صوبائیت کی لعنت اور ہمارے اہل علم – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

محمد مشتاق پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر صوبائیت کے خلاف بہت زبردست مہم چل رہی ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہوتی اگر اس مہم میں حصہ ڈالنے والے اہل علم خود صوبائیت میں مبتلا نہ ہوتے ۔ بہت سے لوگ بہت کچھ کہہ رہے ہیں اور اس بہت کچھ کا خلاصہ ایک جملے میں یہ بنتا ہے کہ صوبائیت بہت بڑی لعنت ہے ، بشرطیکہ اس کا اظہار اہلِ پنجاب کے بجائے کسی اور صوبے کے لوگوں کی جانب سے ہو!\n\nپرویز خٹک کی تقریر میں صوبائیت تھی ۔ اس سے ہمیں انکار نہیں ۔ ان پر تبرا کریں ۔ ضرور کریں ۔ تاہم پرویز خٹک کی تقریر سے مختلف اقتباسات لے کر صوبائیت کی لعنت پر بہت سنجیدہ ، پر مغز اور علمی تبصرہ کرتے ہوئے ہمارے دوست یہ بات بالکل ہی نظرانداز کردیتے ہیں کہ جب 2 نومبر سے دو دن قبل صوبۂ پنجاب کے تمام راستے صوبۂ خیبر پختونخوا سے آنے والے تمام لوگوں کے لیے عین صوبۂ پنجاب کی سرحد پر مکمل طور پر بند کردیے گئے تو کیا یہ صوبائیت نہیں تھی؟ یہ بات جس کے سامنے بھی رکھی ،عجیب طرح کے عذر سامنے آئے ۔ وفاق کو بچانا تھا۔ ایک صوبے کا وزیر اعلی حملہ آور ہورہا تھا۔ دہشت گردی کا خطرہ تھا ۔ اور پتہ نہیں کیا کچھ۔\n\nپوچھا کہ کیا اس خطرے سے نمٹنے کا حل اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا کہ ایک صوبے کے تمام راستے دوسرے صوبے کے تمام لوگوں پر مکمل طور پر بند کردیں اور وہ بھی دو دن قبل؟ کیا دار الحکومت کو بچانے کے لیے دار الحکومت کے نزدیک ہی کچھ بندوبست نہیں کیا جاسکتا تھا ؟ عین صوبے کی سرحد پر راستے بند کردینے سے کیا پیغام دیا جارہا تھا؟ کیا یہ کہ اسلام آباد تک جانے والے سارے راستے پنجاب سے ہوکر گزرتے ہیں؟ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ موٹروے بے شک بند کردی جاتی اور جی ٹی روڈ پر رکاوٹیں ڈال دی جاتیں لیکن پی ٹی آئی والوں اور عام لوگوں میں فرق کا کوئی بندوبست کرلیا جاتا ؟ کسی کو جانے دیا جاتا ، کسی کو روک لیا جاتا ۔ اسلام آباد کے قریب زیادہ سختی کی جاتی۔ اہم سوال یہ ہے کہ عین صوبے کی سرحد کو کیوں بند کیا گیا؟ اگر وفاق کا وزیر اعظم اور صوبے کا وزیر اعلی ایک ہی گھر سے نہ ہوتے تو پھر بھی کیا یہی آپشن اختیار کیا جاتا؟ کتنی دفعہ اس سے قبل اسلام آباد پر چڑھائی کی گئی؟ کتنی پارٹیوں نے کی؟ خود اہل پنجاب نے کی؟ لیکن کیا ایسا کبھی پہلے ہوا تھا؟\nاب آئیے ایک اور پہلو کی طرف ۔\n\nہمارے ایک پسندیدہ دانشور نے اپنے بلاگ میں تاریخ کی “پنجابی تشریح ” کرچکنے کے بعد انگریزوں اور “شمال سے آنے والے لٹیروں” کو ایک صف میں کھڑا کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ ڈیورنڈ لائن اس لیے کھینچی گئی کہ ان لٹیروں میں بعض کو افغانستان کی حکومت کنٹرول کرے اور بعض کو انگریز ! یہ زاویۂ نظر لیکن تعصب اور صوبائیت پر مبنی نہیں ہے ۔ یہ بھی فرمایا کہ سوئی گیس برآمد ہونے سے کئی صدیاں پہلے بھی پنجاب خوش حال تھا ۔ پنجاب کی صدیوں قبل خوش حالی کا تو خیر کسی نے انکار نہیں کیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا لمحۂ موجود میں بلوچستان کی سرزمین پر موجود غریب بلوچی کو آپ اس دلیل سے مطمئن کرسکتے ہیں؟ کیا اسے یہ پوچھنے کا حق نہیں ہے کہ آپ صدیوں سے خوش حال سہی ، لیکن سوئی کی گیس سیکڑوں میل دور جاکر رائیونڈ کے محلات میں آپ کے ڈرائنگ روم گرم کرے مگر چند میلوں کے فاصلے پر میرے گھر میں چولہا بھی نہ جلاسکے تو کیا یہ ظلم نہیں ہے؟ اگر میں مان بھی لوں کہ میرے اجداد لٹیرے تھے جنھوں نے آپ کے خوش حال اجداد کو لوٹا تھا، تو کیا اب اس کے کفارے کے طور پر میں آپ کی جانب سے سی پیک میں میرے حق پر ڈاکا ڈالنے کو معاف کردوں؟\n\nپھر جب آپ اپنی خوش حالی کا تذکرہ اس انداز میں کرتے ہیں تو محروم لوگوں کو یہ کیوں نہ یاد آئے کہ اس طرح تو آپ وہی بات کہہ رہے ہیں جو بش نے امریکیوں سے کی تھی کہ ہماری خوش حالی اور ترقی کی وجہ سے مسلمان ہم سے نفرت کرتے ہیں! حضور، آپ سے کوئی نفرت نہیں کرتا ۔ بس اپنی چارپائی کے نیچے ذرا ڈانگ پھیر لیجیے۔ اس سے زیادہ آپ سے کچھ نہیں چاہیے ۔\n\nان دانشور صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ عمران خان پنجاب میں رہ کر بھی پختون عصبیت کو پکاررہا ہے حالانکہ نواز شریف کشمیری ہوکر بھی پنجاب سے ووٹ لیتے ہیں۔ عمران خان جانیں اور ان کی عصبیت۔ یہ سوال بھی ہم نہیں اٹھائیں گے کہ اٹک اور میانوالی کب اور کیسے پنجاب کا حصہ بنے؟ نہ ہی یہ پوچھیں گے کہ کشمیر اور پنجاب کا سکھوں کی حکومت میں کیا انتظامی تعلق اور قانونی رشتہ رہا؟ ہاں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہتے ہیں کہ کشمیری ہونے کے باوجود “جاگ پنجابی جاگ” کا نعرہ کس نے بلند کیا تھا؟\nجب بات اس نعرے تک آہی گئی ہے تو یہاں مجھے ایک نہایت ہی محترم اور عالی مقام مفتی صاحب کی تاویل بھی پیش کرنے دیں ۔ انھوں نے اس نعرے کو کس طرح شریفوں کے کھاتے سے اٹھا کر بے چہرہ اسٹیبلشمنٹ کے نام کردیا ، ملاحظہ کیجیے اور داد دیجیے ۔ فرماتے ہیں :\n\n”میری یادداشت کے مطابق یہ نعرہ بذات خود ن لیگ نے نہیں لگایا تھا نہ ہی ن لیگ کا وجود تھا نواز شریف آئی جے آئی کا حصہ تھے مسلم لیگ کے ایک گروپ کی حیثیت سے جس کا نام یاد نہیں آ رہا ۔ آئی جے آئی کے سربراہ مصطفی جتوئی تھے نواز شریف سمیت یہ سب اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے تھے۔ در حقیقت سندھ کارڈ کے مقابل پنجاب کارڈ انہی قوتوں کی ضرورت تھی جو بے نظیر کو ہر حال میں ہرانا چاہتی تھیں مہاجر کا نعرہ بھی انہوں نے لگوایا اب پی ٹی آئی بھی انہی کی نمائندہ ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ نعرہ گم نام لوگوں کی طرف سے چلایا ضرور گیا تھا جیسے شکریہ شکریہ کے بینر لگتے ہیں لیکن چل نہیں سکا تھا جیسے پرویز خٹک کا نہیں چلا ۔ کوئی صاحب میری معلومات کی تصحیح کر دیں تو ممنون ہوں گا۔”\n\nمیں نے اس پر عرض کیا تھا کہ اتنی خوش گمانیوں کے ساتھ تصحیح کا رسک نہ لیں۔ ہمارے ایک اور دوست نے لیکن مفتی صاحب کی تائید کرتے ہوئے انھیں لقمہ دیا کہ قومی اسمبلی کے الیکشن ہوچکے تھے اور صوبائی اسمبلین کے الیکشن تین دن بعد ہونے تھے۔ اچانک جیسے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل جاتا ہے۔ حضرت نے اس پر عمارت تعمیر کرتے ہوئے فرمایا:\n\nمیری یادداشت کے مطابق ان تین دنوں میں ایک اشتہار بھی چھپا تھا لیکن اس میں جاگ پنجابی جاگ نہیں تھا وہ اشتہار نہ بھی ہوتا تب بھی قومی اسمبلی کے نتائج کا اثر پڑنا ہی تھا۔ اسی لئے محترمہ نے اسی وقت سے قومی و صوبائی الیکشن ایک دن کرانے کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔ 2002 کے الیکشن میں شام کو جب سرحد میں ایم ایم اے کی لیڈ نظر آئی تو بعضوں کو یہ کہتے سنا “پتا ہوندا تے اسیں وی مولویاں نو ووٹ دے دندے۔”\n\nان کمنٹس میں ایک جید عالم دین کی خوش گمانیاں اور تاویلات دیکھیں اور پھر دیکھیے کہ کیا یہی خوش گمانیاں اور تاویلات وہ وہاں بھی دکھاتے ہیں جب کسی اور صوبے کی جانب سے صوبائیت کا نعرہ اٹھے؟ میرا جو گلہ ہے وہ بس اسی حد تک ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

Protected by WP Anti Spam