پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، مقامِ شکر تو یقیناً ہے – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

محمد مشتاق حکومتی اہل کار جو بھی کہیں آج سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر یقیناً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ پچھلے چھ مہینوں سے حکومت جو کچھ کر رہی تھی، اس کے بعد آج جو کچھ ہوا یہ یقیناً حکومت کے لیے بہت بڑا سیٹ بیک ہے۔\n\nجو لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ سپریم کورٹ آج ہی نواز شریف صاحب کو فارغ کر دے گی، وہ عدالتی نظام سے واقف نہیں ہیں۔ کسی بھی وکیل کو اس کی توقع نہیں تھی۔ نہ ہی قانوناً اس کی کچھ گنجائش تھی۔ اگر آج عدالت پٹیشنز خارج کر کے کہہ دیتی کہ معاملہ قابلِ سماعت نہیں ہے تو یہ حکومت کی فتح ہوتی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ پہلے ایک دفعہ اس معاملے میں پڑنے سے پہلوتہی کرچکی تھی۔\n\nجن کا یہ خیال ہے کہ عمران خان کو کمیشن پر راضی نہیں ہونا تھا، وہ یہ سوچ لیں کہ کیا اس کا مطلب سپریم کورٹ پر عدم اعتماد نہ ہوتا؟ اس کے بعد سپریم کورٹ اس معاملے میں کیا کرسکتی؟ یہ آپشن تو تب آتا ہے جب آپ ریاست کے پورے نظام کا انکار کر دیں۔\n\nجن کا یہ کہنا ہے کہ کمیشن تو حکومت پہلے ہی بنا رہی تھی وہ یا خود ناسمجھ ہیں یا دوسروں کو سادہ لوح سمجھتے ہیں۔\nچند پہلو یہ ہیں:\n1۔ نواز شریف صاحب اپنی مرضی کا کمیشن بنانا چاہ رہے تھے. کورٹ نے کہا کمیشن ہماری مرضی کا ہوگا۔\n2۔ نواز شریف صاحب کہتے تھے اس کمیشن کا دائرہ کار میں متعین کروں گا. کورٹ نے کہا ہم کریں گے۔\n3۔ نواز شریف صاحب کی ساری کاوش یہ منوانے کےلیے تھی کہ کمیشن کا فیصلہ ان پر بائنڈنگ نہ ہو. کورٹ نے پہلے ہی ان سے ضمانت لی کہ فیصلہ وہ مانیں گے۔\n4۔ نواز شریف صاحب نے آج تک نہ جواب دعوی دیا تھا نہ ہی ٹی او آر. کورٹ نے ان کو پابند کیا کہ پرسوں تک دونوں دینے ہیں ۔\n\nعملاً تو سپریم کورٹ نے شریف صاحب کی ”تلاشی لینے“ کا کام شروع کر لیا ہے! کیس کی پہلی سماعت میں بندہ اس سے زیادہ کیا چاہتا ہے؟ اس لیے مقامِ شکر تو یقیناً ہے۔\n\nجو کہتے ہیں اتنا پریشر بڑھانے کے بجائے آج تک انتظار کرنا چاہیے تھا، وہ اس پر غور کریں کہ اتنا پریشر نہ ہوتا تو شریفوں کی سفاکیت کا مظاہرہ کیسے ہوتا؟ خود غرضی کی یہ بدترین مثال کیسے قائم ہوتی کہ ذاتی مفاد کے لیے ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک جانے کے تمام راستے اس دوسرے صوبے کی عین سرحد پر بند کر دیں اور پھر طاقت کا اتنا سفاک مظاہرہ بھی کریں؟ پھر یہ بھی سوچیں کہ کیا پھر کورٹ یہی فیصلہ کرتی؟ کمیشن بنانے کے مسئلے پر کورٹ کے سابقہ رویے اور آج کے رویے پر فرق تو امید ہے کہ اب صاف واضح ہوگا۔\n\nیہی امید کی وہ کرن ہے جو مجھ جیسے رجائیت پسند لوگوں کو شکر پر ابھارتی ہے کیونکہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اس دفعہ کورٹ اور ریاستی ادارے واقعی تلاشی لینا چاہتے ہیں۔ یاد ہوگا۔ چند دن قبل میں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ دھرنے کی نوبت بھی نہ آئے اور شریفوں سے جان بھی چھوٹ جائے۔ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری سن لی ہے! فالحمد للہ علی ذلک

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam