اردوان محترم ہیں مگر – آصف محمود

آصف محمود طیب اردوان انتہائی محترم ہیں. لیکن اس احترام کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ترک اساتذہ کو اس افسوسناک طریقے سے ملک چھوڑنے کا حکم جاری کر دیتے.\nیہ ہمارے بچوں کے استاد تھے. بچوں کے اساتذہ کے ساتھ کیا ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے؟ کیا ہمیں صرف دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے؟\nہم دوست ممالک کی خواہشات پر جانے کب تک دستور و اخلاقیات قربان کرتے رہیں گے. ہمیں جب جب تولا جاتا ہے ہم ہلکے نکلتے ہیں. ہر بار ہمارا رویہ احترام باہمی کے وقار کے بجائے باجگزار قسم کی اطاعت میں لپٹا ہوتا ہے. اور پھر اس قوم کو رابرٹ ہوران جیسوں کے یاوہ گوئی اور گالیاں سننا پڑتی ہیں.\nان اساتذہ کا کیا جرم ہے؟ انہیں یا ان کے پاکستانی شاگردوں کو یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے تاکہ سب کرم فرماؤں کو یہ معلوم ہو سکے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں آئین مقدم ہے. یہاں فرمان شاہی سے کسی کے جائز حقوق نہیں چھینے جا سکتے.\nیہ سلسلہ یہیں رک جانا چاہیے ورنہ معزز مہمان تو تشریف لاتے رہیں گے اور ان کے ہمراہ مطالبات کے دیوان ہوا کریں گے.\nصالحین پر بھی افسوس ہے. اس ظلم کے حق میں ایسے غیر صالح قسم کے دلائل لا رہے ہیں کہ افسوس ہوتا ہے. وہی بات کہ ہمارے اپنے اپنے ظالم اور اپنے اپنے مظلوم. ہم صرف اس ظالم کی مذمت کرتے ہیں جو ہماری صفوں میں سے نہ ہو اور ہم صرف اس کو مظلوم سمجھتے ہیں جو ہمارے گروہ سے تعلق رکھتا ہو.\nطیب اردوان کو بھی دل بڑا کرنا چاہیے تھا. ایک ناکام بغاوت کی آڑ میں سیاسی مخالفین کو یوں کچل دینا خود ترکی کے سماج کو خوفناک تقسیم سے دوچار کر دے گا.

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ نئی بات میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam