دیت، عاقلہ اور ٹریفک حادثات – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

محمد مشتاق 1۔ اسلامی قانون کی رو سے قتلِ خطا کی صورت میں دیت کی ادائیگی لازم ہے، الا یہ کہ مقتول کے ورثا اسے کلی یا جزوی طور پر معاف کردیں۔\n2۔ دیت کی ادائیگی کی ذمہ داری تنہا اس شخص پر نہیں جس کی خطا کی وجہ سے یہ قتل ہوا ہو ، بلکہ اس کے اعوان وانصار اس کے ساتھ یہ ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ ان اعوان و انصار کو اسلامی قانون کی اصطلاح میں عاقلہ کہا جاتا ہے۔ امام سرخسی اس بات کی وضاحت میں ، کہ عاقلہ کی یہ ذمہ داری انفرادی ذمہ داری کے اصول

(لا تزر وازرۃ وزر اخری)

\n\nسے متصادم نہیں ہے ، فرماتے ہیں:\nھو معقول المعنى من أوجہ : أحدھا ان مثل ھذا الفعل انما يقصدہ القاتل بزيادۃ قوۃ لہ ؛ وذلك انما يكون بالتناصر الظاھر بين الناس ؛ ولھذا التناصر أسباب ۔ منھا ما يكون بين أھل الديوان باجتماعھم في الديوان ؛ ومنھا ما يكون بين العشائر وأھل المحال وأھل الحرف ۔ فانما يكون تمكن الفاعل من مباشرتھم بنصرتھم ،فيوجب المال عليھم ليكون زجرا لھم عن غلبۃ سفھائھم ، وبعثا لھم على الاخذ على أيدى سفھائھم ، لكيلا تقع مثل ھذہ الحادثۃ ۔ ھذا في شبہ العمد ۔ وكذلك في الخطا لان مثل ھذا الامر العظيم قلما يبتلى بہ المرء من غير قصد، الا لضرب استھانۃ وقلۃ مبالاہ تكون منہ ، وذلك بنصرہ من ينصرہ ۔ ثم الديۃ مال عظيم وفي ايجاب الكل على القاتل اجحاف بہ فاوجب الشرع ذلك على العاقلہ دفعا لضرر الاجحاف عن القاتل كما أوجب النفقۃ على الاقارب بطريق الصلۃ لدفع ضرر الحاجۃ۔ ۔۔ ولان كل واحد منھم يخاف على نفسہ أن يبتلى بمثل ذلك ۔ فھذا يواسي ذلك إذا ابتلي بہ، وذلك يواسى ھذا، فيدفع ضرر الاجحاف من كل واحد منھم، ويحصل معنى صيانۃ دم المقتول عن الھدر ، ومعنى الاعسار لورثتہ بحسب الامكان۔ وبھذا يتبين أنا لا نجعل وزر أحد على غيرہ۔ وانما نوجب ما نوجبہ على العاقلۃ بطريق الصلہ في المواساۃ۔\n(اس حکم کی عقلی توجیہ کئی طریقوں سے سمجھ میں آتی ہے۔ ایک یہ ہے کہ قاتل ایسا فعل اس احساس کی وجہ سے کرتا ہے کہ اس کے پاس زیادہ قوت ہے اور اس احساس کا سبب لوگوں کے درمیان پایا جانے والا ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ ہے۔ اس جذبے کے کئی اسباب ہوتے ہیں؛ جیسے ایک دیوان (سرکاری ریکارڈ ) میں درج ہونے والے افراد اس دیوان میں جمع ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح ایک خاندان، ایک علاقے، ایک پیشے سے تعلق بھی اس جذبے کا باعث بن جاتا ہے۔ پس قاتل ان لوگوں کی مدد کی وجہ سے ایسا فعل کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس مال کی ادائیگی ان لوگوں پر لازم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے گروہ کے نادان لوگوں کے غلبہ پانے سے ڈریں اور ان نادان لوگوں کا ہاتھ روکیں اور پھر آئندہ ایسا حادثہ نہ ہو۔ یہ بات شبہ ِ عمد کے بارے میں کہی گئی لیکن خطا کی صورت میں بھی یہ بات صحیح ہے کیونکہ کوئی شخص عام طور پر بغیر ارادے کے اتنی بڑی آزمائش میں نہیں پڑتا، الا یہ کہ اس میں ایک طرح کی حقارت اور لاپروائی ہو جس کا سبب ان لوگوں کی مدد ہی ہوتی ہے جو اسے بچانے کے لیے لپکتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ دیت کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور صرف قاتل پر اس کی ادائیگی لازم کی جائے تو اس کے لیے یہ بہت بھاری بوجھ بن جاتا ہے۔ چنانچہ شریعت نے اس سے یہ بھاری بوجھ کم کرنے کے لیے اس کی عاقلہ پر یہ ذمہ داری عائد کردی ہے جیسے اس نے رشتہ داروں کا نفقہ ان کی حاجت کی بنا پر انسانی ہمدردی کے اصول پر لازم کیا ہے۔ پھر یہ وجہ بھی ہے کہ ہر شخص اپنے بارے میں فکرمند ہوتا ہے کہ کہیں ایسی آزمائش مجھ پر نہ آن پڑے ۔ اس لیے وہ آزمائش میں مبتلا اس شخص کی مدد کرتا ہے اور پھر دوسرا اس کی مدد کرتا ہے۔ اس طرح کسی ایک شخص پر بھی سارا بوجھ نہیں آتا (بلکہ سارے ایک دوسرے کا بوجھ بانٹتے ہیں)۔ اس کے نتیجے میں مقتول کا خون بھی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے اور اس کے ورثا سے ممکن حد تک مشکل بھی دور کردی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہم ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالتے بلکہ عاقلہ پر جو ذمہ داری ہم ڈالتے ہیں، وہ انسانی ہمدردی کے اصول پر صلہ رحمی کے طور پر ہوتا ہے۔)\n\n3۔ پاکستان کے قانونِ قصاص و دیت میں جو اب مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کا حصہ ہے، عاقلہ کا تصور موجود نہیں ہے اور دیت کی ادائیگی اس شخص پر ہی عائد کی گئی ہے جس کی خطا سے قتل واقع ہوا ہو۔ (دفعہ 319) استاد محترم جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب مرحوم سے ایک دفعہ میں نے پوچھا کہ آپ کا اس قانون کی تشکیل میں کافی حصہ ہے تو اس قانون میں عاقلہ کیوں نہیں ہے؟ ان کا جواب یہ تھا کہ پاکستان میں عاقلہ ہے کہاں جس کو ہم قانون میں ذمہ دار ٹھہراتے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ ہی سے ہم نے یہ بات سیکھی ہے کہ اسلامی قانون معاشرے کے تابع نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کو اپنا تابع کرتا ہے۔ چنانچہ اگر عاقلہ نہیں تھی، تو قانون کے ذریعے عاقلہ بنانی چاہیے تھی۔ عاقلہ کی عدم موجودگی میں دیت کی ادائیگی بہت بڑا بوجھ بن جاتی ہے، بالخصوص ٹریفک حادثات میں جب تنہا ڈرائیور کو دیت کا ذمہ دار بنادیا جاتا ہے۔\n\n4۔ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ایک جانب سے خطا ہوئی ہے اور اس وجہ سے اسے قصاص کی سزا نہیں دی جاسکتی لیکن دوسری جانب ایک بےقصور انسان کی جان گئی ہے اور اس کی جان بے قیمت نہیں ضائع ہونی چاہیے۔ دیت اسی اصول پر لازم کی گئی ہے، جیسا کہ اوپر امام سرخسی کی عبارت سے واضح ہوا۔\n\n5۔ چنانچہ اہم بات یہ ہے کہ دیت کی ادائیگی strict liability کے اصول پر ہے، یعنی اس کا انحصار اس بات پر نہیں کہ قتل کرنے والے کا قصور ثابت ہو ۔ بلکہ اس کو بے قصور مانتے ہوئے، اور قتل کو خطا قرار دیتے ہوئے، یہ ذمہ داری اس پر (اور اس کی وساطت سے اس کی عاقلہ پر ) عائد کی جاتی ہے۔ (دیکھیے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 319)۔ ہاں، اگر ثابت ہوجائے کہ ڈرائیور نے لاپروائی کا مظاہرہ بھی کیا تو پھر اس پر اضافی سزا بھی عائد ہوتی ہے۔ (دیکھیے دفعہ 320۔)\n\n6۔ گزشتہ دن اسلامی یونی ورسٹی کی بس کو جو حادثہ پیش آیا ہے، اس پر ہم سب دلی دکھ محسوس کر رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ڈرائیور بےقصور ہو اور واقعی گاڑی کے بریک فیل ہوئے ہوں، اگرچہ وڈیو سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قصور اسی کا ہے اور وہ اشارہ سبز ہوتے ہی غلط سائیڈ سے انتہائی تیز رفتاری سے جانے کی کوشش میں بس پر کنٹرول کھو بیٹھا۔ اگر تحقیقات کے بعد وہ بے قصور ثابت ہو تو دفعہ 320 میں مذکور سزا اس پر عائد نہیں ہوسکتی لیکن اس صورت میں بھی دفعہ 319 کے تحت اس پر دیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔\n\n6۔ اسلامی یونی ورسٹی کی انتظامیہ سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اسلامی قانون کے عدل کے اصول مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر مقتول کے ورثا کو دیت کی ادائیگی کا بندوبست کرے گی۔ اس ضمن میں ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ذمہ داری تنہا ڈرائیور پر عائد کرنے کے بجائے پورے ٹرانسپورٹ سیکشن کے ملازمین کو اس ڈرائیور کی عاقلہ قرار دیتے ہوئے ان کی تنخواہوں سے دیت کی ادائیگی کرائے۔ اسی طرح اس سیکشن میں اجتماعی ذمہ داری کا وہ تصور پیدا ہوگا جو آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچانے میں مفید ثابت ہوگا۔ جس کسی نے بھی اسلامی یونی ورسٹی کی بسوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر دیکھا ہو، وہ گواہی دے گا کہ عموماً یہ ڈرائیور بہت زیادہ لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان پر کسی کا کسی طرح کا کنٹرول نہیں ہوتا۔\n\n7۔ ہاں! اگر تحقیقات کے بعد ثابت ہو کہ ڈرائیور نے غفلت اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا تھا تو اس کی مزید سزا اسے تنہا بھگتنی ہوگی۔\n\n8۔ یہ حادثہ ایک تنبیہ ہے۔ اس تنبیہ کے بعد یونی ورسٹی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ڈرائیوروں کی تربیت اور ان پر چیک کے لیے خصوصی انتظام کرے۔ نیز ٖڈارئیوروں کی تھکن، ان کی شفٹس اور دیگر مسائل کے فوری حل کی طرف بھی توجہ کرے۔\n\nوما علینا الا البلاغ۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam