مکالمہ کیسے کیا جائے؟ محمد عامر خاکوانی

چند دن پہلے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے زیراہتمام میٹرک کے ایک پیپر میں ایک ایسا نامعقول سوال پوچھا گیا جس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ میں اس پر تفصیل سے کالم لکھنا چاہتا ہوں، اس لیے فیس بک پر کمنٹس کرنے سے گریز کیا۔ ایک چیز مگر بڑی شدت سے محسوس کی کہ اس سوال سے ہمارے سماج میں پہلے سے موجود تقسیم واضح اور گہری ہوگئی۔ جہاں بہت سے لوگوں نے اس سوال کی مذمت کی، ممتحن پر تنقید کی، اس ایشو کو متعلقہ حلقوں تک اٹھایا، جس پر وفاقی وزیرمملکت بلیغ الرحمن نے نوٹس بھی لیا اور انکوائری کا حکم صادر کیا۔ ایک حلقہ البتہ ایسا تھا، جس نے بڑے زور شور سے اس سوال، ممتحن کی حمایت کی اور تنقید کرنے والوں پر طنز کے تیر برسائے۔ اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ اس پر الگ سے لکھنا چاہ رہا ہوں۔ سردست تو میرا فوکس اس سوال پر اعتراض کرنے والا حلقہ ہے، یعنی وہ حلقہ جسے میں اون کرتا ہوں، اعلانیہ اس کا اعتراف کرتا اور اس کا دفاع کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ رائٹ ونگ کہہ لیں، دایاں بازو کہہ لیں، اسلامسٹ کہہ لیں یا پھر دینی درد رکھنے والے، مذہبی نقطہ نظر رکھنے والا معتدل حلقہ سمجھ لیں، خاکسار اپنی تمام تر دنیا داری، دنیاوی خواہشات، نفسی کمزوریوں، نامہ اعمال کی سیاہی کے باوجود خود کو اسی کلب کا ایک ادنی ممبر سمجھتا ہے۔ حزب اللہ ، اللہ کے سپاہیوں کا لشکر، جو اپنی تمام تر آرا، فکر اور سوچ الہامی دانش سے اخذ کرے، جو اوریجنل ٹیکسٹ یعنی قرآن حکیم کو نظر کا سرمہ سمجھے، اسی سے دیکھنے کی کوشش کرے۔\n\nمیرا روئے سخن بھی اسی حلقے کی طرف ہے، ان کی کمزوری میری کمزوری اور ان کی طاقت ہمیں اپنی قوت محسوس ہوتی ہے۔ پہلے بھی کئی بار دیکھا گیا، اپنی بساط کے مطابق تب بھی نشاندہی کی جاتی رہی، اس بار پھر شدت سے محسوس ہوا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے رائٹسٹ دوست کسی بھی ایشو پر لکھتے ہوئے، کسی حملے کا دفاع کرتے ہوئے جذبات میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ شدت جذبات میں وہ غیر محتاط جملے لکھتے اور جوابی حملہ کرتے ہوئے کبھی دشنام پر اتر آتے ہیں۔ بدبخت لبرلز، بدبخت سیکولرز ٹائپ الفاظ کی مکالمے میں کوئی گنجائش نہیں۔ ایک صاحب کا تبصرہ دیکھا، جس میں او خبیث سیکولرو، او شیطانو، او بے غیرت، آزاد خیال بریگیڈ، یہ سب کچھ تمہاری ملعون، حرام زادی ، نئی تہذیب اور خیبث روشن خیالی کا نتیجہ ہے۔\n\nمیرے سمجھ سے باہر ہے کہ دینی مزاج رکھنے والا کوئی بھی شخص ایسی زبان کیسے استعمال کر سکتا ہے؟ ایسے جذباتی لوگ ہی رائٹسٹوں، اسلامسٹوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا، اسے غیر مشروط طور پر رد کرنا چاہیے۔ میرے نزدیک سادہ سا ایک اصول ہے۔ ہم جو بھی لکھیں یہ سوچ کر لکھیں کہ کل کو ہمارے آقا، سرداروں کے سردار، سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں وہ تحریر پیش کی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے لگے گا؟ آپ کے چہرہ مبارک پر خوشی کی لہر آئے گی، نورانی تبسم فرمائیں گے یا پھر عالی جناب کی منور پیشانی پر شکن آ جائے گی۔ بس یہی تاثر ہی ہر امتی کی خواہش ہونی چاہیے۔ ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں، اپنی صلاحیتیں، اپنا ذہن ، اپنا وقت، اپنی جسمانی استعداد اس طرف کھپا رہے ہیں، اس کا واحد مقصد رب تعالیٰ کو خوش کرنا اور ہمارے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا حق ادا کرنا ہے۔ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوںِ، ہماری، ہمارے بچوں کی جانیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت، شان کو بلند کرنے کے لیے کھپ جائیں۔ ہمارے نام، ہماری عزت، شہرت کی واللہ مٹی کے اس ذرے کے برابر اہمیت نہیں ہے جس کا مقدر اللہ کے آخری رسول کے نعلین مبارک تلے آنا تھا۔ صاحبو! اپنی تحریروں پر اس زاویے سے نظرثانی کیا کرو، اگر ایسا کیا جائے تو بہت کچھ کم کرنا پڑ جاتا ہے، کرنا پڑ جائے گا۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے۔ ایسی بےاعتدالی اور بےاحتیاطی ان سطور کے لکھنے والے سے بھی سرزد ہوتی رہی ہے، اس کی شدید ندامت ہے۔\n\nمیری ناچیز رائےمیں ہمیں شائستگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دلیل سے اپنی بات کہنی چاہیے۔ کسی ایشو پر ہماری جو بھی رائے بنی، اس کے حق میں یا رد میں، وہ دیانت داری کے ساتھ شائستہ اسلوب میں بیان کر دی جائے۔ اس میں طعنے، زہریلے طنز، دشنام، جلی وخفی گالیاں قطعی طور پر شامل نہ ہوں۔ یہ ہمارا کام نہیں۔ ہم جس ورثے کے دعوے دار ہیں، اس میں ایسا کچھ نہیں۔ سیرت مبارکہ نے ہمیں مکالمہ کرنے کے ابدی اور سدا بہار اصول سکھائے ہیں۔ انھی کو سامنے رکھنا چاہیے ۔ ہمارے اکابر، ہمارے آئمہ ، فقہا، صوفیا، بزرگوں اورعلمائے حق سب نے اسی کو سامنے رکھا، اسی راستے پر چلے۔ فیس بک کسی کو نئی رعایتیں نہیں دے سکتی۔ جب سیدنا صدیق رضی اللہ تعالیٰ جیسی بڑی ہستی کو دشنام کے جواب میں سخت جملہ کہنے کی رعایت نہیں مل سکی، ان کے اور ہمارے آقا، ان کے اور ہمارے مرشد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروقت تنبیہہ کرکے اصلاح فرما دی۔ اصول تب طے ہوگیا کہ برداشت کی کیا حد ہے اور جواب کس قرینے میں دینا ہے۔\n\nاس نامعقول سوال کی مذمت، اس پر تنقید اور دلیل کے ساتھ اسے غلط کرنا ہی کافی ہے۔ اس کی اجازت نہیں کہ ہم اس کے ممتحن کو بھی وہی طعنہ دیں، وہی بات کریں، جو ہمیں اپنی بہنوں کے لیے ناگوار گزری ہے۔ جس بات کو ہم لغو، فضول اور نامناسب سمجھتے ہیں، وہ دوسروں کے لیے کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ جس نے وہ سوال بنایا، جو اس سوال کا دفاع کر رہا ہے، ہمیں ان کی رائے سے اختلاف ہے، ہم دلائل کے ساتھ ان کے مؤقف کو غلط ثابت کریں گے۔ ایسے لوگ، ان کی بہنیں، گھر والے ہمارے لیے محترم ہیں، محترم ہونے چاہییں۔ ہم یہ گوارا نہیں کرتے کہ کسی امتحان میں ہمارے بیٹوں کو یہ کہا جائے کہ اپنی بہنوں کی لکس، فزیک اور ہائٹ وغیرہ کی تفصیل بیان کریں۔ اس انتہائی پرسنل سوال، پرائیویسی کے حوالے سے اس سوال پر ہی ہمیں گھن آتی ہے۔ اس پر ہم نقد کرتے ہیں، کرنا بھی چاہیے، مگر اس تنقیدی مضمون کے آخر میں دوسرے کو یہ بات کہنا بھی نامناسب ہے کہ آپ اپنی بہن کی فزیک، فگر ، لک کی تفصیل بیان کریں۔ یہ عامیانہ بات ہے، غیر شائستہ ہے، نامناسب ہے۔ اس سے ہر صورت گریز کرنا چاہیے۔ جو بات جتنی ہے، اتنی کہی جائے، بس۔\n\nجس طرح اوپر عرض کیا کہ ہماری تحریر کا مقصد نفس کی تسکین، دلائل کی سرفرازی، اپنے مسلک، گروہ، عقیدے کی فتح ہرگز نہیں ہے، ہونا بھی نہیں چاہیے۔ اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنا ہمارا مقصد ہے۔ اللہ کے دین، اس کی اخلاقی قدروں، اسلامی مورل ایتھکس، ویلیو سسٹم کا دفاع ہمارا مقصد ہے۔ اسی پر فوکس رہے۔ دلیل کے ساتھ مکالمہ کیا جائے اور دوسروں پر واضح کریں کہ ہمارے نقطہ نظر کے پیچھے کیا دلائل موجود ہیں۔ یہ یاد رکھیں کہ دوسرے کیمپ میں ممکن ہے ہمارے دلائل کا کوئی اثر نہ ہو، مگر ایک بہت بڑی تعداد وہ ہے جو کسی خاص کیمپ یا حلقہ فکر کا حصہ نہیں۔ وہ دونوں اطراف کے دلائل کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ہمارا فوکس ان پر ہونا چاہیے۔ وہ غیر جانبدار، معتدل، سنٹر میں رہنے والے لوگ ہی بطور داعی ہماری دعوت، ہمارے کلام، ہمارے بیان کا مرکز ہونے چاہییں۔ اس امر کو کبھی ذہن سے نکلنے نہ دیں۔\n\nیہ بھی یاد رکھیں کہ جنگ طویل ہے، بار بار معرکے لڑے جائیں گے، ایک دن کا قصہ نہیں۔ جس نے اللہ کے لشکر کا حصہ بننا قبول کر لیا، وہ سمجھ لے کہ تاحیات اسے مستعد رہنا پڑے گا۔ بار بار غنیم کے لشکر اٹھیں گے، حملہ آور ہوں گے، ان سب کا ہر بار صبر، تحمل، برداشت اور حکمت سے مقابلہ کرنا ہے۔ شائستگی ہماری ڈھال، اخلاق ہماری پہچان اور دلیل ہمارا ہتھیار ہے۔ ہمارے ترکش میں گالیوں کے تیر نہیں، کسی کے پاس ہیں تو انہیں توڑ کر پھینک دے۔