زچگی کا بڑا آپریشن، وجوہات، تجاویز – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

کیا آپ جانتے ہیں کہ زچگی کے بڑے آپریشن کا نام سیزیرین کیوں ہے.. نہیں؟\nاچھا چلیں سن لیں. مزیدار حکایت ہے.. مستند ہے یا نہیں، اس پر یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا. روم کا ایک مشہور بادشاہ گزرا ہے جولیس سیزر .. جولیس سیزر کی والدہ کے ہاں جب جولیس سیزر صاحب کے آنے کی امید پیدا ہوئی، تب اس زمانے کے نجومیوں نے بیٹے کے آنے کی خبر دی .. اب یہ محترم پیدائش سے پہلے ہی ولی عہد کے مرتبے پر فائز کر دیے گئے کیونکہ اتفاق سے ان کا اور کوئی بھائی تھا نہیں .. سو یہ تخت و تاج کے وارث کی حیثیت سے انتہائی قیمتی بھی تھے ..\nجب زچگی کا وقت قریب آیا تو ماہر ترین دائیاں بلائی گئیں تاکہ زچگی کے عمل کو آسان اور محفوظ بنایا جا سکے. ڈاکٹر تو اس وقت ہوتے نہیں تھے. لیکن جناب اللہ کی کرنی کو کون ٹال سکتا ہے ..\nزچگی ماں کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوئی اور بچہ ماں کے کولہے کی ہڈی کے تنگ ہو جانے کی وجہ سے نارملی ڈلیور نہ ہو پایا .. درد کی شدت سے سیزر صاحب کی والدہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہوئی تو سیزر کے والد صاحب نے دائیوں کو پیغام بھجوایا .. میرے تخت کے وارث کو کچھ ہوا تو تم سب کا زن بچہ کولہو میں پلوا دیا جائے گا. اسی دوران سیزر کی والدہ نے آخری سانس لی اور رب کو پیاری ہو گئیں .. اب کوئی اور رستہ باقی نہ تھا، سینئر موسٹ دایا نے ایک بہترین فیصلہ کیا اور وقت ضائع کرنے کے بجائے ایک لمبے خنجر سے ملکہ مرحوم کا پیٹ چاک کر کے زندہ بچہ باہر نکال لیا …\nاس زمانے میں بچہ پیدا کرتے ہوئے ماں یا بچہ یا دونوں کا جان سے گزر جانا عام بات تھی لیکن سیزر کے معاملے میں ولی عہد کی جان بچانے کے لیے یہ طریقہ استعمال کیا گیا .. خدا جانے کہ اس کے بعد دائی کے ساتھ بادشاہ وقت نے کیا سلوک کیا لیکن جولیس سیزر صاحب نہ صرف بچ گئے بلکہ ان کی پیدائش کا ذریعہ بننے والا معجزاتی طریق کار دنیا کی ان گنت ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کا سبب بنا .. اس طریقے وضع حمل کو جولیس سیزر کے نام کی مناسبت سے سیزیرین کہا جانے لگا..\n\nتو محترم قارئین! مؤرخ لکھتا ہے کہ دنیا کا پہلا سیزیرین سیکشن ایک دائی اماں کے ہاتھوں سر انجام پایا .. ہے نہ مزے کی بات\n\nلوگ کہتے ہیں کہ گائناکالوجسٹ آپریشنز پیسے کے لیے کرتی ہیں .. درست کہتے ہیں .. ہر پروفیشنل اپنا کام پیسے کے لیے ہی کرتا ہے … کیا؟ .. کیا فرمایا؟ .. آپریشن کی وجہ پیسہ ہے.. ہاہاہا .. جناب کس دنیا کے باسی ہیں .. آپریشن کرنے کے پیسے وصول کیے جاتے ہیں. پیسے وصول کرنے کےلیے آپریشن نہیں کیا جاتا … پیسے ہونا اگر آپریشن کی وجہ ہوتی تو صرف امیر فیملی کے بچے آپریشن سے ہوتے جبکہ کسی غریب کا کبھی آپریشن نہ ہوتا.. اور انگلینڈ یا امریکہ جیسے ممالک میں جہاں بچے کی ڈلیوری کا خرچ گورنمنٹ برداشت کرتی ہے، وہاں تو پھر آپریشن ہونا ہی نہیں چاہیے..\n\nاچھا تاج محل .. محبت کی حسین ترین نشانی کس لیے وجود پذیر ہوئی .. ممتاز محل بادشاہ سلامت کی محبت کی سترھویں نشانی کو جنم دیتے ہوئے شدید ترین جریان خون کے باعث دنیائے فانی سے رخصت ہو گئیں .. اگر سیزیرین اس وقت کیا جا سکتا تو شاید تاج محل بننے سے پہلے محبت کی چند مزید نشانیاں دنیا کو مل جاتیں..\n\nبےشک آج کل زچگی کا بڑا آپریشن کرنے اور کروانے کا ٹرینڈ بڑھ رہا ہے .. لیکن اس کی وجوہات میں پیسہ اصل وجہ نہیں .. یہ ایک غلط فہمی ہے جو پراپر ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی سے ابھری ہے .. پراپر کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کیونکہ کچھ غلط فہمیاں ہمارے کویکس اور دائیوں کی پھیلائی ہوئی بھی ہیں …\n\nمیں کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتی ہوں، اگر تعصب کی عینک اتار کر پڑھیں گے تو شاید سمجھ پائیں..\nبڑے آپریشن میں کم از کم دو زندگیاں انوالو ہوتی ہیں یعنی ماں اور بچہ .. ہم دونوں زندگیوں کے حوالے سے آپریشن کی وجوہات سمجھتے ہیں\n\nماں کی وجوہات\nماں بہت کم عمر ہو یا ضعیف العمر، اس کے لیے محفوظ طریقہ وضع حمل آپریشن ہے.\nماں کی کولہے کی ہڈی کا تنگ ہونا (contracted pelvis) .. اس صورتحال میں ہر صورت آپریشن ہی کیا جائےگا.\nماں کا بلڈ پریشر انتہائی زیادہ ہونا (pre eclampsia) یا دورے پڑنا (Eclampsia) .. اس میں بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے، جسم پر سوجن اور پیشاب میں پروٹین کا اخراج ہوتا ہے .. یہ انتہائی سیریس ایمرجنسی ہے، جو ماں اور بچے کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے..\nپچھلے دو یا دو سے زیادہ آپریشن (previous atleast two c -sections)\nپرانے زخم میں درد کا ہونا (scar tenderness )\nماں میں درد کو برداشت کرنے کی ہمت ختم ہو جانا../تھک جانا ( !maternal distress )\nدردوں کے باوجود رحم کے منہ کا نہ کھلنا.. ( failure to progress )\nپیدائش کے راستے میں رکاوٹ کا ہونا مثلا رسولی fibroid\nآنول کا آگے آ جانا (placenta previa complete )\nاگر آنول اس طرح ڈیویلپ ہو کہ اس کی خون کی نالیاں رحم کی گہرائی تک چلی جائیں، تب ایسی صورتحال میں بےشک بچہ نارمل پیدا ہو، یا بڑے آپریشن سے.. ماں کی زندگی بچانے کے لیے آپریشن کر کے کم از کم آنول اور زیادہ سے زیادہ رحم بھی نکالنا پڑ سکتی ہے..\nماں کی خواہش(patient wish) پر بھی آپریشن کیا جاتا ہے جب وہ نارمل ڈلیوری کروانا ہی نہ چاہے تو.\n\nبچہ کی وجوہات\nپہلا بچہ الٹا ہونا (Breech presentation)\nبچے کی پوزیشن ترچھی یا مکمل ٹیڑھی ہونا (Oblique or Transverse lie )\nبچے کی دل کی ڈھڑکن کا بہت تیز یا بہت مدھم ہو جانا .. (Foetal distress )\nبچے کا رحم میں پاخانہ کر دینا (Foetal distress)\nبچہ اگر زیادہ پل جائے (good size baby) .. یعنی زیادہ وزن اور بڑے سائز کا ہو..\nبچے کا سر بڑا ہو (macrosomia) یا اس کے سر میں پانی ہو (hydro cephalus ). ایسا عموما شوگر کے مریضوں میں ہوتا ہے یعنی بچے کا سائز زیادہ بڑا ہو جاتا ہے. جیسے عام طور پر بچےاڑھائی سے تین کلو تک کے پیدا ہوتے ہیں لیکن شوگر پیشنٹ کا بچہ چار پانچ کلو تک کا بھی ہو سکتا ہے .. لیڈی ولنگڈن میں، میں نے 8 کلو کے بچے کی پیدائش بھی دیکھ رکھی ہے. .\nبچے کا چہرہ سامنے ہونا (face presentation).. اس صورت میں آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں. .\n\nمیری ایک مریضہ اس حالت میں میرے پاس ایمرجنسی میں لائی گئی، گھر پر دائی اپنی مکمل کوشش کر چکی تھی اور اس خاتون کا یہ آٹھواں بچہ تھا، جو پیدا نہیں ہو رہا تھا.. دائی کی کشش ناکام ہو چکی تھی لیکن پہلے سات بچے پیدا کروا چکی دائی اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھی .. خاتون کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پر اہل خانہ برستی بارش میں رات کے دو بجے مجھ تک پہنچے .. معائنہ کے فورا بعد میں نے انہیں آپریشن کا کہا .. دائی جو کہ مریضہ کے ساتھ ہی تھی، وہ گھر میں سب کو کہہ چکی تھی کہ ڈاکٹر نے فورا آپریشن کر دینا ہے کیونکہ ڈاکٹر تو کرتی ہی آپریشن ہیں .. مریضہ اور اس کے اہل خانہ آپریشن کے لیے رضامند تھے لیکن مریضہ کی خواہش تھی کہ اس کے شوہر نامدار بھی دوسرے شہر سے پہنچ جائیں، تب آپریشن کیا جائے .. اس سے پہلے آپریشن کروانے کے لیے وہ تیار نہیں تھیں .. تقریبا دواڑھائی گھنٹے طویل انتظار کے بعد میاں صاحب تشریف لائے .. آپریشن کے اجازت نامے پر دستخط کیےگئے، تب آپریشن کیا گیا .. اس دوران زچہ نے مزید درد سہا..\nخیر ماں اور بچہ تندرست ہو کر گھر کو سدھارے .. جب خاتون ٹانکے کھلوانے کے لیے تشریف لائیں تب انہوں نے میرے سامنے ایک اعتراف کیا .. انہی کی زبانی سنیے..\nڈاکٹر صاحبہ! جب آپ نے آپریشن کا کہا تو میں نے آپ کی نیت پر شک کیا کیونکہ میں سات بچےگھر پر نارمل ڈلیور کر چکی تھی تو اب آٹھویں بچے کو آپریشن سے جنم دینا غلط لگ رہا تھا اور دائی کی باتیں بھی ذہن میں اودھم مچائے ہوئے تھیں کہ ڈاکٹرز تو کرتی ہی آپریشن ہیں .. اس لیے میں نے اپنے شوہر کے پہنچ جانے کی ضد کی کیونکہ میں اتنا وقت اور دیکھنا چاہتی تھی .. لیکن دو سے تین گھنٹے مزید انتظار کے باوجود جب بچہ پیدا نہ ہوا تب مجھے آپ کے فیصلے اور نیت دونوں پر یقین آ گیا..\n\nبچہ قیمتی ہونا.. (precious pregnancy)\nویسے تو ہر بچہ ہی قیمتی ہوتا ہے لیکن سات بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والا پہلا بیٹا کتنا قیمتی ہے.. یا شادی کے بیس سال بعد ملنے والی بیٹی کی اہمیت کیا ہے .. ایک کپل کے چار پانچ حمل ضائع ہو جانے کے بعد ملنے والی اولاد کی کیا وقعت ہے .. یہ سب وہی جان سکتے ہیں جو اس سےگزرے ہیں.. سو precious pregnancy کو بھی آپریشن سے ڈلیور کیا جاتا ہے. .\n\nماں اور بچے کے علاوہ کچھ چیزیں اور بھی اہم ہیں. مثلا بچے کی تھیلی میں پانی کی مقدار کم، بہت کم یا بہت زیادہ ہونا.. فوڈ پائپ کارڈ (umbilical cord) کا بچے کی گردن میں لپٹ جانا یا cord accidents placental .. مثلاً کارڈ کا ٹوٹ یا اکھڑ جانا، اور خون کا ضائع ہونا (concealed ‘ hemorrhage ..revealed)، کارڈ کا بچہ کی پیدائش سے پہلے رحم سے باہر نکل آنا .. ماں کے رحم اور بچے کی پوزیشن کا ایک دوسرے کی سیدھ میں نہ ہونا… دردوں کی حالت میں بچے کا غلط رخ پر گھوم جانا جس کی وجہ سے نارمل کے طور پر شروع کیا جانے والا کیس سیزیرین میں تبدیل ہو جاتا ہے.\n\nقارئین! بات بدنیتی کی نہیں ہے .. کچھ وجوہات مزید ہیں، اگر اوپر پوسٹ میں بیان کردہ وجوہات آپ کی نہیں تو دیکھیں ان میں سے کوئی وجہ تو نہیں.\nماں کی تکلیف کی شدت اور طوالت سے اقربا میں بےچینی کا پھیلنا..\nآپ ڈاکٹر کے پاس آخری وقت میں ایمرجنسی کے لیےگئے، اس سے پہلے ڈاکٹر اور مریض ایک دوسرے سے ناواقف تھے یا بہت کم ملاقات تھی، اور اعتبار و اعتماد کا فقدان ہر دو طرف تھا.\nمریض یا اقربا کا ڈاکٹر کی صلاحیت پر عدم اعتماد اور اس کا اظہار\nایک اور دباؤ جو سیزیرین کی ریشو کے بڑھنے کی وجہ ہے، وہ میڈیا کا ہر جگہ پہنچ جانا اور ہمیشہ ڈاکٹر کے خلاف پارٹی بننا.. جس سے ڈاکٹر کی ریپوٹیشن خراب ہونے کا ڈر رہتا ہے. .\nسو کسی برے آؤٹ کم سے بچنے کے لیے بھی آپریشن کا فیصلہ نسبتا جلد لے لیا جاتا ہے.\n\nچند تجاویز. .\nآپ کو جس معالج کی نیت میں کھوٹ محسوس ہو، اس کے پاس مت جائیں.\nڈاکٹر کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں اور پھر اسے اپنا مخلص ترین دوست مان لیں .. یقین رکھیں ایک ڈاکٹر کبھی بھی اپنے مریض کا نقصان نہیں چاہتا..\nاگر آپ افورڈ نہیں کرسکتے تو پرائیویٹ کلینک یا ہاسپٹل مت جائیں .. ماشاءاللہ اب گورنمنٹ ہاسپٹلز میں بہترین کام ہو رہا ہے اور وہاں مریض کی ڈلیوری کا طریق کار طے کرنے کا پیمانہ ”پیسہ“ نہیں ..\nاگر آپ نے پرائیویٹ ڈاکٹر سے ہی ڈلیوری کروانے کا فیصلہ کیا ہے، تب 9 ماہ اسی ڈاکٹر کے کلائنٹ رہیں اور اس کی ہدایات پر نہ صرف عمل کریں بلکہ اپنی ڈاکٹر کو واضح طور پر اپنے ارادے سے آگاہ کریں کہ میں آپ پر اعتماد کرتی ہوں اور آپ ہی سے ڈلیوری کروانے کا ارادہ رکھتی ہوں..\nاپنی گائناکالوجسٹ سے ایک دوستانہ بہن یا بیٹی جیسا رشتہ استوار کریں .. ایسا کرنے سے ڈاکٹر آپ کے ساتھ ایک جذباتی بندھن میں قید ہو جائےگی اور آپ کی بہتری اس کے پیش نظر ہوگی نہ کہ پیسہ..\nاپنی ڈاکٹر سے کیس کی نوعیت، ڈلیوری کی تاریخ، نارمل اور آپریشن پر آنے والے اخراجات پر بات کر لیں اور بعد کی بدمزگی سے بچاؤ کے لیے ہر دو صورت کی فیس طے کر لیں..\n\nمیری چند کولیگز نے اپنی نیت کی شفافیت کے اظہار کے لیے ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے .. میری یہ ساتھی ڈاکٹرز ایک نارمل ڈلیوری کیس کی فیس اور ایک آپریشن کی فیس برابر لیتی ہیں .. اس طرح ان پر یہ الزام کوئی نہیں لگا سکتا کہ وہ پیسوں کے لیے بڑا آپریشن کرتی ہیں .. اگر آپ لوگوں کو یہ بات درست لگتی ہے تو مناسب انداز میں آپ اپنی ڈاکٹر سے یہ بات طے کر سکتے ہیں.\n\n(جملوں کی صورت مجسم ہو جانے والے دل کے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو ڈاکٹر رابعہ خرم درانی شاعرہ ہیں .. سلسلہ روزگار ”ڈاکٹری“ ہے. فیس بک صفحہ)

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam