قطری شہزادے کا خط، چند مزید سوالات - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

محمد مشتاق اس خط کا عکس جناب احمد علی کاظمی صاحب نے عنایت کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر سے نوازے۔ (یہ لفظ خالص دعا کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے اور اس کا کاظمی صاحب کی حکومت نوازی سے، یا نواز حکومت کے نوازنے کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔)\n\nسب سے پہلے تو اس خط کی تاریخ ملاحظہ کیجیے: 5 نومبر 2016ء۔ یہ سوال میں نہیں اٹھاؤں گا کہ اگر 5 نومبر کو یہ خط موجود تھا تو پچھلے ہفتے کی سماعت میں کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ مان لیتے ہیں کہ پچھلے وکیل کو اس خط سے کچھ خاص توقعات نہیں تھیں اور موجودہ وکیل کے نزدیک یہ خط بہت زیادہ اہم ہے۔ ہاں، یہ سوال ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ 1980ء میں ہونے والے کسی معاملے کے متعلق 5 نومبر 2016ء کو لکھے گئے خط کی قانونی حیثیت کیا ہے جبکہ 1980ء میں مبینہ طور پر کیا جانے والا معاملہ خط لکھنے والے نے خود سرانجام بھی نہیں دیا تھا؟\n\nدوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ خط اس مبینہ معاملے کا ”ثبوت“ ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے پہلے تو اس پورے خط میں تلاش کیجیے، اگر کہیں خط لکھنے والے نے یہ قرار دیا ہو کہ وہ عدالت میں کوئی بیان دے رہا ہے۔ باقی باتیں ایک طرف، یہ تک نہیں کہا کہ\nI do hereby solemnly affirm…\nنہ ہی خط کے آخر میں یہ کہا گیا ہے کہ اس خط کے مندرجات میرے علم کے مطابق بالکل صحیح ہیں۔ ان قانونی الفاظ و تراکیب کی عدم موجودگی میں اس خط کی حیثیت بھی محض اخبار کی ہے جس سے زیادہ سے زیادہ پکوڑے رکھنے کا کام ہی لیا جاسکتا ہے۔\n\nالبتہ اخبار سے یہ خط ایک اور لحاظ سے اہم ہے اور بہت اہم ہے۔ وہ یہ ہے کہ اخبار میں کسی اور کی خبر ہوتی ہے اور کسی اور کا بیان ہوتا ہے جبکہ یہ خط خود شریفوں کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس لیے اس کے مندرجات کی حیثیت شریفوں کے نزدیک ”مسلمہ حقیقت“ کی ہوگئی ہے اور اب ان مندرجات کی صحت ثابت کرنے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔ Facts admitted need not be proved، قانون ِشہادت کا بنیادی اصول ہے۔ ہاں دوسرے فریق کو اس کے مندرجات پر اعتراض ہو تو وہ اس کے خلاف ثبوت پیش کرسکتا ہے لیکن شریفوں کے لیے ان مندرجات سے مکرنا قانوناً ناممکن ہے۔ اسی لیے ایک فاضل جج صاحب نے اکرم شیخ صاحب سے کہا کہ آپ اپنے موکل کو کہیں پھنسا نہ دیں!\n\nپھر یہ بھی دیکھیے کہ اس خط کے لکھنے والے کا نام تو معلوم ہے لیکن مخاطب کسے کیا گیا ہے؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔\nخط کے آخر میں ایک دلچسپ بات کہی گئی ہے جو ”شاہزادگانِ عرب“ کی نفسیات واضح کرنے کے لیے نہایت اہم ہے ۔ لکھا گیا ہے :\nThis statement is private and confidential and cannot be used or disclosed to anyone without my prior written consent, except to the benefit of the courts and regulators of the Islamic Republic of Pakistan.\n(یہ بیان نجی اور خفیہ ہے اور اسے میری پیشگی تحریری اجازت کے بغیر استعمال یا کسی کو دکھایا نہیں جاسکتا، الا یہ کہ یہ اسلامی جمہوریۂ پاکستان کی عدالتوں اور حکمرانوں کے فائدے کے لیے ہو۔)\n”نجی اور خفیہ“!\nشہزادۂ مکرم کو معلوم نہیں ہے کہ یہ خط ان کے باجگزار علاقے کے منتظمین (regulators) کے پاس نہیں بلکہ ایک آزاد ملک کی اعلی ترین عدالت میں پیش ہونے جا رہا ہے جس کے قانون کی رو سے عدالت میں پیش کی جانے والے کاغذات کو ”عوامی دستاویزات“ (Public documents) کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے، اور ہر شہری کو ان تک رسائی کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔ سب سے زیادہ مقدمے کے دوسرے فریقوں کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ اس فریق کی جانب سے پیش کی جانے والی تمام دستاویزات انھیں میسر ہوں۔ شہزادۂ مکرم کی اسی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ایک فاضل جج صاحب نے اکرم شیخ صاحب سے کہا کہ اگر آپ یہ دستاویز عدالت میں جمع کرائیں گے تو یہ پبلک ڈاکومنٹ ہوجائے گی۔\n\nیہ گویا شہزادۂ مکرم نے وہی کچھ فرض کیا تھا جو سعودی عرب کے شہزادہ مقرن نے برسرعام پریس کانفرنس میں کہہ دیا تھا۔ جب انھیں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے شریفین کو حرمین سے واپسی کا حق دیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں کوئی نہیں روک سکتا تو شہزادہ صاحب نے ایک دستاویز ہوا میں لہراتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ معاہدہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل کا ہے اور اس معاہدے کی رو سے خود شریفین نے حرمین سے مخصوص مدت تک واپس نہ آنے کا اقرار کیا ہوا ہے.\n\nپھر اکرم شیخ صاحب سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا اس دستاویز میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس کی بابت گواہی دینے، اور جرح کا سامنا کرنے کے لیے شہزادۂ مکرم خود تشریف لائیں گے؟ ان کا جواب تھا کہ اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا ! واضح رہے کہ قانوناً اس کے بغیر اس خط کو محض دعوی، یا بیان ہی کہا جاسکتا ہے، ثبوت نہیں۔ یہ ہے اس ثبوت کی قانونی حیثیت جو آج شریفوں کی جانب سے لندن فلیٹس کے سلسلے میں ملک کی اعلی ترین عدالت میں پیش کیا گیا.\n\nاب کچھ سوالات خط کے مندرجات کے متعلق،\nدوسرے پیراگراف کے شروع میں قرار دیا گیا ہے کہ ”مجھے بتایا گیا ہے“۔ کس نے بتایا ہے؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اسی مجہول روایت کو قانون کی اصطلاح میں hearsay، یعنی سنی سنائی بات کہتے ہیں۔ Hearsay evidence is no evidence۔ یہ قانونِ شہادت کا مسلمہ قاعدہ ہے۔ آگے آئیے۔ فرماتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ 1980ء میں میاں محمد شریف نے خواہش ظاہر کی کہ ایک مخصوص رقم (a certain amount) ہمارے کاروبار میں لگائیں۔ کتنی مخصوص رقم؟ یہاں نہیں بتایا گیا لیکن اگلے پیراگراف میں فرماتے ہیں کہ ”میں سمجھتا ہوں“ (I understand) کہ انھوں نے ”تقریباً“ (around) ایک کروڑ بیس لاکھ درہم لگائے۔ ساتھ ہی اس رقم کا ”ماخذ“ بھی بتا دیا! ”یہ رقم دبئی، متحدہ عرب امارات، میں کاروبار فروخت کرنے سے حاصل ہوئی۔“ آگے لندن فلیٹس خریدنے کے لیے آف شور کمپنیز کا بھی ذکر ہے اور رقم کے ادھر سے ادھر جانے کا بھی۔ پھر پیراگراف 5 میں فرماتے ہیں کہ ”مجھے یاد پڑتا ہے“ (I can recall) کہ میاں محمد شریف کی خواہش یہ تھی کہ ان کے پوتے حسین نواز ان جائیدادوں کا ”فائدہ اٹھانے والے“ (beneficiary) ہوں اور پھر 2006ء میں ہم نے آپس میں حسابات صاف کیے۔\n\nواضح رہے کہ یہ ساری باتیں محض باتیں ہیں، ثبوت نہیں۔ ثبوت وہ ہے جو اس کے بعد ذکر کیا گیا ہے کہ یہ جو کچھ میں نے بیان کیا، یہ میری یادداشت اور اس ریکارڈ کے مطابق ہے جو دوحہ میں موجود ہے۔ اسی لیے ایک فاضل جج صاحب نے اکرم شیخ صاحب سے پوچھا کہ ”منی ٹریل کہاں ہے؟“ یعنی کتنی رقم کب، کہاں اور کیسے منتقل ہوئی؟\nچنانچہ اب شریف برادران پر لازم ہے کہ اس خط کے مندرجات کی صحت ثابت کرنے کے لیے دوحہ سے وہ سارا ریکارڈ پیش کریں۔ اسی کو ثبوت کہا جائے گا۔ اس خط کو نہیں۔ البتہ اس خط کے مندرجات سے اب وہ مکر نہیں سکتے کیونکہ یہ ان کی جانب سے پیش کی گئی دستاویز ہے۔ یہی نکتہ اس معاملے میں اب سب سے زیادہ اہم نکتہ بن گیا ہے کیونکہ لندن فلیٹس کے متعلق شریفوں کی جانب سے، اور ان کے نمائندوں کی جانب سے، مختلف مواقع پر مختلف بیانات اور توضیحات سامنے آئی ہیں اور وہ سب کچھ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ ان بیانات میں کچھ یہ ہیں:\nحسن نواز نے 1999ء میں بی بی سی ہارڈ ٹاک میں کہا کہ میں وہاں رہتا ہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ ان فلیٹس کی ملکیت کس کے پاس ہے۔ یہ کرائے پر ہیں اور ان کا کرایہ ہر تین ماہ بعد پاکستان سے آتا ہے۔ بیگم کلثوم نواز نے 2000ء میں روزنامہ انڈی پنڈنٹ برطانیہ کو بتایا کہ ہم نے لندن فلیٹس اپنے بچوں کے لیے خریدے جو وہاں پڑھ رہے تھے۔ خواجہ آصف نے 2008ء میں اے آر وائی نیوز کے پروگرام ”آف دی ریکارڈ“ میں کہا کہ فلیٹس شریف خاندان کے ہیں؛ حسن نواز نے انھیں خریدا اور میں وہاں کوئی پندرہ سولہ سال قبل گیا تھا۔ صدیق الفاروق نے اسی پروگرام میں 2010ء میں کہا کہ لندن فلیٹس میاں صاحب کے خاندان کی ملکیت ہیں اور میں ایک دفعہ 1996ء میں وہاں گیا تھا اور وہاں مقیم رہا تھا۔ مریم صفدر (سابقہ مریم نواز) نے اسی پروگرام میں 2011ء میں ارشاد فرمایا کہ ان کی، ان کی والدہ کی یا ان کے بھائیوں کی برطانیہ میں جائیداد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مریم صفدر ثنا بچہ کے پروگرام میں اس بات یکسر انکار کر چکی ہیں کہ اندرون یا بیرون ملک ان کے نام پر کوئی جائیداد ہے، نہ اس بارے انھیں کوئی خبر ہے. چودھری نثار علی خان نے 2012ء میں پریس کانفرنس میں فرمایا کہ یہ فلیٹس میاں صاحب کے خاندان نے 1992ء کے آس پاس مورٹ گیج کے ذریعے حاصل کیے تھے۔ زعیم قادری صاحب نے 2015ء میں اے آر وائی نیوز کے پروگرام ”آف دی ریکارڈ“ میں ملکیت کو زیادہ پیچھے لے جاتے ہوئے قرار دیا کہ یہ جائیداد شریف خاندان نے ساٹھ کی دہائی کے آخر میں خریدی تھی۔ حسین نواز 2016ء میں جاوید چودھری کے پروگرام میں کہا کہ ”الحمد للہ میں نے یہ جائیدادیں 2006ء میں خریدیں۔“ تاہم خود میاں محمد نواز شریف صاحب نے 2016ء میں پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں قرار دیا کہ ہم نے 2006ء میں سعودی عرب میں ایک اسٹیل مل بیچ کر یہ فلیٹس خریدے۔\nکس کا یقین کیجیے ، کس کا یقیں نہ کیجیے\nلائے ہیں بزم ناز سے ، یار خبر الگ الگ !

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!