تین محکمے‘ تین سوال-اوریا مقبول جان

orya\n\nجمہوریت ہو یا آمریت‘ شہنشاہت ہو یا کمیونزم‘ کسی بھی نظام کے تحت قائم ریاست میں ایک عدالتی نظام ضرور موجود ہوتا ہے۔ یہ عدالتی نظام کتنا ہی مفلوج کیوں نہ ہو‘ اس کو بادشاہ کے فرامین یا پارلیمنٹ کے قوانین نے بے بس کیوں نہ کر دیا ہو‘ پھر بھی یہ تمام ریاستیں‘ عدالتی نظام کا ایک ہی اعلیٰ و ارفع مقصد بیان کرتے ہیں اور وہ ہے ’’ہر حال میں عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا‘‘۔ یہی اعلیٰ و ارفع مقصد دنیا کے ہر ملک کی سب سے بڑی عدالت کی بنیادی ذمے داری تصور کیا جاتا ہے۔\n\nبادشاہ غلطی کر سکتا ہے‘ بے انصافی سے کام لے سکتا ہے‘ پارلیمنٹ قوانین بناتے وقت کسی کا حق غضب کر سکتی ہے‘ کسی چور‘ ڈاکو یا بددیانت کو تحفظ دے سکتی ہے‘ آمر یا ڈکٹیٹر کا تعصب لوگوں کو انصاف سے محروم کر سکتا ہے‘ لیکن ان سب کے خلاف دادرسی‘ فریاد یا انصاف اور عدل کی درخواست صرف اور صرف عدالت عظمیٰ میں کی جا سکتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کبھی کسی نے یہ الٹی گنگا نہیں بہائی کہ قاضی‘ جج یا عدلیہ کے خلاف بادشاہ‘ صدر‘ یا وزیراعظم کو اپیل یا درخواست دی جائے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ حرف آخر سمجھا جاتا ہے‘ کیونکہ سلطنت کے کسی اور ادارے کا مقصد اولیٰ ’’عدل و انصاف کی فراہمی‘‘ نہیں ہوتا۔ کوئی ادارہ تعلیم مہیا کرتا ہے تو کوئی صحت کی سہولیات‘ کوئی سڑکوں کا جال بچھاتا ہے تو کوئی امن و عامہ کی ذمے داریاں نبھاتا ہے۔\n\nاپنی ذمے داریاں نبھاتے ہوئے جب یہ ادارے کوتاہی کریں‘ بے انصافی سے کام لیں تو اس وقت عدالتی نظام انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ اسی لیے دنیا کے جدید ترین جمہوری معاشروں میں آئین کے اندر سپریم کورٹ کے اختیارات کے ضمن میں ایک شق یا آرٹیکل ایسا ضرور رکھا جاتا ہے جس کے مطابق سپریم کورٹ کے اختیارات لامحدود ہوتے ہیں۔ وہ انصاف کی فراہمی کے لیے کوئی بھی طریق کار اختیار کر سکتی ہے اور کسی بھی قانون میں پائی جانے والی بددیانتی اور ناانصافی کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 184(3) اسی مقصد کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔ اس سے ملتے جلتے آرٹیکل دنیا کے ہر ملک کے آئین میں موجود ہیں جو اپنے ملک کی عدالت کو عدل و انصاف کی فراہمی کے لیے لامحدود اختیارات دیتے ہیں۔\n\nپاکستان کے آئین کا آرٹیکل 184(3) کہتا ہے ’’آرٹیکل 199 کے احکام پر اثر انداز ہوئے بغیر عدالت عظمیٰ کو‘ اگر وہ یہ سمجھے کہ حصہ دوم کے باب (1) کے ذریعے تفویض شدہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے سلسلہ میں عوامی اہمیت کا کوئی سوال درپیش ہے مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ نوعیت کا کوئی حکم صادر کرنے کا اختیار ہو گا‘‘۔\n\nیہ ہے وہ بنیادی مقصد کہ اگر کوئی عوامی اہمیت کا سوال درپیش ہو تو عدالت آرٹیکل 199 کے تحت دیے گئے وسیع اختیارات بھی اور اس کے علاوہ بھی کوئی حکم صادر کر سکتی ہے۔ اس میں سب سے اہم نکتہ عوامی ’’اہمیت کا حامل‘‘ ہونا ہے اور دوسرا بنیادی حقوق کی فراہمی ہے۔ ایک کرپشن فری اور مبنی پر انصاف حکومت‘ پاکستان کے عوام کا بنیادی حق ہے‘ جب کہ اس کرپشن کے حوالے سے حکومتی کرپشن اور بددیانتی اس وقت پاکستان کا سب سے اہم عوامی اہمیت کا مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما لیکس کے معاملے میں ’’عوامی اہمیت‘‘ کے مسئلہ کو سننا شروع کیا ہے۔\n\nاس وقت سے لے کر اب تک عوام سے نہیں بلکہ سیاسی افراد کی جانب سے ایک بحث کا آغاز کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو ایسا کرنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ اس بحث کا عوام سے کوئی تعلق نہیں‘ عوام تو بددیانت اور کرپٹ حکمرانوں کو کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس بحث کو چھیڑنے کا اصل مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ عدالت کے اعلیٰ و ارفع مقصد یعنی ’’انصاف کی فراہمی‘‘ کو متنازعہ بنایا جائے۔\n\nپاناما لیکس کا مسئلہ سپریم کورٹ تک اس لیے پہنچا کہ پاکستان میں کرپشن اور بددیانتی کے خاتمے کی ذمے داری تین اداروں کے پاس ہے۔ -1نیب‘-2 ایف آئی اے اور -3فیڈرل بورڈ آف ریونیو۔ اگر یہ تینوں ادارے اپنی ذمے داریاں نبھاتے توآج پاناما لیکس کا عفریت عوام کے دماغوں پر نہ چھایا ہوتا۔ اگر پاکستان کا کوئی محکمہ اپنی ذمے داریاں ادا نہ کرے تو سپریم کورٹ بلکہ ہائی کورٹ بھی ان کی درستگی کے لیے حکم جاری کر سکتی ہے۔\n\nسپریم کورٹ اگر اس کیس کے دوران نیب کے حکام کو بلا کر سوال کرے کہ تمہارے قانون کے مطابق اگر کسی حکومتی اہلکار یا فرد پر الزام ہو کہ اس نے کرپشن کی ہے‘ ناجائز ذرایع سے جائداد اور کاروبار کیا اور اپنے معلوم ذرایع سے زیادہ دولت کا مالک ہے تو نیب کا فرض ہے کہ وہ اس شخص کو بلائے اور اسے فرد جرم سنائے پھر یہ اس فرد کی ذمے داری ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ بے قصور ہے۔ کیا نیب نے پاناما لیکس کے تمام کرداروں کو اس طرح نوٹس جاری کیے اور کیا جواب نہ آنے پر انھیں گرفتار کیا۔\n\nسپریم کورٹ ایف آئی اے کے حکام کو طلب کر کے یہ پوچھ سکتی ہے کہ کیا تمہارے علم میں آیا تھا کہ اس ملک کے کچھ لوگ جن کا یورپ یا بیرون ملک کوئی کاروبار نہیں‘ وہاں اچانک جائیداد خریدتے ہیں اور کاروبار کا آغاز کرتے ہیں۔ یقیناً پیسہ پاکستان سے گیا ہوگا‘ جسے منی لانڈرنگ کہتے ہیں۔ تم ایک عام آدمی کو خاندان سمیت اٹھا لیتے ہو‘ کیا تم نے اس معاملے میں ایسا کیا۔سپریم کورٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کو بلا کر سوال کر سکتی ہے کہ تمہارا ایک انسپکٹر اگر کوئی شخص ایک گاڑی خرید لے‘ چھوٹا سا گھر بنا لے تو اس کا جینا دوبھر کر دیتا ہے۔ تمہارے سامنے ان لوگوں کی جائیدادیں ایسے بڑھتی چلی گئیں جیسے ان کو اعلیٰ قسم کھاد ملتی رہی۔ وہ مٹی کو ہاتھ ڈالتے تو وہ سونا بن جاتی۔ کیا تمہارے ریکارڈ کے مطابق یہ سب درست ہے۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ انکم ٹیکس کے انسپکٹر سے لے کر کمشنر تک سب اس ’’قسمت کی باوری‘‘ کا بھید جانتے ہیں۔ سپریم کورٹ ان پچاس سالوں کے بارے بھی جواب طلب کر سکتی ہے۔\n\nاگر یہ تینوں محکمے اپنی مجبوری کا اظہار کر دیں اور کہیں کہ ہم دباؤ کی وجہ سے ہاتھ نہیں ڈال سکتے تو سپریم کورٹ کو چاہیے کہ ایک حکم نامے کے ذریعے تینوں محکموں کو فوراً ختم کردے اور اس کے افسران کو فارغ کرنے کا حکم صادر کرتے ہوئے ممکنہ سزا بھی سنا دے۔ صرف اس حکم نامے کی وارننگ کی دیر ہے‘ ملک بھر سے ایسے ہزاروں اہل کاروں کا ہجوم سپریم کورٹ کی طرف یہ کہتے ہوئے بھاگے گا کہ ہم اس کرپشن کی تحقیق کر سکتے۔ ہم اہل ہیں‘ ہم راضی ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا جا سکتا تو پھر آئین کی کتاب سے آرٹیکل 184(3) کو کھرچ کر پھینک دینا چاہیے۔