عمران خان بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟ آصف محمود

آصف محمود ترک سفیر نے نرگسیت سے آلودہ بارگاہ پر سر تسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا ہے.\nایک رہنما کے لیے ناگزیر ہوتا ہے کہ اس کے رویوں میں تدبر، تحمل اور توازن موجود ہو. عمران خان لیکن ان اوصاف سے بےنیاز دکھائی دیتے ہیں. ان کا رویہ گاہے اس ضدی بچے جیسا ہو جاتا ہے جو پاؤں پٹخ پٹخ کر چلا رہا ہوتا ہے، مجھے چاند چاہیے.\nعمران خان کو سوچنا چاہیے کہ وہ ایک متوازن فکر رہنما کا تاثر دینے کے بجائے ایک جذباتی اور لاابالی آدمی کا تاثر کب تک دیتے رہیں گے.\nمیری تحریک انصاف کے تین اراکین پارلیمنٹ سے بات ہوئی ہے اور تینوں کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ درست نہیں ہے.\nپوچھا کہ کیا اس فیصلے میں آپ کی مشاورت شامل نہیں تھی. دو حضرات نے بات بدل دی اور ایک نے کہا : ہم سے کسی نے پہلے کبھی پوچھا نہ اب پوچھا.\nجان کی امان پاؤں تو کپتان خان سے پوچھوں : آپ بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟\nمکرر عرض ہے کہ طیب اردوان نواز شریف کے نہیں ریاست کے مہمان ہیں. اس موقع پر تحریک انصاف کا پارلیمنٹ کا بائیکاٹ انتہائی نامبارک فیصلہ ہے.\nعمران خان کو پارلیمنٹ سے اتنی ہی کد ہے تو وہ اور ان کے پارلیمانی ٹائیگر تنخواہیں کس اصول کے تحت وصول فرماتے ہیں؟\nعمران کی استقامت پر رشک اور ان کی بصیرت پر ترس آتا ہے.

Comments

FB Login Required

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

Protected by WP Anti Spam