عمران خان آج بھی امید بن سکتا ہے - زبیر منصوری

زبیر منصوری عمران خان آج بھی ویسا ہی جی دار ہے،\nآج بھی امید بن سکتا ہے!\nاگر\nوہ سخت گیری، جلد بازی اور ذاتی انا کی بنیاد پر فیصلے کرنا چھوڑ دے،\nوہ جان لے کہ سیاست ساتھ لے کر چلنے کے فن کا نام ہے،\nبند گلی کے سفر کا نام نہیں،\nوہ اپنے اردگرد نظر ڈالے اور ایسے لوگ جمع کرے جو اس کی طرح ایماندار ہوں،\nوہ اپنے قیمتی اثاثے اپنی ٹیم کو سیلابی پانی کی طرح ”برباد“ نہیں دریائی پانی کی طرح ”آباد“ کرنے والا بنانے کے لیے تربیت اور ٹریننگ کا سسٹم بنائے،\nوہ پلاننگ اور دور رس منصوبہ بنائے،\nوہ محض حکمران بننے کے بجائے قائد بننے کے راستے پر چلے،\nوہ خیبرپختونخوا کو خوابوں کا نگر بنا کر دکھا دے،\nوہ عوامی قوت کو اسٹیبلشمنٹ سے نجات کے لیے استعمال کرے نہ کہ انگلی کے اشاروں کا منتظر رہے۔\n\nمیرے عزیز عمران!\nدیکھو! لاکھوں لوگ اب مایوسی کے سیلاب میں ڈوبے تو تمہاری دنیا اور آخرت کو بھی لے ڈوبیں گے۔\nخدا کے لیے ان کی معصوم امیدوں کو اپنی غیر ضروری جرات اور بڑھک بازی سے ضائع نہ کرو،\nخوب سمجھ لو کہ بہادری اور بےوقوفی میں باریک سی لائن ہوتی ہے۔\nدیکھو! برسوں بعد پٹواریوں اور زرداریوں کے علمبرداروں سے مایوس قوم کا عام آدمی تمہاری طرف متوجہ ہوا ہے اور تم؟\nکریز چھوڑ کر ایمپائر کلب کی طرف دیکھنے لگ گئے؟\nکاش تمہیں کوئی قاضی بابا جیسا شفیق اور مخلص سرپرست میسر رہتا،\nکاش تم کسی کی سنتے اور مانتے،\nیا پھر کاش کچھ بھلے لوگوں کے پاس تمہیں پارٹی وسائل فراہم کرنے اور ہیلی کاپٹر پر سفر کرانے کے اسباب ہوتے۔\nعمران لوٹ آؤ!\nیہ آخری اوور ہے!\nکہتے ہیں کہ عقلمند وہ ہے جو دوسروں کے تجربے سے سیکھ لے،\nتم اپنے تجربوں سے ہی سیکھ لو تو عقلمند تو کہلاؤ گے، کامیابی بھی تمھارے قدم چومے گی۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے “قلم قبیلہ” کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں