قوم بنانے کا بندوبست ہے؟ کیا ہم تیار ہیں؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش انگریزی زبان میں ایک ضرب المثل ہے Murphy’s Law، اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ جو خرابی بھی ممکن ہے وہ واقع بھی ہو کر رہے گی.\n\nیعنی کسی کام کی پلاننگ، تخمینہ، اس کے اجراء اور اس کی راہ میں حائل دشواریوں کا اندازہ قائم کرتے وقت یہ اصول پیش نظر رہے کہ غلطی کی گنجائش صفر ہے. کسی بھی صورت خود کو تساہل کا موقع نہ دیں اور ہمہ وقت چوکنا اور تیار رہیں. نیز، زیر نظر معاملہ کے ضمن کسی بھی طرح چُوک جانے کے بعد خوش قسمتی یا بچت کے ہرگز کوئی امید نہ رکھیں.\nہوشیار، مستعد اور خبردار رہنے کے لیے مرفیز لاء سے بہتر کوئی فارمولا نہیں.\n\nپاکستان اس وقت جس علاقائی جنگ میں گھرا ہوا ہے وہ اسی مرفیز لا کے کلیہ پر پاکستان پر تھوپی گئی ہے. جہاں جہاں، جیسے جیسے اور جتنا جتنا نقصان پاکستان کو پہنچایا جا سکتا ہے اسے میں کچھ کمی نہ رہنے پائے. دہشت گردی، بد امنی، افواہ سازی، بد دلی، بین الاقوامی پریس میں معاندانہ کوریج، سفارتی کشمکش یا پھر سرحدی جھڑپیں (جیسا کہ ان دنوں لائن آف کنٹرول پر جاری ہیں) …. سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں جس سے پاکستان کی مشکیں کسنے کا عمل جاری ہے .\n\nدشمن کا حقیقی مقصد نہ کسی شیعہ کو مارنا ہے، نہ سنی کو…. اصل ہدف ہے فرقہ وارانہ منافرت و فسادات. اس کے لیے اِس کو بھی مارا جائے گا اور اُس کو بھی. دیوبندی / بریلوی خلیج نظر آئے گی تو اسے بھی یوں ہی نہیں جانے دیا جائے گا اور اپنے اہداف کے حصول کے لیے وہاں بھی خونریزی کی جائے گی. اسی طرح دہشت گردی کے واقعات میں زیادہ سے زیادہ جانی نقصان والے ٹارگٹ چنے جائیں گے تاکہ حکومت اور عوام، یا پھر سیکورٹی اداروں اور عوام کے مابین عدم اعتماد کو ایک مستقل عامل بنا کر رکھا جائے. نہ پنجابی سے غرض ہے نہ بلوچ و سندھی سے. نہ خیبر پختونخوا سے لگاؤ ہے نہ کراچی والوں سے. ہر وہ واردات یا طریقہ واردات روا ہو گا جس کی بدولت علاقائی عصبیت کو ہوا دی جا سکے.\nان تمام باتوں کی تہہ میں ”ام المقاصد“ یہ ہے کہ قوم کو اس قدر وساوس میں مبتلا کر دیا جائے کہ وہ بحیثیت ایک قوم کے عمل اور ردعمل کی صلاحیت کھو بیٹھے.\n\nہمارے ہاں 14 سال کی مسلسل کوشش سے اب وہ اس قابل تو ہو چلے ہیں کہ کسی بات کو بھی عوامی پذیرائی کا مرکز بنا دیں. اب تو عمران خان صاحب کوئی دھرنا نہیں دے رہے تھے، پھر شاہ نورانی دھماکے سے نواز شریف صاحب کو کیا فائدہ پہنچانے کی کوشش ہوئی ؟ یا ان دنوں تو نواز شریف صاحب کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں تو پھر کنٹرول لائن پر لاشوں کے مسلسل تحفے کس کے بچاؤ کے لیے ہیں ؟ یہ ضرور ہے کہ سی پیک کا افتتاح ضرور تھا، اگلی صبح جب بلوچستان میں واقع درگاہ کو نشانہ بنایا گیا. اصولاً یہ بات ہمارے لیے زیادہ اہم اور ناقابل فراموش ہونا چاہیے، بجائے اس کے کہ ہم اندرونی سیاست سے ان واقعات کی توجیہ تلاش کرنے لگیں.\n\nاگر مرفی لا پر جنگ مسلط کی جا سکتی ہے تو اس کا دفاع بھی صرف اسی کلیہ سے ممکن ہے. پر وہ طریقہ جس سے دفاع ممکن بنایا جا سکتا ہے، اسے بروئے کار لایا جائے.\nسیکورٹی ایجنسیز ہوں یا حکومت …. ان کا فوکس جہد مسلسل کے بجائے دعوے کرنے اور داد و تحسین سمیٹنے پر زیادہ محسوس ہوتا ہے. ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ ابھی تو ہم القاعدہ کی باقیات سے ہی نمٹ رہے ہیں جو ایک سیاسی ایجنڈے کو لے کر چل رہی تھی جبکہ ہمارے سامنے ایک نیا غنیم داعش کی صورت لا اتارا جا رہا ہے. یعنی جنگ کا ابھی تو محض ایک محاذ کچھ قابو آیا ہے جبکہ یہ تو چومکھی لڑائی ہے. داعش نہ صرف سیاسی عزائم رکھتی ہے بلکہ اس نے اس مقصد کے لیے معاشی اہداف کو ٹارگٹ کرنے کا طریقہ اپنایا ہے. تیل کا مرکزموصل ہو یا پھر شام کا جنوبی علاقہ، اور اب افغانستان اور بلوچستان سب نقشہ ہمارے سامنے ہے.\n\nیہ سب سنگین ترین چیلنجز ہیں تاہم ان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ پاکستان ان سے نبرد آزما ہو کر ایک مضبوط علاقائی طاقت اور خود اعتماد قوم بن کر ابھرے. تاہم اس سب کے لیے ہمیں کچھ محنت کرنا ہوگی، چند اور تیروں کا اپنے ترکش میں اضافہ کرنا ہوگا.\n\nحکومت کا کام ہے کہ وہ ہر صورت گورننس کو بہتر بنائے تاکہ عوام میں مایوسی اور بددلی کا خاتمہ ہو سکے. امن و امان کی صورتحال کو سول سٹرکچر کے ماتحت بہتر بنایا جائے اور بلوچستان میں بھی سب معاملات پولیس کے سپرد ہوں. لیویز کا نظام ختم کر کے سب کو اے ایریا بنایا جائے. نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر پر جنرل جنجوعہ کے بجائے ذوالفقار چیمہ صاحب یا مسعود شریف خٹک صاحب کو لگایا جائے. ہمیں اجیت دوول کی طرح وہ بندہ چاہیے جو مجرم کے دماغ سے بھی سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو. پولیس کی بیک گراؤنڈ والے افسران اس صلاحیت سے مالامال ہوتے ہیں کیونکہ پورے کیریئر میں انہیں جرائم کو قریب سے دیکھنے اور پھر مجرموں کو پکڑنے کے حوالہ سے براہ راست تجربہ ہوتا ہے.\nسیکیورٹی ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں ابھی تک صرف یہاں تک پہنچ پائے ہیں کہ ساٹھ سے ستر فیصد حملوں کو پہلے سے روک پاتے ہیں، بقایا حملے ہو تو جاتے ہیں لیکن بعد میں ٹریس ہو جاتے ہیں. یہ کافی نہیں. ہمیں کم از کم 90 فیصد حملے وقت سے پہلے روکنا ہوں گے. نقصان کا احتمال اتنا بڑھانا ہو گا کہ دشمن حملہ کرنے سے پہلے دس بار سوچے.\nیہ جنگ پاکستان کی حدود کے اندر جاری ہے. اسے دھکیل کر سرحد پار واپس کرنا ہو گا. بھارت کوئی بڑا فوجی حملہ نہیں کرے گا. کنٹرول لائن پر فائرنگ جاری رہے گی. مقصد پاکستان کو زچ کیے رکھنا ہے لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ پاکستان کے پاس اٹیمی ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی جواز نہ بن پائے. یہ ایک مسلسل دباؤ ہے جس کا سامنا صرف جوابی فائر سے ممکن نہیں. کیا ہم بھارت کو کہیں اور مصروف کر سکتے ہیں ؟؟؟ یہ اس وقت کا اہم ترین اسٹریٹیجک سوال ہے.\n\nاس جنگ کو لڑنے اور پھر جیتنے کی دو بنیادی شرائط ہیں .. گورننس اور منکر نکیر کے درجہ کی انٹیلی جنس. یہ سب ہمیں ایک بڑی اور مضبوط قوم بنانے کا بندوبست ہے .. کیا ہم تیار ہیں ؟؟؟

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

Protected by WP Anti Spam