قطری شہزادے کا تحفہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

محمد مشتاق سپریم کورٹ نے شریف برادران سے ثبوت مانگے تھے۔ ایک لمحہ ٹھہریے۔ ان سے کیوں ثبوت مانگے؟ کیا ملزم سے صفائی کا ثبوت مانگا جاتا ہے؟ جی ہاں۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیس میں ملزم کو اپنی صفائی ثابت کرنی پڑتی ہے۔ نیب کے قانون پر ہی نظر دوڑائیے۔ اس لیے اگر تحریک انصاف ثبوت نہ بھی پیش کرسکی (اس پر شام کو گفتگو کریں گے، ان شاء اللہ) تب بھی شریف برادران کی جان چھوٹنے والی نہیں ہے، جب تک کہ وہ اپنی صفائی ثابت نہ کردیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ان کے جرائم کا ثبوت فراہم کرنا بھی اصلاً حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے حکومت نواز صحافی کوچہ گردوں کی باتوں کو بہت زیادہ اہمیت نہ دیں۔\n\nاس وقت تو شریف برادران کی جانب سے پیش کیے گئے ایک ”ثبوت“ پر مختصر تبصرہ کرنا ہے۔ شریف برادران نے سپریم کورٹ میں ایک قطری شہزادے کی جانب سے بیان جمع کرایا ہے جس کی رو سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس شہزادے کی جانب سے دی گئی رقم سے ہی لندن فلیٹ خریدے گئے تھے۔ یہ بیان ان کے دیگر بیانات کے ساتھ کس حد تک متصادم ہے، اس پر تو بعد میں گفتگو کریں گے ، ان شاء اللہ۔ سردست اس ”تحفے“ کے بارے میں صرف ایک حدیث پیش کرنی ہے جو یہ ”ثبوت“ دیکھ کر یاد آگئی ہے۔ \n[pullquote]استعمل رسول اللہ ﷺ رجلا علی الازد یقال لہ ابن للتبیہ، فلما قدم قال ھذا لکم وھذا اھدی لی فقام النبی ﷺ فَحَمدَ اللہ واثنٰی علیہ ثم قال اما بعد فانی استعمل الرجل منکم علی العمل مما ولا فی اللہ فیقول ھذا لکم وھذا ھدیہ اھدیت لی، افلاجلس فی بیت ابیہ وامہ حتیٰ تاتیہ ھدیتہ ان کان صددقاً۔(متفق علیہ)[/pullquote]\n\n”رسول اللہ ﷺ نے ابن اللتبیہ نامی ایک شخص کو قبیلہ ازد پر عامل بنا کر بھیجا۔ جب وہ وہاں سے سرکاری مال لے کر پلٹا تو بیت المال میں داخل کرتے وقت اس نے کہا کہ یہ تو ہے سرکاری مال، اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ اس پر حضور اکرمﷺ نے ایک خطبہ دیا اور اس میں حمد وثنا کے بعد فرمایا، میں تم میں سے ایک شخص کو اس حکومت کے کام میں جو اللہ نے میرے سپرد کی ہے، عامل بنا کر بھیجتا ہوں تو وہ آکر مجھ سے کہتا ہے کہ یہ تو ہے سرکاری مال اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے، اگر یہ سچ ہے کہ لوگ خود ہدیے دیتے ہیں تو کیوں نہ وہ اپنے ابا اور اماں کے گھر بیٹھا رہے کہ اس کے ہدیے اسے وہیں پہنچتے رہتے؟“

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں