صف بندیاں کیسی ہونے والی ہیں(قسط اول)-اوریا مقبول جان

orya\n\nعلامہ محمد اقبال کا آخری عمر میں ایک دستور تھا، انھوں نے اپنا تمام کتب خانہ دوستوں میں بانٹ دیا تھا اور صرف ایک قرآن پاک اپنے پاس رکھا تھا۔ یہ وہی قرآن پاک کا نسخہ تھا کہ جس کے بارے میں ان کا ملازم علی بخش کہتا ہے کہ علامہ قرآن پڑھتے ہوئے اس قدر زارو قطار سے روتے کہ قرآن پاک کے صفحات بھیگ جاتے اور جب صبح دھوپ نکلتی تو میں انھیں سکھانے کے لیے دھوپ میں رکھتا۔\n\nگزشتہ دنوں علامہ اقبال کی صاحبزادی سے میں اپنے ٹیلی ویژن پروگرام کے لیے انٹرویو لے رہا تھا تو انھوں نے بتایا کہ میں سات آٹھ سال کی تھی جب علامہ اقبال انتقال کرگئے۔ چونکہ میری عادت تھی کہ میں ان کے ساتھ ہی بستر پر سوتی تھی اور سونے کے بعد مجھے دوسرے بستر پر منتقل کیا جاتا۔ اس لیے مجھے والد کے انتقال کے بعد بہت ڈر لگتا اور بے چینی رہتی لیکن جب میں اس قرآن پاک کو اپنے سرہانے رکھتی تو مجھے سکون ملتا اور میں مدتوں اسے ساتھ رکھ کر سوتی رہی۔\n\nیہ تو علامہ اقبال کے اس قرآنی نسخے کا اعجاز تھا۔ لیکن قرآن کا اصل اعجاز وہ تھا جو قرآن کے غوّاص علامہ اقبال پر نازل ہوا تھا۔ وہ آخری عمر میں ایک نابغۂ روزگار کے طور پر شہرت کی بلندیوں پر تھے اور پوری دنیا سے لوگ ان کے پاس اپنے تشنہ سوالات کے جوابات کے لیے آتے۔ علامہ سوال سنتے، سوال فلسفہ کا ہو یا علم الکلام کا، معاشیات سے متعلق ہوتا یا موجودہ سیاسی کشمکش کے بارے میں، وہ جواب دینے کے لیے قرآن پاک کھولتے اور جواب عطا فرماتے۔\n\nتدبر قرآن جیسی تفسیر کے مؤلف مولانا امین احسن اصلاحی نے کہا ہے کہ میں نے پوری زندگی قرآن فہمی میں صرف کی اور خود کو جانا کہ میں نے تفسیر لکھنے کا حق ادا کر دیا، لیکن قرآن فہمی میں ہماری پروازجہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے علامہ اقبال کی پرواز کا آغاز ہوتا ہے۔ پھر ایک سرد آہ بھر کر کہا جس قوم کو اقبال جیسا ہدی خوان نہ جگا سکا، ہماشما کی کیا حیثیت ہے۔ اقبال نے قرآن پاک سے تعلق کے بارے میں اپنے متعلق ایک دعویٰ بھی کیا ہے\n\nگر دلم آئینۂ بے جوہر است\nگر بحرفم غیر قرآں مضمر است\n\nروز محشر خوار و رسوا کن مرا\nبے نصیب از بوسۂ پا کن مرا\n\nترجمہ: ’’اگر میرے دل کا آئینہ کسی خوبی سے خالی ہے اور اگر میرے دل میں قرآن پاک کے علاوہ کوئی ایک حرف بھی موجود ہے تو اے اللہ مجھے قیامت کے دن رسوا اور خوار کر دینا اور مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے بوسے سے بھی محروم کر دینا۔‘‘\n\nزندگی کے ہر معاملے میں قرآن سے رہنمائی لینے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں قرآن کے مطالب، معانی تک پہنچنے کا دستور اس امت کے صدیقین، علماء اور صلحاء کا ہمیشہ سے طریقہ رہا ہے۔ ان کے ہاں کبھی بھی کسی مسئلہ کے بارے میں یہ تفریق نہیں رہی کہ یہ خاندانی معاملہ ہے‘ یہ سیاسی اور دستوری الجھن ہے‘ یہ جمہوری اور غیر جمہوری الجھن ہے۔\n\nعام لوگوں کے ہاں دنیاوی معاملات کی تشریح کے لیے  تو عالمی حالات و واقعات اہم ہوتے ہیں۔ لیکن صلحاء امت کے ہاں تو ہرگز نہیں بلکہ وہ منصبِ، خلافت پر متمکن تھے یا منصبِ دعوت و ارشاد پر انھوں نے کبھی بھی اپنے چھوٹے سے چھوٹے معاملے اور بڑی سے بڑی الجھن کے لیے بھی قرآن و حدیث کو ترک کر کے دنیا کی کوئی کتاب رہنمائی کے لیے نہیں کھولی۔ اس لیے کہ علامہ اقبال ‘ان کے اسلاف اور علامہ اقبال کے بعد آنے والے صلحاء آج تک قرآن پاک کی اس آیت پر مکمل ایمان رکھتے ہیں۔ ’’اور ہم نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے جس میں ہر ایک بات کھول کر بیان کر دی ہے اور یہ مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور خوشخبری کا سامان ہے (النحل89)۔\n\nقرآن کے غوّاص علامہ اقبال کی طرح ہمیشہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اسی قرآن پاک میں ہماری سیاست، معیشت، معاشرت، تہذیب، فلسفہ غرض ہر قسم کے مسائل، الجھنوں اور ان سے اٹھنے والے سوالات کا جواب موجود ہے کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا قرآن پاک کے بارے میں دعویٰ ہے کہ اس میں تمام سوالوں کا جواب موجود ہے۔\n\nدوسری اہم بات یہ ہے کہ قرآن پاک چونکہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا اسی لیے اس کے معانی و مطالب اور مفاہیم بھی انھوں نے خود بتائے۔علم کے اس خزینہ کو امت‘ احادیث کی حیثیت دیتی ہے۔ اس پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف قرآن کے مطابق بیان کی گئی اپنی ذمے داریوں کو نبھاتے ہوئے کتاب و حکمت کی تعلیم دی ‘بلکہ آنے والے زمانوں میں پیش آنے والے خطرات اور فتنوں سے بھی آگاہ کیا۔ اس دنیا کے بارے میں سرکار دو عالم کی ایک خوبصورت حدیث واقعات کے تسلسل اور انجام کی تیز رفتاری کی طرف توجہ دلاتی ہے۔\n\nحدیث کے الفاظ اور طرز بیان کا سحر اسقدر خوبصورت ہے کہ آدمی جب بھی پڑھتا ہے اس کے سامنے اس کائنات کا ایک نیا پہلو آشکار ہوتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’دنیا ایک ایسا دریدہ لباس ہے جو ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھٹ چکا ہے اور اب صرف ایک دھاگے کے ساتھ آویزاں ہے جو بہت جلد ٹوٹ جائے گا۔‘‘ یہ ہے وہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں اور روز انقلابات زمانہ دیکھتے، ایجادات و وسائل سے لطف اندوز ہوتے اور عیش و عشرت میں گم رہتے ہیں۔\n\nحالانکہ اگر ہمیں یہ احساس ہوجائے کہ ہماری دنیا کا یہ سارا وجود ایک دھاگے سے لٹکا ہوا ہے جو کسی آن ٹوٹ جائے گا تو ہم اس دریدہ یعنی بوسیدہ اور پھٹے ہوئے لباس پر لعنت بھیج دیں۔ لیکن چونکہ ہم نے اس دنیا ہی میں رہنا ہے اور اسی کھیتی میں آخرت کی فصل کاشت کرنا ہے اس لیے ہمیں علم ہونا چاہیے کہ ہماری وہ کھیتی جس میں ہم آخرت کی فصل کاشت کرتے ہیں اس کو تباہ کرنے والے اور اس کھیتی پر حملہ کرنے والے کون ہیں۔\n\nکبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر آج اقبال زندہ ہوتے، اپنے گھر سے تمام کتابوں کو رخصت کر چکے ہوتے۔ ان کا اور صرف قرآن پاک کا ساتھ ہوتا۔ کوئی جدیدیت کا مارا، آئین و قانون کا پرستار، عالمی معاملات کا شناسا، جدید معاشی نظام کا پروردہ، ان کے پاس آتا، اور ان سے پے در پے سوالات کرنے لگ جاتا۔ کیا امریکا ٹرمپ کے بعد ٹوٹ جائے گا، کیا روس ایک عالمی طاقت بن کر ابھرے گا۔\n\nچین کی معیشت کیسے آگے بڑھے گی، مسلمانوں پر برا وقت کب ختم ہو گا، کیا امریکا مسلمانوں کے ساتھ ہو گا یا روس، یہ جنگ جو مشرق وسطیٰ میں شروع ہوئی ہے، جس میں عراق، شام، یمن وغیرہ شامل ہیں، کیا یہ مزید آگے بڑھے گی۔ کیا اس سے نجات کا کوئی راستہ ہے۔ یہ امت ایسے ہی بکھری رہے گی یا پھر کبھی متحد بھی ہو سکے گی۔ یہ پاکستان جو آپ کے خوابوں کی تعبیر ہے، اس کا کیا بنے گا، تباہ ہوجائے گا یا عالمی سطح پر کوئی اہم کردار ادا کرے گا یا ایسے ہی روتے پیٹتے چلتا رہے گا۔\n\nان سوالوں کے تسلسل میں اگر میں علامہ اقبال کا چہرہ سامنے لاتا ہوں تو مجھے اس پریشان حال شخص کے سوالوں کے جواب میں اقبال مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اسے ہاتھ کے اشارے سے چپ کرواتے ہیں۔\n\nقرآن پاک اٹھا کر کھولتے ہیں اور اپنی خوش الحان آواز میں سورۂ المائدہ کی آیت نمبر 82 کی تلاوت کرتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے ’’تم یہ بات ضرور محسوس کر لو گے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو کھل کر شرک کرتے ہیں اور تم یہ بات بھی ضرور محسوس کر لو گے کہ مسلمانوں سے دوستی میں قریب تر وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصرانی (عیسائی) کہلواتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بہت سے علم دوست عالم اور بہت سے تارک الدنیا درویش ہیں۔ نیز یہ وجہ بھی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے (المائدہ82)۔\n\nاقبال اس آیت کی تلاوت کے بعد فرماتے، تمہیں معلوم ہے اس وقت دنیا میں کون ہیں جو عیسائی کہلوانا پسند کرتے ہیں، ان میں عالم ہیں، تارک الدنیا ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ (جاری)