میڈیکل پرافس اور میڈیکل اسٹوڈنٹس – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

.امتحانات میں میڈیکل اسٹوڈنٹس روبوٹس کی طرح آن اور آف ہوتے ہیں. سونا جاگنا، کھانا پینا سب گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے.\nہم لوگ جاگنے کے لیے ایکسٹرا نکوٹین یا کیفین اور سونے کے لیے خواب آور دوائیں (سلیپ انڈیوسر) استعمال کرتے تھے. اسباق یاد کرتے ہوئے بون بون کینڈیز ساتھ رکھی ہوتی تھیں تاکہ دماغ کے خلیوں کو شوگر کی سپلائی رکنے نہ پائے. یادداشت بڑھانے کی ادویات کے اشتہارات بہت للچایا کرتے لیکن جیب خرچ اس کی اجازت نہ دیتا تھا.\nسارا سال ماڈلز کو شرما دینے والی لڑکیاں ”ماسیاں“ اور لڑکے کسی مزار پر دھمال ڈالتے بےترتیب جھاڑجھنکار بالوں والے ”نشئی ملنگ“ کی تصویر پیش کرتے ہیں.\nہر مضمون کی پہلی ریڈنگ کے لیے ہفتوں کا وقت مختص کیا جاتا. دوسری ریڈنگ دنوں میں اور تیسری ریڈنگ کے لیے گھنٹے رکھے جاتے.. آخری ریڈنگ پیپرز کے درمیانی وقفے میں کی جاتی.. جو دنوں کا کام منٹوں اور سیکنڈوں میں کر نے کا نام ہے.\nکوئی ہتھکڑی نظر نہیں آتی. کال کوٹھری کی سلاخیں بھی دکھائی نہیں دیتیں لیکن میڈیکل اسٹوڈنٹ قیدی ہوتا ہے. گویا جادو سے پتھرایا بت ہو. کھانے کا وقفہ وقت کا ضیاع لگتا ہے. نہانا دھونا صرف نیند بھگانے کے لیے ضروری ہوتا ہے ورنہ ”اب بال بنائیں کس کے لیے“ والی صورتحال ہوتی ہے. گریز Grey’s اناٹومی،گائٹن( gyton )،گےنانگ( ganong ) اور پی جے کمار ( PJ Kumar) میں آنکھیں تو ہیں نہیں جسے ہم نے اچھا لگنا ہے..\nگھر میں کون آیا گیا، کسی کے ہاں کیسا مرن جیون بیاہ شادی .. ان سب سے امتحان کے چند مہینے میں میڈیکل اسٹوڈنٹ اس طرح لاتعلق ہوتا ہے جیسے قبر کا مردہ زندوں سے.. بس کورس کی کتاب کو نامہ اعمال سمجھ لیجیے اور اسٹوڈنٹ (مردے) کو منتظر حشر.\nسوچ کا پہیہ کبھی سرجری کے میدانوں میں دوڑتا ہے اور کبھی یادداشت کا گھوڑا میڈیسن کے میدانوں میں بگٹٹ بھاگتا ہے. کہیں بائیوکیمسٹری کے ایکشنز اور ری ایکشنز میں کھویا ہوتا ہے تو کبھی پیتھالوجی کے جراثیموں کا خوردبینی پیچھا کرتے واپسی کا رستہ فراموش کر بیٹھتا ہے. کمیونٹی ہیلتھ کے ٹوائلیٹس کا ڈیزائن سمجھنے سے فرصت ملے تو فارماکالوجی لیب میں دوا کی پڑیا باندھنا سیکھے یا فورینزک میڈیسن میں لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے ساتھ رتی کے سرخ بیجوں سے زہریلا ہار بنانا سیکھے. اور کچھ نہیں تو سفید پاوڈر اور براون شوگر کا فرق جانے.. چرس حشیش کی بدبو سے واقفیت حاصل کرتے کرتے انسانی اور حیوانی خون کے نمونوں کا فرق سیکھنے نکل کھڑا ہو. \nجیسے ہی ایک پرچے سے فراغت نصیب ہوتی ہے اگلے مضمون کے سمندر میں غوطہ زن ہونا پڑتا ہے ..بقول منیر نیازی \nایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو\nمیں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا.\nاگر سرجری سے جان چھٹ گئی ہے اور پرچے میں تمام میجر اور مائنر آپریشن کامیابی سےکر لیے ہیں تو مریض کو آئی سی یو میں سانس کی نالیوں کے ساتھ ”پھونک مشین (ventilator)“ سے برسر پیکار چھوڑ کر میڈیسن کے میدان خار زار میں سرجری کے کانٹے چھریوں سے لیس دماغ لے کر گھسیں اور جب باہر نکلیں تو دماغ کا گودام انواع و اقسام کی بیماریوں اور ادویات سے بھرا ہوگا .. ان بیماریوں اور دوائیوں کو پرچے پر منتقل کر کے مریض کو ٹیسٹ ایڈوائز کر کے اگلے وزٹ کا ٹائم دیجیے یا اسپتال میں داخل کروائیے .. اور اپنے قید خانے میں پہنچ کر نئی سزا کی چکی پیسنا شروع کیجیے.\nنئی سزا ”آنکھ“ ہے تو ٹارچ لیجیے اور آنکھ کی سرخی (Red Eye ) کی وجوہات تلاش کیجیے .. آنکھ کی بیرونی ساخت سے آگے چلیے اور آئرس کے دہانے سے گزر کر عدسے کے درے کو پار کیجیے تاکہ ریٹینا ( پردہ بصارت) کی وادی میں بہتے خون اور رگوں کے ندی نالوں میں آنے والے فشار اور جوار بھاٹا کا معائنہ اور روک تھام تجویز کر سکیں.. پرچے میں دائیں آنکھ کے سفید موتیے کو بائیں آنکھ کے کالے موتیے سے کنفیوژ کیجیے. قریب کی عینک کو اندھراتا (night blindness) میں اور دور کی عینک کلربلائنڈ کے لیے تجویز کر کے ”جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو“ کا ورد کرتے گھر (ہاسٹل) اوہ سوری قید خانے میں واپس لوٹیے. آتے آتے بھینگے پن کے لیے سن گلاسز ایڈوائزکرنا مت بھولیے ..\nآج قید خانے میں ”گائنی“ کی ٹکٹکی پر آپ کو چڑھایاجانے والاہے .. تیار رہیے. جس مضمون کو آپ سب اسٹوڈنٹس نے یکساں دلچسپی اور تجسس سے پڑھا تھا، روز امتحان سب سے مشکل ثابت ہونے والا ہے. کیونکہ پڑھا کم تھا دیکھتے زیادہ رہے تھے. \nبس خیال رکھیے گا کہ کینسر کی مریض کی ڈلیوری مت کروا آئیں اور سیزیرین کی مریضہ کو بانجھ پن کا علاج نہ لکھ دیں .. آخری علاج تمام گائنی کے مریضوں کا ایک ہی ہے.. اگر آپ نے بوجھ لیا تو آپ نے گائنی کو خوب سمجھ کر پڑھا ہے ورنہ ابھی آپ خام ہیں.\nلیں جی سرنگوں والی اسپیشیلٹی ”ای این ٹی“ ( ناک کان گلا) کی باری آ گئی. انسانی جسم کی یہ تین مختلف سرنگیں ہیں جو نہ صرف تنگ و تاریک ہیں بلکہ انتہائی پیچ دار اور خوفناک بھی .. ان کی بھول بلیوں میں کئی ای این ٹی پروفیسرز بھی کھو چکے اور باہر نہ آ پائے . ذرا سنبھل کر جانا ہے. . \nلو جی پرچے ختم ہوئے لیکن ”عشق کے امتحان ابھی باقی ہیں دوستو“ وائیوا، میجر اور مائنر کیس . بس ”جہاں نیا ڈولی، وہیں قصہ پار“ \nوارڈ کے جونیئر ڈاکٹرز سے بنا کر رکھیں اور وارڈ بوائز تو آپ کے پے رول پر ہونے ہی چاہیے .. آخر آپ کے وائیوا میں آنے والے ممکنہ لانگ اور شارٹ کیس .. اسپاٹنگ (spotting) کے لیے کون سے سیمپل فائنل کیے گئے ہیں، اس کا علم تو انہی سے ہوگا.\nمریض کے معائنہ کے لیے پروفیسر کے احترام کے باوجود مریض کے رائٹ (دائیں) سائیڈ پر ہی کھڑے ہونے پر اصرار کریں تاوقتیکہ پروفیسر صاحب خود آپ کو دوسری طرف کھڑا ہونے کو کہیں.\nپروفیسر صاحب کی آپ کو پکڑائی جانے والی اسٹیتھ اسکوپ کو چیک کر لیں کہ آواز بند تو نہیں کر دی. کچھ ستم ظریف پروفیسر ہماری معصومیت کا ناجائز فائدہ اس طرح بھی اٹھاتے ہیں کہ بند اسٹیتھ (locked stethoscope) سے دل کی دھڑکن کا معائنہ کروا دیتے ہیں. بھیا ذرا سنبھل کے ورنہ روتے پھرو گے کہ \n”پروفیسر چال قیامت کی چل گیا.“\nسرجری میں شارٹ کٹ کوئی نہیں سو اس ہنر کو سیکھ ہی لیا جائے تو کام بنے گا. ورنہ اپنڈکس کے مریض کا ہرنیا اور پتے کے مریض کے گردے سے پتھری نکال آئے تو سرجن صاحب بلاٹکٹ گھر کی گاڑی پر سوار کروا دیں گے.\nناک کان گلے کا وائیوا دینے کے لیے ہیڈ لائٹ فوکس کرنا سیکھ لیں ورنہ کان کی روشنی اگر ناک پر پڑ گئی تو سپلی یقینی ہے.. وارڈ بوائے سے اگر دوستی پکی ہے تو آپ نے بس جا کر اسٹول پر سیدھا بیٹھنا ہے، وارڈ بوائے خود آپ کے سر پر لیمپ اس طرح سیٹ کرے گا کہ روشنی درست سمت میں ٹارگٹ پر پڑ رہی ہو گی. روشنی درست پڑ گئی تو آدھا میدان مار لیا، باقی آدھا آپ کی یادداشت کا کام ہے\nآنکھ کے وائیوا میں یادداشت سے زیادہ دعائیں کام آتی ہیں کیونکہ اتنے میجر سبجیکٹس میں آنکھوں کا سب سے زیادہ استعمال کر کے بھی انہیں پڑھتے وقت پس پشت ڈال دیا جاتا ہے. \n”گویا چراغ تلے اندھیرا.“\nگائنی میں آپ کو اتنی اسپاٹنگ (دیکھ کر سیمپل پہچاننا) ضرور آنا چاہیے کہ الٹے اور سیدھے بچے میں یا انڈہ اور بچہ دانی میں تمیز کر سکیں. حاضر سروس پروفیسر کی کتاب سے وائیوا کی تیاری کیجیے اور سوال کے جواب میں پروفیسر کی کتاب کا نام کوٹ کرنا مت بھولیے.\nوائیوا آپ کے اعصاب کی مضبوطی کا امتحان ہوتا ہے اور اعصاب کی مضبوطی بیک گراؤنڈ نالج سے آتی ہے. آپ کسی بھی سپلی والے سے پوچھ لیجیے اس کے اعصاب سپلی میں زیادہ مضبوط تھے کیونکہ سپلی میں تو\n”پڑھنا پڑتا ہی ہے“

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

Protected by WP Anti Spam