کیا جمہوریت اسلام سے ہے؟ عاطف الیاس

عاطف الیاس کچھ دوست اکثر اور جماعت اسلامی کے احباب ہمیشہ، جمہوریت کو اسلامی ثابت کرنے کے لیے یا جمہوریت کے ذریعے اسلام نافذ کرنے کے لیے درجِ ذیل دلائل دیتے ہیں:\n1۔ چونکہ پاکستان میں نمازپڑھنے، اذان دینے، روزہ رکھنے اور قرآن پڑھنے کی آزادی ہے، اس لیے یہ ایک اسلامی ریاست ہے۔\nآپ ان کی بات کاٹیں گے : لیکن کیا اسلام صرف نماز، روزے، اذان اور قرآن پڑھنے کا نام ہے؟ ان چیزوں کی اجازت تو امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور انڈیا میں بھی ہے۔ کیا وہ بھی اسلامی ریاستیں ہیں؟ مکمل اسلام کہاں ہے؟ اسلام کا معاشی نظام جو سود سے پاک ہو، بےحیائی سے پاک معاشرتی نظام، حدود، تعزیرات کی بنیاد پر عدالتی نظام، نیکیوں کا فروغ اور منکرات کا خاتمہ، جہاد کی فرضیت وغیرہ، یہ سب کہاں ہیں؟"\nیہاں وہ جواب دیں گے: ٹھیک ہے یہ سب نافذ نہیں ہیں، مان لیا۔ لیکن اسی لیے تو ہم کہتے ہیں کہ اسلامی جماعت کو ووٹ دیا جائے تاکہ وہ حکومت میں آ کر مکمل اسلام نافذ کرسکے۔ قصہ مختصر ان کی بات کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے :\n”جمہوریت اسلام سے ہے۔ چونکہ پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ اقتدارِ اعلی کا مالک اللہ تعالی ہے، اس لیے یہ اسلامی آئین ہے۔ اگر کوئی حکومت اسلام نافذ نہیں کر رہی ہے تو عوام کو اسلامی جماعت کو منتخب کرنا چاہیے تاکہ ہم اقتدار میں آکر مکمل اسلام نافذ کرسکیں۔“\nاب دیکھیے: ان کی یہی دلیل خود ان کے خلاف جاتی ہے اور جمہوریت کو خلافِ اسلام ثابت کرتی ہے۔ کیسے ؟\nدیکھیے وہ خود کَہ رہے ہیں کہ حکومت کے پاس دو آپشن موجود ہیں:\n1۔ وہ اسلام نافذ کرسکتی ہے۔ 2۔ وہ اسلام نافذ نہیں کرسکتی ہے۔\nکیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسلام آپ کو آپشن نمبر 2 اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ اگر ہاں تو اس کی شرع سے دلیل کیا ہے؟ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام ہرگز ہرگز اسلام کے سوا راستہ اختیار کرنے کا آپشن نہیں دیتا۔ اور اسے دنیا و آخرت کی رسوائی قرار دیتا ہے۔\nکیا یہ کہنا درست ہوگا کہ ایسا نظام جس میں ہم آپشن 1 یا 2 میں سے کوئی ایک آپشن اختیار کرسکیں، وہ پھر بھی اسلامی ہے؟\nحکومت کو یہ آپشن 2 انتخاب کرنے کا اختیار کس نے دیا ؟ کیا جمہوری نظام نے؟\nاگر ہاں تو پھر کیا ایسا نظام، جو خود اسلام نافذ نہ کرنے کا اختیار دے، وہ اسلامی ہوسکتا ہے؟ (اگر آپ ہاں کہیں گے تو یہ دنیا کا سب سے بڑا لطیفہ ہوگا)۔ اس کو ایک مثال سے بھی سمجھ لیجیے۔ امریکہ میں سرمایہ دارانہ جمہوریت نافذ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اسی جمہوریت کے ذریعے منتخب ہونے کے بعد جمہوری روایات اور اصولوں کو نافذ کرنے سے انکار کردے تو کیا اس کی حکومت کو پھر بھی جمہوری کہا جائے گا ؟ وہ معشیت، معاشرت یا عدالت میں سوشلسٹ یا اسلامی اصول و روایات نافذ کرنا شروع کردے۔ کیا یہ ممکن ہے؟\nتو پھرکیا یہ حکومت کی خرابی ہے یا نظام کی؟ یہ تو صاف نظر آرہا ہے کہ یہ نظام کا مسئلہ ہے جو اسلام نہ نافذ کرنے کا آپشن بھی دے رہا ہے۔ ہم ایسے نظام کو کیسے اسلامی کَہ سکتے ہیں۔ آپ کے علاوہ کوئی بھی حکومت میں آئے گا اور اسلام نافذ نہیں کرے گا تو کیا پھر دوبارہ آپ کے حکومت میں آنے تک اسلام معطل رہے گا؟ حیرت ہے ! ہم کہاں بھٹکے جا رہے ہیں ! یاد رہے جو کوئی اسلام کے سوا راستہ اختیار کرے گا، اللہ اسے اسی طرف چلتا کردے گا۔\nگذارش ہے کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیے۔ کیا اسلامی ریاست وہ نہیں ہوتی جہاں آپ کے پاس صرف اور صرف آپشن 1 ہی ہوتا ہے۔ آپ صرف اور صرف اسلام ہی نافذ کرسکتے ہیں۔ دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ شرع کے وہ احکامات جو قطعی ہیں مثلا: سود کی حرمت، حدود اور تعزیرات کا نفاذ، امر بالعمروف و نہی عن المنکر، جہاد کی فرضیت، بے حیائی سے پاک معاشرہ، زکوۃ کی فرضیت اور ریاست کے ذریعے وصولی، سرمایہ داری ٹیکسوں کا حرام ہونا وغیرہ وغیرہ، یہ وہ قطعی احکامات ہیں جنھیں من و عن نافذ ہونا چاہیے۔ کوئی دوسرا آپشن نہیں۔\nرہے ظنی احکامات جن میں ایک سے زیادہ رائے پائی جاتی ہیں، حکومت ان میں سے بھی کسی ایک رائے کو نافذ کرنے کی لازما پابند ہے۔ یہ نہیں کہ حکومت چاہے تو وہ نافذ کرسکتی ہے یا نہیں۔ یا کوئی اسلامی جماعت کامیاب ہوگی اور پھر حکومت میں آکر انھیں نافذ کرے گی تب تک اسلام کے احکامات معطل رہیں گے۔\nگذارش ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنی اصل، اپنے عقیدے کی طرف لوٹ چلیں۔ اس ملک سمیت تمام مسلم ممالک کو جمہوریت نے کچھ نہیں دیا۔ سوائے سیکولر روایات، لبرل آزادیوں اور سود زدہ معاشروں کے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کی طرف رجوع کریں، اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے راہ ہموار کریں۔ جو ہمارے لیے دنیا اور آخرت کی فلاح ہے۔ سراسر ہدایت ہے۔ وما علینا الاالبلاغ