طیب اردگان سے قوم کیوں چیونٹیوں کی طرح چمٹ گئی؟ زبیر منصوری

11 راز کی باتیں، جو کوئی ایسے راز بھی نہیں ہیں۔\n\n(1) ٹھوس عملی کام، اور اس کو پارٹی کے لیے استعمال کا کرنے کا ٹھیک، خوب سوچا سمجھا مؤثر طریقہ، انتخابی نظام کی تفصیلی تفہیم، اور اس کے گرد دوسروں سے بہتر پلان۔\n(2) مسلسل پلان اے، بی، سی موجود اور عملدرآمد کے لیے تیار (جب پابندی لگی، نئے نام سے کام کے آغاز کا منصوبہ پہلے موجود تھا)۔\n(3) کیموفلاج کام، نعرے نہیں بلکہ کام (بدترین دشمن فوج، خدا بیزار عدلیہ، سکولر عوام، منکر خدا آئین کی موجودگی میں اپنے اصل اہداف کو تا دیر کیمو فلاج کر کے وقت آنے پر بتدریج حکیمانہ اظہار)۔\n(4) قوت بن جانے تک دوسری جماعتون کو چیلنج کیے بغیر اپنا پازیٹو کام، غیر ضروری محاذ کھولنے اور چیلنج کرنے سےگریز، اپنے کام، ماضی، اور خدمت پر فوکس اور برداشت۔\n(5) نوجوانوں کے لیے نعرے نہیں ٹھوس کام اور منصوبے، مثلا دیہات سے نئے آنے والے نوجوانوں کو ٹھکانہ، تربیت، زبان ، آداب ، اسکلز سکھانے کے سینٹرز کا قیام۔\n(6) معاشرے کے سارے طبقات کو کشادہ دلی سے ساتھ لے کر چلنا (اردگان کی فتح پر ساحل کے ایک کونے پر جینز اور اسکرٹ پہنے لڑکے لڑکیاں اکسٹرا پر میوزک بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے کہ ہمارا اردگان جیت گیا اور دوسری طرف نماز شکرانہ پڑھنے والے نوجوان بھی تھے اور اردگان ان کے ساتھ تھا)۔\n(7) مقامی لیڈر شپ (دوکاندار کی طرح کے لوگ جو ہر وقت آبادی کے درمیان موجود اور منظم خدمت کے لیے دستیاب)۔\n(8) ایشوز کی سیاست (اگر علاج، تعلیم، اور روزگار چاہیے تو یہ ہمارا ماضی ہے، ہمیں ووٹ دیجیے، باقی آپ جو بھی ہیں، ہمیں اس سے غرض نہیں، یعنی قوم کی اکثریت کو نظریاتی بنانے کے بجائے بس اپنی پشت پر لانے کی پلاننگ)۔\n(9) ایک ایک کر کے دشمنوں کو سنگل آؤٹ کرنا، تب تک ان کا ظلم برداشت کرن، (گویا ہوم گراؤنڈ پر لا کر ان سے چھٹکارا پانا یا ان کو غیر مؤثر کرنا)۔\n(10) مقصد نظریہ ہے، حکمت عملی کوئی بھی ہو سکتی ہے، (جب سمجھا کہ نظریہ کی راہ میں اپنی پرانی قیادت رکاوٹ ہے، بولڈ فیصلہ کیا اور ایک مخالفانہ جملہ کہے، گندگی اچھالے بغیر اللہ کے لیے استاد کو چھوڑ دیا، (اردگان کے کسی بھی فیصلے سے اختلاف ممکن ہے۔)\n(11) اہم ساتھیوں نے اردگان کی خامیون سے صرف نظر کیا، تلخ مزاجی، سخت گیری، بیٹوں پر کرپشن کے الزام، سب کے باوجود ساتھ چلے، ساتھ رہے۔\n\nگویا ایک لمبے، سوچے سمجھے، منصوبے پر مستقل مزاجی سے نتیجہ خیز ہونے تک عملدرآمد۔\nکوئی چاہے تو سیکھنے کو بہت کچھ ہے مگر اس کے کے لیے وقت چاہیے۔ ہے نا؟\nبات سمجھ میں آئے تو آگے بڑھائیں، ورنہ آگے بڑھ جائیں۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں