نسلی منافرت کے خلاف کامیاب جنگ لڑنے والا کھلاڑی - محسن حدید

محسن حدیدا1948ء ميں افريقہ کی نيشنل پارٹی نسلی عصبيت کا انوکھا منصوبہ لے کر ميدان ميں آئی اور انسانوں کے درميان نسل کی بنا پر تقسيم پہلی بار سرکاری طور پر نافذ ہو گئی. اس تقسیم نے جہاں زندگی کو دوسرے ميدانوں ميں متاثر کيا وہيں کھيل بھی اس کا خاص نشانہ بنے.\n\nہماری کہانی شروع ہوتی ہے ايک نوجوان کھلاڑی باسل ڈی اوليويرا سے جو افريقہ کے شہر کيپ ٹاؤن ميں پيدا ہوئے. باسل ايک بہترين آل راونڈر تھے. مسلسل اچھا کھيل پيش کرتے تھے مگر بدقسمتی سے وہ ايک سياہ فام (کلرڈ) پلئير تھے اور نسلی پاليسی کے تحت افريقہ کے سسٹم ميں ان دنوں ايک سياہ فام کھلاڑی کے لیے کوئی جگہ نہيں تھی. باسل افريقہ کے فرسٹ کلاس کرکٹ سسٹم کا حصہ صرف اس لیے نہ بن سکے کہ وہ سفيد فام نہيں تھے. باسل کے ان دنوں کی ايک اننگزايسی شاندار تھی جو بہت سی کتابوں ميں حوالے کے طور پر موجود ہے. باسل نے ايک کلب ميچ ميں225 رنز بنائے تھے جبکہ ٹيم کا ٹوٹل سکور 236 رنز تھا.\nbasil-doliveira\nباسل اس امتيازی قانون کے خلاف کڑھتے تھے. سفيد فام ايليٹ ليگز سے باہر باسل ايک سپرسٹار تھے. ان کے اعدادوشمار ناقابل يقين ہوتے تھے مگر سسٹم ان کی راہ میں رکاوٹ بن چکا تھا، اس لیے انہوں نے ايک انگلش صحافی جان آرلاٹ کو اپنا احوال بھيجا اور ان سے مدد کے طلبگارہوئے. جان ايک بہترين براڈکاسٹر اور صحافی تھے، بی بی سی کے لیے بھی کام کرتے رہے. 1948ء ميں جب يہ قانون نافذ ہوا تب جان افريقہ ميں ہی موجود تھے، انہيں افريقہ کے اس سسٹم نے بہت پريشان کيا تھا، وہ اسے نازی ازم سے تشبيہہ ديتے تھے. واپسی پر ان کا بيان بہت مشہورہوا تھا کہ اگر صورتحال يہی رہی تو کہيں خانہ جنگی نہ شروع ہوجائے.\n\n_56810365_77006685 جارج نے باسل کی مدد کی اور 1960ء ميں باسل انگلينڈ پہنچ گئے جہاں انہوں نے شروع ميں گريڈ کرکٹ ميں حصہ ليا. 1964ء ميں ووسٹر شائر نے انہيں اپنی ٹيم کا حصہ بنا ليا. اسی سال ووسٹرشائر کاونٹی چیمپئن شپ جيتنے ميں بھی کامياب رہی تھی. پھر1966ء ميں وہ لمحہ بھی آگيا جب باسل کو انگلينڈ کی ٹيم ميں شامل کر ليا گيا، يوں اپنے وطن ميں جو شخص گراؤنڈ کے صرف ايک مخصوص حصے ميں بيٹھ سکتا تھا (وہ بھی بعض اوقات خاردار تاروں سے عليحدہ کيا ہوا حصہ) اب گراؤنڈ ميں بطور کھلاڑی موجود تھا. خواب پورا ہوچکا تھا ليکن ابھی بہت سے صدمات باقی تھے. 1968ء آن پہنچا. انگلينڈ کو اس سال کے آخر ميں ساؤتھ افريقہ کا دورہ کرنا تھا ليکن ساؤتھ افريقہ نے شرط رکھ دی کہ باسل اس ٹور کا حصہ نہيں ہوگا. اس وقت تک انگلينڈ ميں نسل پرستی کے خلاف بحث بہت زيادہ بڑھ چکی تھی. انگلينڈ کے 200 سے زائد ممبران پارليمنٹ نے جنوری کے آخر ميں ايم سی سی کو ايک يادداشت پيش کی جس ميں کسی بھی قسم کے امتيازی سلوک سے باز رہنے کی خاص طور پر ہدایت کی گئی تھی. مارچ ميں افريقہ کا سخت ردعمل سامنے آيا اور ٹور کينسل کرنے کی دھمکی دے دی گئی. اسی سال مئی ميں برطانیہ کی ایک ٹيم رہوڈيشيا (موجودہ زمبابوے ) کا مجوزہ دورہ بھی انہی وجوہات پر ملتوی کر چکی تھی. ذہن ميں رہے تب انگلش کرکٹ کے معاملات ايم سی سی ديکھتا تھا، موجوده انگلش کرکٹ بورڈ 1997ء ميں وجود ميں آيا ہے.\n\nsouth-african_born_cricketer ايم سی سی نے جولائی ميں افریقہ ٹورکے لیے 30 ممکنہ کھلاڑيوں کے ناموں کا اعلان کيا جن ميں باسل کا نام شامل نہيں تھا. مزے کی بات ہے باسل انگلش ٹيم ميں شامل تھے اور آسٹريليا کے خلاف ايشز سيريز کھيل رہے تھے. انھی دنوں باسل کو منانے کی کوشش جاری تھی کہ وہ خود اس مجوزہ سيريز سے دستبردار ہوجائيں، انہيں اس سلسلے ميں بہت بڑی بڑی آفرز کی جارہی تھيں بلکہ ايم سی سی کے اہم ارکان کے ذريعے باقاعدہ رشوت کی بھی پيش کش کی بھی خبريں گردش ميں تھيں. بعد میں کچھ اخبارات نے دعوی کیا کہ یہ افریقی وزیراعظم کی ایما پر ہو رہا تھا. ايشزسيريز کے پانچويں ٹيسٹ ميں باسل نے 158 کی شاندار اننگز کھيل ڈالی اور انگلينڈ اس اننگز کی بدولت ميچ جيت گيا بلکہ اس کارکردگی کی وجہ سے سيريز بھی ايک ايک سے برابر ہوگئی. صورتحال اب مزيد مشکل ہوچکی تھی باسل کو اس شاندار کارکردگی کے بعد ڈراپ کرنا ممکن نہيں تھا. ميچ کے اختتام پر سليکشن کميڻی کی لمبی ميٹنگ ہوئی جس ميں ايم سی سی کے انتہائی اعلی عہديداران بھی موجود تھے. کولن کاؤڈرے اس وقت انگلينڈ کے کپتان تھے، وہ باسل کو يقين دلاتے رہے تھے کہ ميں تمہاری سائيڈ لوں گا مگر جب ميٹنگ ختم ہوئی تو باسل کو ايک بھونڈا بہانہ بنا کر ڈراپ کرديا گيا کہ ساؤتھ افريقہ ميں تمہاری باؤلنگ ٹيم کے کام نہيں آئے گی. اخبارات نے اسے سياسی فيصلہ قرار ديا اور اس کو بہت اچھالا گیا. نيوز آف دی ورلڈ (عامر، آصف اور سلمان بٹ فکسنگ سکينڈل والا اخبار ) نے اعلان کرديا کہ وہ باسل کو بطور مبصر افريقہ بھيجے گا. یہ خبر ساؤتھ افریقہ میں بہت ناپسندیدگی سے سنی گئی اور اس وقت کے ساؤتھ افريقی وزيراعظم نے اعلان کرديا کہ مذموم مقاصد کے ساتھ آنے والے مہمانوں کو خوش آمديد نہيں کہا جائے گا. وسط ستمبر ميں صورتحال مزيد دلچسپ ہوگئی جب انگلينڈ کے دوکھلاڑی ان فٹ ہوگئے اور مجبورا ايم سی سی کو باسل کو منتخب کرنا ہی پڑا. اب تو گویا افریقی حکومت کا ضبط ہی جواب دے گیا اور افريقی وزيراعظم نے شديد غصے کے عالم ميں بيان جاری کيا کہ ہم ايسی ٹيم برداشت نہيں کريں گے جو ہم پر تھوپی جائے يا جس کے مقاصد کھيل سے زيادہ سياسی ہوں. حالات اتنے خراب ہوگئے کہ يہ ٹور کينسل کرنا پڑا. ساؤتھ افريقہ کامن ويلتھ پہلے ہی چھوڑ چکا تھا جس کی وجہ سے اب وہ انٹرنيشنل کرکٹ کانفرنس کا باقاعدہ حصہ نہيں رہا تھا. ياد رہے کہ موجودہ نام آئی سی سی سے پہلے انٹرنيشنل کرکٹ کانفرنس تھا، موجوده سيٹ اپ 1989ء ميں وجود ميں آيا جس کا نام انٹرنيشنل کرکٹ کونسل رکھا گيا.\n\nافريقہ کا اگلا دورہ آسٹريليا نے 1970ء ميں کيا. ايک اور بات بھی ياد رہے کہ ساؤتھ افريقہ اپنی نسل پرستی کی پاليسی کی وجہ سے کسی بھی کلرڈ قوم يعنی پاکستان، ويسٹ انڈيز اور انڈيا کے ساتھ کرکٹ نہيں کھيلتا تھا. 1970ء کے دورے ميں ساؤتھ افریقہ نے آسٹریلیا کو 4-0 سے وائٹ واش کردیا. یہ افریقی ڈان بریڈمین بیری رچرڈز کی واحد سیریز ثابت ہوئی. کھیل کے چاہنے والوں کے لیے یہ کتنی تکلیف دہ بات تھی کہ اس قدر شاندار ٹیم صرف نسلی بنیادوں پر کئی ممالک سے کرکٹ نہیں کھیل سکتی تھی. اسی سال گرميوں ميں افريقہ نے انگلينڈ کا دورہ کرنا تھا ليکن انگلينڈ ميں اس دورے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور يہ دورہ کينسل کرنا پڑا. اگلے سال ساؤتھ افریقہ کے دورہ آسٹریلیا کی باری آئی تو وہاں بھی مظاہرے شروع ہوگئے. اب حالات ایم سی سی کے کنٹرول سے باہر ہو رہے تھے، یوں ساؤتھ افریقہ پر باقاعدہ پابندی لگ گئی. اس پابندی کی وجہ سے بيری رچرڈز، گريم پولاک، مائيک پراکٹر اورپيٹرپولاک جيسے عظيم ترين کھلاڑيوں سے دنيا محروم ہوگئی. وہ کھلاڑی جو اگر کھيلتے تو ريکارڈ بکس ميں ان کا نام بڑے اوپری خانوں میں درج ہوتا مگر اب بہت کم لوگ ان کے کھيل سے واقف ہيں. یہ بیس سال کا عرصہ ساؤتھ افریقہ کے کئی کھلاڑیوں کا کیرئیر کھا گیا. بہت سارے ہیرے اپنی چمک دکھائے بغیر ہی کہیں گم ہوگئے. فروری 1990ء ميں نيلسن منڈيلا کو جيل سے رہائی ملی اور اگلے سال ساؤتھ افريقہ کو دوبارہ آئی سی سی کی رکنيت مل گئی. اس سلسلے ميں انڈين کرکٹ بورڈ کی کوششيں قابل تعريف رہيں. انڈيا نے ہی پہلی سيريز کے لیے ساؤتھ افريقہ کو نومبر 1991ء ميں اپنے ہاں مدعو کيا. کرکٹ میں واپسی پرکولکتہ ميں کھيلا گيا. پہلا ون ڈے میچ انڈيا نے آسانی سے جيت ليا. فتح شکست سے قطع نظر افریقہ کے لیے یہ ایک بہت بڑی خوشی تھی. میچ کے بعد ساؤتھ افریقہ کے کپتان کلائیو رائس کے الفاظ سے ان کے جذبات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے. ان کا کہنا تھا ”ميں جانتا ہوں کہ جب پہلی دفعہ نيل آرمسٹرانگ نے چاند پر قدم رکھا تو اس نے کيسا محسوس کيا ہوگا“ کلائیو رائس صرف تین میچز کھیل سکے. موجودہ افریقن ٹیم کے اوپنر سٹیفن کے والد بھی اس ٹیم کا حصہ تھے. اس میچ میں ایلن ڈونلڈ نے اپنی باؤلنگ سے دنیا کو حیران کردیا. انہوں نے 29 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور بتایا کہ پابندی کے باوجود افریقہ میں کھیل کا کیسا معیار اور ٹیلنٹ موجود تھا.\n\nتاریخ میں جتنا اہم کردار نیلسن منڈیلا کا ہے، کھیل کے حوالے سے وہی کام باسل کے حصے میں آیا ہے. باسل وہ شخص بنا جس نے کھیل میں رنگ کی بنیاد پر تفریق کو ایک قابل نفرت چیز بنا دیا. گزشتہ ہفتے جب افریقہ نے آسٹریلیا کو ٹیسٹ میچ میں شکست دی تو افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی کی ایک تصویر بہت مشہور ہوئی جس میں وہ سیاہ فام باؤلر رباڈا کا منہ فرط جذبات سے چوم رہے تھے. یقینا یہ خوبصورت لمحہ اگر باسل کی زندگی میں پیش آتا تو وہ بہت طمانیت محسوس کرتے (ان کا انتقال نومبر 2011 میں ہوا تھا) اپنی خدمات کے اعزاز میں وہ ساؤتھ افریقہ کے 10 کرکٹرز آف دی سنچری میں سے ایک قرار دیے گئے حالانکہ وہ کبھی بھی ساؤتھ افریقہ کے لیے کھیل نہیں سکے تھے.