اس کے سراپا، صورت وغیرہ کی تفصیل بیان کی جائے۔ یہ اگر دانستہ کوشش تھی تو قابل مذمت اور افسوسناک اور نادانستہ ہوئی تو نرم سے نرم لفظوں میں اسے نامناسب اور قابل اعتراض کہنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر خاصا کچھ لکھا گیا۔ ہمارے دوست آصف محمود ایڈووکیٹ نے اس پر لکھا اور ٹی وی پروگرام بھی کرڈالا۔ بات پھیلی تو وفاقی وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے اس پر فوری نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم بھی جاری کر دیا۔ معاملہ اس طرح اپنے فطری اختتام پر پہنچ رہا تھا۔ آئندہ کے لیے تنبیہ ہوجاتی کہ اس قسم کے پرائیویسی میں مداخلت والے سوالات امتحانی پرچوں میں شامل نہ کیے جائیں۔ دلچسپ صورتحال تب پیدا ہوئی، جب لبرل، سیکولر لکھنے والوں نے اس پر طوفان اٹھا دیا۔ سیکولر نقطہ نظر رکھنے والی ویب سائٹس نے پے درپے مضامین چھاپ ڈالے اور ایک پوری مہم اٹھا دی کہ اس سوال پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے ؟ بہن پر مضمون لکھنا کون سی بری بات ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ میری بہن پیاری ہے تو اس میں کون سی برائی ہوجائے گی۔ اس تناظر میں ایک بار پھر غیرت بریگیڈ والی اصطلاح سننے کو ملی۔ میرے جیسے بعض لوگوں نے اس بار یہ طوق خوشی خوشی اپنے گلے میں ڈالا اور کہا کہ بھائی اگر اپنی اخلاقی قدروں کا دفاع کرنا جرم ہے تو پھر یہ ہم بار بار کریں گے۔\n\nڈاکٹر حسن عسکری رضوی سے ایک بار ڈسکشن کے دوران میں نے پوچھا کہ پاکستان میں لبرل لیفٹ اور سیکولر حلقوں کی ناکامی کی کیا وجہ ہے؟ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں جواب دیا کہ سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ لیفٹسٹ اور لبرلز پاکستانی سماج کے فیبرک کو نہیں سمجھ سکے، انہیں کبھی اندازہ ہی نہیں ہوسکا کہ عام آدمی کے جذبات اور محسوسات کیا ہیں، کن معاملات میں وہ حد درجہ حساس ہے۔ معاشرے کے فیبرک کو نہ سمجھنے کے باعث لبرل حلقے کبھی عوام میں اپنی جڑیں پیدا نہ کر سکے، نتیجے میں بری طرح ناکام ہوگئے۔ جس کسی کو سوشل میڈیا پر برپا حالیہ بحثیں پڑھنے کا موقع ملا، وہ اس رائے پر مہر صداقت ثبت کیے بغیر رہ نہیں سکے گا۔

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ دنیا میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے سابق مدیر رہ چکے ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam