قومی شاعر کےنام پر ایسا بھیانک مذاق؟ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

15036365_1216647801707184_6204532957496783179_n سوال نمبر 5.\nاپنی بڑی بہن کے بارے میں مضمون لکھیں خاص طور پر یہ چیزیں ضرور بتائیں\n1. بہن کی عمر کتنی ہے؟ Age\n2. جسمانی سائز کیا ہے؟ Physique\n3. قد کتنا ہے؟ Height\n4. دیکھنے میں کیسی ہے؟ Looks\n5. رویہ کیسا ہے؟ Attitude\n\nعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کے لیے عمر کی کوئی معیاد نہیں. دسویں جماعت کا شاگرد پچاس سال کا بھی ہو سکتا ہے، 25 یا 15 کا بھی. شاید ان کی ذہنی بلوغت کا امتحان مقصود تھا جو ایسا شاندار سوالنامہ ترتیب دیا گیا اور رہنما نکات ہمراہ کیے گئے کہ کوئی معاشرتی حدود و قیود کا مارا مناسب جواب دینا چاہے تو اس کی راہ مسدود کی جا سکے.\n\nبس ایک اہم نکتہ بھول گئے کہ جس کی کوئی بڑی بہن نہیں، کیا وہ اپنی چھوٹی بہن کا سراپا بیان کر دے، اور جس کی کوئی بہن ہی نہیں، وہ کیا کرے؟ لازمی سوال کے جواب میں بھابی، ماں، کزن، محلےدار یا دوست کی بہن کا سراپا بیان کر سکتا ہے؟ اور کیا وہ سوال لکھنے والے پیپر سیٹر کی بہن کو اپنی منہ بولی ”بڑی بہن“ مان کر اس کا سراپا تفصیلا بیان کر سکتا ہے.\n\nہر سوال کے دو جواب ممکن ہوتے ہیں، درست یا غلط. اسی طرح ہر رویے کے دو رخ ہوتے ہیں، اچھا رخ یا برا رخ. مجھے اپنی ناسمجھی کا اعتراف ہے اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل نہ کر سکنے کو اس کی وجہ گردانتی ہوں کہ میں اس سوال نمبر 5 کے اچھے رخ کو سمجھنے سے قاصر ہوں. اس کے صحیح اور غلط ہر دو جواب کو غلط ہی مانتی ہوں.\n\nمسئلہ سوال کی حرمت کا ہے اور میں اس سوال کو اس کے جواب سمیت ”حلال“ نہیں سمجھتی.\n\nہو سکتا ہے یہ پرچہ بائیولوجی کا ہو جس میں خاتون کے سراپے کا بیان کیا جانا ضروری ہو، یا یہ سوال آرٹس کی ڈرائنگ کلاس کا ہو جس میں مستقبل کے مصور یا مجسمہ ساز کی آبزرویشن اور تخیل کی رسائی کا جائزہ لینا مقصود ہو. ہو سکتا ہے کہ یہ سوال محض اپنے شاگردوں کو ”ضبط اشتعال“ کی تربیت دینے کے لیے لکھا گیا ہو.\n\nاور یہ بھی ممکن ہے کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ممتحن اپنی یونیورسٹی کو روشن خیال ظاہر کرنا چاہتے ہوں. اس پوائنٹ پر میں آپ سے متفق ہوں. آپ نے ”روشن خیالی“ (جسے ہمارے معاشرے میں غیرت کے متضاد کے لیے مستعمل دو لفظی ترکیب سے یاد کیا جاتا ہے) کی دوڑ میں اہل مغرب کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیا. ایسا سوال تو گوری اقوام بھی اپنے پرچوں میں شامل نہیں کر سکتیں.\n\nاگر یہ کوئی نجی سروے ہوتا تو ہم اس متعلقہ ادارے کو مسلم معاشرے کی بنیاد کے خلاف کام کرنے والی استعماری قوتوں کا نمائندہ مانتے، لیکن ہماری قومی یونیورسٹی کے سرکاری طور پر منظور شدہ پرچے میں ایسے سوال کا پوچھے جانے اور اس پر ڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا اس سوال کو عام روٹین کی بات قرار دینے کی کوشش کرنے کو کس خانے میں فٹ کیا جائے؟\n\nسب سے بڑا نکتہ یہ ہے کہ کسی کو استاد کی سیٹ دینے سے پہلے اس کا نفسیاتی معائنہ ضرور کیا جائے کہ یہ استاد شاگردوں کو ”کیا“ پڑھانے کے لیے ادارے میں آیا ہے.\n\n.. nip the evil in the bud. ..\nحکومت پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن HEC اس معاملے کا نوٹس لے اور تمام تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے تعلیمی یا تخریبی مواد کا ازسرِنو جائزہ لے.\n\nڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا اعتراف\n

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam