حجر اسود 6گھنٹے صرف خواتین کے لیے مختص ہوگا – غلام نبی مدنی

سعودی عرب کی شوری کونسل میں خواتین کے لیے حجر اسود کا ٹائم ٹیبل خاص کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں خواتین کو حجر اسود کا بوسہ دینے کے لیے دن بھر تین اوقات مخصوص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جن میں ہر دورانیہ کم ازکم دو گھنٹے پر مشتمل ہوگا۔ یعنی چوبیس گھنٹوں میں 6 گھنٹے حجر اسود صرف خواتین کے لیے مخصوص ہوگا۔ سعودی شوری کونسل میں اسلامی امور کی مخصوص کمیٹی کی رکن ڈاکٹر موضی دغیثر کے مطابق یہ اقدام خواتین کی سہولت کے لیے کیا جا رہا ہے۔ عنقریب ووٹنگ کے ذریعے اس کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔\r\n\r\nحجر اسود بیت اللہ کے جنوب مشرقی کونے میں نصب سرخی مائل 20 سینٹی میٹر کا وہ جنت کا کالا گول پتھر ہے جس سے بیت اللہ کے طواف کی ابتدا کی جاتی ہے اور طواف کا ساتواں چکر ختم بھی حجر اسود پر کیا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو چاندی کے خول میں بند کرکے نصب کیا تھا۔آخری مرتبہ 1422 ہجری میں سعودی عرب کے بادشاہ فہد بن عبدالعزیز نے اس کی چاندی کے خوبصورت خول میں ترمیم وتزئین کی تھی۔اس سے پہلے حجراسود پر چاندی کا خول نہیں چڑھایا جاتاتھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حجراسود جب جنت سے لایا گیا تو برف کی طرح سفید تھا پھر بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے کالا ہوگیا (ترمذی )اسی وجہ سے حجر اسود کو حجر اسود (کالا پتھر) کہا جاتا ہے۔ ایک دوسری حدیث کے مطابق طواف کے دوران حجر اسود کو بوسہ دینا سنت ہے۔اگر بوسہ دینے کا موقع نہ ہو تو ہاتھ یا چھڑی وغیرہ کے اشارے سے اس کابوسہ لیا جاسکتا ہے اور اگر اس کی بھی گنجائش نہ ہو تو ”بسم اللہ اللہ اکبر“ کہہ کر ہاتھ کے اشارے سے اس سنت پر عمل کیا جاسکتا۔ حجۃ الوداع کے موقع رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر طواف کیا اور ازدحام کی وجہ سے چھڑی کے اشارے سے حجر اسود کا استلام کیا تھا (متفق علیہ) ایک روایت کے مطابق آپ نے اس چھڑی کو بوسہ بھی دیا تھا۔ خلیفہ راشد عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت انہوں نے فرمایا کہ ”اے حجر اسود مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ کسی کو نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کو بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو کبھی آپ کو بوسہ نہ دیتا“۔ ابن عمر کی روایت کے مطابق حجر اسود اور رکن یمانی کو چومنا اور ہاتھ پھیرنا گناہوں کو مٹا دیتا ہے(حدیث مسند احمد)۔ ابن عباس کی روایت کے مطابق سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم قیامت کے دن حجر اسود کو اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کی دو آنکھیں اور زبان ہوگی جن سے وہ دیکھ کر حجراسودکو بوسہ دینے والوں کی گواہی دے گا۔ (حدیث ابن ماجہ )۔\r\n\r\nحجر اسود پر کئی حوادث بھی گزرے ۔ابن اسحاق کی روایت کے مطابق جب قبیلہ جرہم مکہ سے نقل مکانی کرنے لگے تو ان کے قبیلے کے آدمی عمر وبن الحارث الجرہمی نے حجراسود کو نکال زمزم کے پاس دفن کردیا۔ کسی خاتون نے یہ منظر دیکھ لیا اور لوگوں کو اطلاع کر دی تو انہوں نے واپس ا س کو بیت اللہ میں نصب کردیا۔ یمن کی قوم تبع بھی حجراسود کو نکال کرساتھ لے گئے، قریش مکہ کی مزاحمت کے بعد انہوں نے حجراسود واپس کردیا۔ بعثت سے پہلے قریش مکہ جب کعبہ کی تعمیر کرنے لگے تو حجراسود کی تنصیب کے وقت قبائل قریش میں باہم اختلاف ہوا تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت 35سال کے تھے۔ آپ نے قریش کے مابین صلح کروائی اور اپنی چادر میں حجراسود رکھ کر سب قبائل کو چادر پکڑنے کا کہا، یوں سب شریک ہوئے اور تنازعہ ختم ہوگیا۔ حجراسود پر سب سے بڑا حادثہ 317 ہجری میں آیا جب قرامطہ نے کعبہ پر حملہ کیا اور حجر اسود کو نکال کر عراق لے گئے۔ تقریبا 22 سال تک انہوں نے حجراسود کو غائب کیے رکھا۔ بعدازاں 339 ہجری میں انہوں نے واپس کیا۔\r\n\r\nحجراسود کی عظمت مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حج اور عمرے کے لیے آنے والے لوگوں کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ جنت کے اس عظیم پتھر ”حجر اسود“ کو ضرور چومیں۔ لیکن رش کے باعث بہت سے لوگ اس خواہش کو پورا نہیں کرپاتے۔ حجر اسود کی خاطر کئی بار دھکم پیل کی وجہ سے لوگ اپنی جان بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ خواتین کے لیے حجر اسود کو چومنا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔ عام طور پر خواتین حجر اسود کو چومنے کی خواہش دل میں لیے واپس چلی جاتی ہیں۔ لیکن اب سعودی شوری کونسل نے خواتین کو خوشخبری سنائی ہے۔ اور خواتین کے لیے مخصوص ٹائم ٹیبل مقرر کرکے ان کی دلی خواہش کو پورا کرنے کاعزم کیاہے۔ خواتین کے لیے حجراسود کی تخصیص اس وقت ناگزیر ہے کیوں کہ رش کی وجہ سے خواتین حجراسود کے قریب جانے کا تصور نہیں کر سکتیں اور جو ہمت کر کے چلی جاتی ہیں تو مردوں کے اختلاط اور دھکم پیل کی وجہ سے کافی دقت کا سامنا کرتی ہیں۔ اس لیے اگر خواتین کے لیے حجر اسود کو بوسہ دینا کا ٹائم مخصوص کرلیا جائے تو بہت سی پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ مسجد نبوی میں ریاض الجنۃ میں خواتین کے لیے ٹائم ٹیبل مقرر ہے۔ الحمدللہ خواتین ریاض الجنۃ میں باآسانی نوافل اداکرتی ہیں۔ بالکل اسی طرز پر خواتین کے لیے حجراسود کی تخصیص کا یہ اقدام بہت اچھا ہے۔ اس سلسلے میں عالم اسلام بالخصوص رابطہ عالم اسلامی کے علماء کو سعودی حکومت کی توجہ اس اقدام کی طرف مبذول کروانی چاہیے تاکہ وہ شوری کونسل کے اس فیصلے کو جلد عملی جامہ پہناسکیں۔ پاک و ہند کے علمائے کرام کو بھی اس سلسلے میں اپنی سفارشات سعودی حکومت اورحرمین شریفین کی انتظامیہ تک پہچانی چاہییں، تاکہ خواتین کے اختلاط اور دیگر پریشانیوں سے بچا جا سکے۔ پاک وہند کے علماء کی بات الحمدللہ بڑی حد تک سنی جاتی ہے۔ ملک عبدالعزیز کے دور میں جب گنبد خضری کے انہدام کا فیصلہ کیا گیا، تو اس وقت مشترکہ ہندوستان کے دو جید عالم مولانا شبیراحمد عثمانیؒ اور مولاناابوالحسن علی ندویؒ کی مدلل گفتگو اور بھرپور جدوجہد سے سعودی علماء اور حکومت اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔ اس لیے پاک و ہند کے علماء کو اس سلسلے میں اپنی تجاویز ضرور پہچانی چاہییں۔ یہ وقت کی ضرورت اور خواتین کی سہولت اور دیگر پریشانیوں سے بچنے کا سبب ہے۔ اللہ کرے سعوی شوری کونسل جلد اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنائے تاکہ خواتین بھی جنت کے عظیم پتھر حجر اسود کو باآسانی چوم کر اپنے دلی ارمان پورا کرسکیں۔

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam