میرا سلطان اور متقی میوے – آصف محمود

آصف محمود اہل مذہب اپنی گروہی عصبیت کی بنیاد پر جس دیدہ دلیری سے غلطیوں کا دفاع کرتے ہیں، دیکھ کر خوف آتا ہے.\nانہیں کبھی دنیا میں طاقت مل گئی، لوگ بش کو بھول جائیں گے.\nدلیل اور انصاف سے انہیں بھی کوئی واسطہ نہیں. عصبیت ہی ترجیح اول ٹھہرتی ہے. کوئی بھی عصبیت سے بلند ہو کر ظلم کو ظلم نہیں کہتا. سب کے اپنے اپنے ظالم ہیں اور اپنے اپنے مظلوم. ظلم کی مذمت کرنے سے پہلے اب یہ دیکھنا ضروری ہو چکا ہے کہ مظلوم اور ظالم کا تعلق کس گروہ ہے. اگر ظالم امریکہ ہو اور مظلوم کا نام عافیہ صدیقی ہو تو ہمارا روشن خیال طبقہ گونگا شیطان بن جاتا ہے. اور اگر انصاف کا دامن قبلہ اردوان چھوڑ کر انتقام کی راہ پر چل نکلیں تو ہماری نیک روحیں ترک اساتذہ کے انسانی حقوق سے یکسر بےنیاز ہی نہیں ہو جاتیں، انہیں یہ الہام بھی ہو جاتا ہے کہ یہ اساتذہ یہودی ایجنٹ بھی ہیں.\nان کے فکری افلاس پر بھی ترس آتا ہے. ایسے ایسے صالح نابغے موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ ترک اساتذہ کے لیے تو بہت بول رہے ہو، عافیہ صدیقی کے لیے کیوں نہ بولے. ان متقی میووں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم عافیہ صدیقی کے لیے بھی بولے تھے اور بولتے رہیں گے. عافیہ صدیقی کے ساتھ ہونے والے عدالتی ظلم پر میری پوری کتاب موجود ہے جس کا عنوان ہے :Afia trial:travesty of justice.\nلیکن عافیہ کے ساتھ ہونے والا ظلم ان متقی میووں کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنے ظالم کا دفاع کرنا شروع کر دیں.\nان دو انتہا پسند رجحانات میں گھری خلق خدا کو انسانیت دوست رویوں کی ضرورت ہے. انصاف پسند رویوں کی ضرورت ہے جو کسی ظلم کو ظلم کہنے سے پہلے ظالم اور مظلوم کا شجرہ نسب جاننا ضروری خیال نہ کرے.\nظلم ظلم ہوتا ہے تیرا سلطان کرے یا میرا سلطان کرے.

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ نئی بات میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam