یارب تیرے بندے ان ”شریف حکمرانوں“ سے کیسے نجات پائیں؟ زبیر منصوری

زبیر منصوری\n\nاے اللہ ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کیا تو اپنے رحم سے ہماری سزا معاف نہیں کر سکتا؟\nاے اللہ کیا ہماری جان ان ”شریفوں“ سے کسی طرح چھوٹ نہیں سکتی؟\nاے اللہ ہم کن ظالموں کے اقتدار میں رہ رہے ہیں جو ہماری عورتوں کو سر بازار رسوا کرتے ہیں.\nاے اللہ جو سیاسی مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں.\nاے اللہ جن کے لیے انسان کی حثیت ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں.\nظالم شہباز شریف اور مستقبل کے بےرحم حاکم حمزہ شہباز! یہ عورت کیا تمہاری رعایا نہیں؟ کیا یہ تمہیں کہیں سے کلثوم اور مریم نواز نہیں لگتی؟ کیا اس کی بار بار سر سے اترتی چادر تمہاری حمیت کو کوئی کچوکا نہیں لگاتی؟\nتمہارے تنخواہ دار بوٹ پالشیے اور مالشیے کہیں گے کہ اس نے قانوں ہاتھ میں لیا ہے، قانون کو پتھر مارا ہے مگر مجھے بتاؤ کہ کیا یہ قانون واقعی سنگسار کر دیے جانے کے قابل نہیں؟ معاشرے کی بےبس عورت کیا کرے؟ کیا تم نے اپنے دہائیوں کے اقتدار میں اس کے لیے سستے اور آسان انصاف کا کوئی دروازہ بنایا ہے؟\nتم جمہوری حاکموں سے تو وہ بادشاہ اچھے تھے جنہوں نے اپنے دروازوں پر زنجیر عدل لٹکا رکھی تھی، تم نے تو وہ کتے باندھ رکھے ہیں جو کسی کو تمہارے قریب نہیں پھٹکنے دیتے، اسی لیے تم موت کے خوف سے سات پہروں میں بھی سکون سے محروم ہو۔\nکوئی بتائے کہ آخر معاشرے کی مظلوم بے بس عورت جائے کہاں؟\nظالمو! ایسے لوگوں کو تو قرآن بھی تلخ نوائی کا حق دیتا ہے تم وہ بھی چھین لینا چاہتے ہو؟\nفرض کرو اس عورت کا رویہ غلط تھا، فرض کرو یہ جھوٹ بول رہی تھی۔\nتو کیا پھر یہ اس سلوک کی حق دار تھی؟\nکیا اس کا ”حق“ اسے گھر کی دہلیز پر دیا گیا تھا کہ اس سے اس کے ”فرض“ پورا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا؟\nکیا اگر یہ غصہ میں شاہدرہ چوکی آن پہنچی تھی تو کوئی اسے نرمی سے سمجھانے والا نہیں تھا؟\nکوئی اس کی بات سن کر اس کے دکھ کا مداوا کرنے والا نہیں تھا؟\nسڑکیں اور پل تعمیر کرنے کو ترقی سمجھنے والو انسانوں کے رویوں کی تعمیر اصل ترقی ہے۔\nخدا کے لیے بھارت اور چین کے اسٹریٹجک ایجنڈوں میں رنگ بھرنے سے پہلے اپنے پیارے لوگوں کے کردار میں رنگ بھرنے کے منصوبے بناؤ ورنہ سڑکیں اور راستے بھی بن جائیں گے، ٹرینیں اور پٹڑیاں بھی آباد ہو جائیں گی مگر انسانوں کے کردار اور اخلاق برباد ہو چکے ہوں گے۔\nخاتون پر پولیس تشدد کی ویڈیو\n\n

Comments

FB Login Required

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

Protected by WP Anti Spam