تعلیمی ادارے یا ماڈلنگ شو - تنزیلہ یوسف

پڑھنے اور پڑھا نے کا تصور کیا جائے تو جہاں شاگرد کا خیال ذہن میں آتا ہے، وہیں ایک ایسی شخصیت کا خاکہ ذہن کے کینوس پر بننے لگتا ہے جسے لائق احترام اور معتبر ہستی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنا تمام تر علم نئی نسل کو منتقل کر رہی ہوتی ہے۔ درس و تدریس کے عمل کی تو ہمارے دین میں بہت اہمیت ہے، جہاں اقراء سے وحی کا آغاز ہوتا ہے، علم حاصل کرو خواہ چین ہی کیوں نہ جانا پڑے، جیسی ہدایت دی جاتی ہے ہے. وہیں معلم کا مقام بھی بے حد قدرومنزلت کا حامل ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا، جناب علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھا دیا اس نے گویا مجھے اپنا غلام بنا لیا۔ خلفائے راشدین کے دور میں معلمین کے وظائف مقرر کیے گئے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ معلم کا کردار بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

موجودہ دور میں استاد کو وہ عزت اور مرتبہ نہیں مل پارہا جو اس کا حق ہے۔ اس میں قصور کس کا ہے؟ یہ کبھی کسی نے سوچنے کی کوشش نہیں کی. پرائیویٹ سکولز میں تو ویسے ہی ٹیچرز ہر وقت خوف کا شکار رہتے ہیں کہ کہیں کسی طالب علم کے والدین ٹیچر کی کمپلین نہ لے کر آجائیں کہ بچے پر توجہ نہیں دی جاتی یا یہ کہ بچے کے ساتھ سختی سے کیوں پیش آیا جاتا ہے؟ اور یہ ساری کارروائی ماں باپ بچوں کے سامنے کر رہے ہوتے ہیں اور فخریہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اتنے مہنگے سکول میں پڑھا رہے ہیں، فیسیں دیتے ہیں تو کیوں نہ شکایات کے انبار لے کر آئیں؟ کیوں برداشت کریں؟ کیوں کمپرومائز کریں؟ بچوں کے سامنے ٹیچر کے کردار کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔ بچوں کو کانفیڈینٹ بنا نے کے چکر میں استاد کے احترام کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امن وامان کی اہمیت؛ چند تجاویز - اظہر شاہ ستوریانی

مگر یہ تو تھا تالی کا ایک ہاتھ ۔ ابھی دوسرا ہاتھ بھی ہے جس پر گفتگو ہونی ہے۔ کہتے ہیں ناں کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے سوائے پارلیمنٹ کے جہاں ڈائس بجائے جاتے ہیں۔ دوسرا ہاتھ جس کے بغیر تالی بجنا ممکن نہیں خود ٹیچر کا ہاتھ ہے اور یہ تالی والدین اور ٹیچر مل کر بجاتے ہیں۔ ٹیچر اس عمل میں اپنا کردار کیسے ادا کرتے ہیں؟ آئیں ذرا اس پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ کسی بھی پرائیویٹ سکول میں چلے جائیں، ٹیچرز کی تیاریاں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ کوئی سکول ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے آفس میں قدم رکھ دیا ہے یا شاید کوئی ماڈلنگ شو شروع ہونے والا ہے۔ ٹیچرز کو ایڈمن کی طرف سے ایسے احکامات دیے جاتے ہیں کہ اپنے حلیے درست کر کے آیا کریں ورنہ جاب سے رخصت۔ بھئی یہ ہتھیاروں سے لیس نہیں ہوگی تو طلبہ کو کیا پڑھائیں گی؟ بچے ان سے پڑھنے سے ہی انکار کردیں گے۔ اور یوں چند ہزار کے لیے یہ ٹیچرز بجائے احتجاج کرنے کے سب کچھ من و عن قبول کر رہی ہوتی ہیں۔ احتجاج کرکے اپنی روزی سے تھوڑا ہاتھ دھونے ہیں۔

بچے صبح صبح ٹیچر کی لیپاپوتی دیکھ کر خوب مسکے لگا رہے ہوتے ہیں کہ آج تو ہماری ٹیچر فلاں ایکٹرس لگ رہی ہیں اور ٹیچر غریب کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ یہ مسکے کیوں لگ رہے ہیں؟ بچوں کو فادرز چھوڑنے اور لینے آرہے ہوتے ہیں کہ گھر میں تو بیگم کی سڑی شکل دیکھنے کو ملتی ہے، کیوں نہ بچوں کی ٹیچر کے فریش بلکہ میک اپ زدہ چہرے کے درشن کیے جائیں۔ رزلٹ والے دن بھی بچوں کے رزلٹ بڑی تعداد میں بچوں کے ابا جان لینے آتے ہیں، جناب آج تو مس کو قریب سے دیکھیں گے۔ بیگم کو کہاں اتنی فرصت کہ ماڈل بن کے دکھائے، وہ تو گھر بیٹھی بچے پیدا کرنے کی مشین بنی ہوئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   سرِ راہ اساتذہ کی بے حرمتی کون سی تہذیب ہے؟ - محمد ریاض علیمی

قصہ مختصر یہ کہ آج کل ایسے پرائیویٹ سکولز میں تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کی بجائے ظاہری حالت کی درستگی پر زیادہ زور ہے کہ دوسرا کام زیادہ آسان ہے، اب کون شرارتی بچوں سے سر کھپائے؟ کون ایڈمن سے پنگا لے کہ یہ ماڈل بننے والی پالیسی قبول نہیں۔ رہی سہی کسر سہولت کے نام پر انٹرنیٹ کے بےجا استعمال نے کردی ہے۔ جو بڑوں سے زیادہ بچے استعمال کر رہے ہیں۔ سہولت کسی بھی قسم کی ہو، بظاہر خود اچھی یا بری نہیں ہوتی، اس کا استعمال اس کے اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ زمانہ طالب علم میں ٹیچر کو دور سے آتا دیکھ کر ہی دوڑ لگا دی جاتی تھی. وجہ یہ نہیں ہوتی تھی کہ کچھ غلط کردیا ہے بلکہ ٹیچر کے احترام کے ساتھ ساتھ دل میں ان کا خوف بھی ہوتا تھا. وجہ ٹیچرز کا بچوں کو خود سے فاصلے پر رکھ کر بات کرنا۔ کمیونیکیشن گیپ نہیں بلکہ دراصل وہ احترام کا جذبہ دلوں میں موجود تھا جو طلبہ اپنے استاد کے لیے دل میں رکھتے تھے۔ جو آج ناپید ہوتا جارہا ہے۔ اب تو وہ حال ہے کہ ادارے ڈگری یافتہ مگر کردار سے عاری جنریشن متعارف کروارہے ہیں۔ قصوروار کون ہے؟ سوچیے گا ضرور ۔

Comments

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامک اسٹدیز میں ایم اے کیا ہے۔ ہاؤس وائف ہیں۔ دلیل سے لکھنے آغاز کیا۔ شعر کہتی ہیں، اور ادب کے سمندر میں قطرے کی مانند گم ہونے کے بجائے اپنی پہچان بنانا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں