تبدیلی کی لہر کی واپسی اور جوان خون - نورین تبسم

ایک نیا پاکستان بنانے کا شور\0 و غوغا ہے، مگر ”تبدیلی“ کی لہر جتنی تیزی سے آئی تھی اُتنی ہی سُرعت سے واپس جا چکی ہے۔ سونامی کے آنے کا پتہ چلا نہ ہی جانے کی راہ دکھتی ہے۔ جہاں بلند و بانگ دعوؤں کی طغیانیوں کے سمندر میں ڈوبنے والے ”جوان خون“ کی تعداد بڑھتی جاتی ہے وہیں لالچ، بےحسی اور ہوس اقتدار کا یہ کھارا پانی پلٹتے ہوئے سانس لیتے مردہ جسموں کو اُگلتا جاتا ہے۔ ہم عام عوام زندگی کے انتظار میں سراپا انتظار، ان سڑانڈ زدہ پٹے ہوئے مہروں کو اپنے مقدر کا ستارہ جان کر ایک بار پھر جوا کھیلنے کو تیار بیٹھے ہیں، ایک نیا پاکستان بنانے کی لاحاصل امید میں پرانے پاکستان کو مدفن بناتے ہوئے بےخبرلوگ نہیں جانتے کہ قبر پر نہ تو گھر بن سکتا ہے اور نہ ہی خوشی ملتی ہے۔ کہ ”قبریں نوحہ گر تو پیدا کر سکتی ہیں ثنا خوان نہیں.“\n\nقیمتی چیز اگر پرانی ہو جائے تو اُسے توڑ کو کبھی نیا نہیں بنایا جا سکتا۔ اُسے اُسی حالت میں احتیاط سے سنبھال کر سجایا سنوارا جاتا ہے۔ اس کا احترام کیا جائے تو ہی اس سے فیض اٹھایا جا سکتا ہے۔ غریب ماں ہو یا دھرتی ماں اُس سے فرار کسی صورت ممکن ہی نہیں۔ ترقی کی منازل طے کرنے کے بعد آگے سے آگے بڑھنا ہر فرد، معاشرے اور قوم کا بنیادی حق ہے. لیکن ! راستہ وہیں بنایا جاتا ہے جہاں پہلے سے راستہ بنا ہوا نہ ہو۔ پکی سڑک کو توڑ کر دوبارہ اسی جگہ پر سڑک بنانے کے دعوے کرنا سمجھ میں نہ آنے والی حماقت ہے اور ان نعروں پر یقین کر لینا اس سے بھی بڑی جہالت کے سوا کچھ نہیں۔\n\nتبدیلی بنے بنائے خیالات اور جمےجمائے فرسودہ نظریات سے بغاوت کا نام ہے۔ اس بغاوت کا حوصلہ اُن طبقات میں زیادہ ہوتا ہے جن کے پاس لٹانے کو بےقیمت جان کے سوا کچھ نہ ہو۔ عزت کی اُڑتی دھجیاں زندگی کو بےننگ و نام بنا دیں۔ جن کے پاس واپسی کا زادِ راہ موجود نہ ہو، وہی کشتیاں جلانے کا عزم لے کر میدانِ کار زارمیں اُترتے ہیں۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ بےہنگم عزم اور بےترتیب جوش و جذبے کے یہ طوفان جہالت اور اندھی عقیدت کے ساحلوں سے ٹکرا کر ہار مان لیتے ہیں۔ زمین میں رہنے والے زمین کی خاک ہی رہتے ہیں۔ غربت، بےکسی کے یہ سنگِ راہ قابل رحم سے زیادہ باعث عبرت بن جایا کرتے ہیں۔\n\nوقت کے ساتھ اپنے آپ کو بدلنا، اپنے رویوں، اپنے اصولوں پر نظرثانی کرنا، عمر کے بڑھتے ماہ و سال میں اپنے آپ کو بہتر سے بہتر تراشنا تبدیلی ہے۔ تخلیقِ انسانی پر نظر ڈالی جائے تو انسان اپنی زندگی کے ہر پل نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ معاشرے میں تبدیلی ہمیشہ اوپر سے آتی ہے۔ تبدیلی علم سے آتی ہے، تعلیم سے آتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ علم اور تعلیم انسان کو محتاط کر دیتے ہیں۔ تبدیلی کا اصل طوفان اس وقت رونما ہوتا ہے جب اہلِ علم و عقل بےحسی اور لاتعلقی کی چادر اتار کر عام انسان کی سطح پرآ کر نہ صرف حقوق کی بات کرتے ہیں بلکہ اس کے لیے عملی قدم بھی اُٹھاتے ہیں۔ حق حلال سے کمانے والا مراعات یافتہ طبقہ اپنے ”حال“ کی آسائش میں رہتے ہوئے جب دوسروں کے حال کی فکر کرتا ہے چاہے اس میں اس کا ذاتی مفاد ہی کیوں نہ شامل ہو۔ سب سے بڑھ کر جب ناانصافی کا عفریت اُن کے اپنے دروازے پر دستک دیتا ہے تو اس لمحے جاگنا ہی پڑتا ہے، سنبھلنا ہی پڑتا ہےاور وقت کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے کر بدمست ہاتھیوں کو سبق سکھانا ہی پڑتا ہے۔\n\nاس لمحے تبدیلی آ ہی جاتی ہے لیکن تماش بین بن کر نہیں، بلکہ تماشا بنا کر۔ قابلِ رحم اور قابلِ تضحیک بن کر نہیں بلکہ باعث عزت و تکریم بن کر، نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے ساتھیوں کے لیے۔ جوش خطابت اور شورِجنون دکھلا کر نہیں بلکہ دلائل سے اپنے حق پر ڈٹے رہ کر۔\n\nتبدیلی کا علم لے کر ضرور اٹھو! اپنے اپنے محاذ پر تبدیلی کا آغاز کرو لیکن، اپنے ”نظام“ میں رہ کر اس کی بحالی اور اپنے ”ماحول“ میں خود کو ایڈ جسٹ کرتے رہنے کی آخری کوشش کے بعد۔ پے در پے عجلت میں کیے گئے غلط فیصلوں اور سیاسی شعور کی ناپختگی سے قطع نظر مستقبل کا مؤرخ جب پاکستان میں تبدیلی کی لہر کے آغاز کے بارے میں لکھےگا تو عمران خان کا نام اس میں سرفہرست ہوگا۔ لیکن اس لہر کو مثبت سونامی میں بدلنے کے لیے عمران خان کو اپنے دوست نما دشمنوں کو پہچاننے کی دعا ہی دی جا سکتی ہے۔ ہر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا جن کا خاصا اور شاہ سے بڑھ کر شاہ کا وفادار ہونا اُن کا ایمان ہے۔ جو چڑھتےسورج کو داد و تحسین کا گرہن لگا کر اس کو بےفیض بنا دیتے ہیں۔\n\nآخری بات!\nہر انسان ایک مداری ہے۔ کیا جانیے کب اُس کے تھیلے سے کیا نکل آئے؟ ہمیں اُس کے کرتب کو دیکھنا چاہیے، اُس کے حلیے کو نہیں۔ اپنے کرتب کی قیمت مانگنے پر چپکے سے کھسک جانے کا اختیار بہرحال ہمارے پاس ہے۔ بحیثیت قوم ہم سادہ لوح ہیں۔ نعروں اور بڑھکوں کے فریب میں آ جاتے ہیں۔ بڑے بڑے ”جھٹکوں“ نے ہمیں میچورٹی عطا نہیں کی۔ سنہرے وعدوں کی زنجیریں ہمیشہ بیڑیاں ہی ثابت ہوئی ہیں۔ تبدیلی کا حصہ ضرور بنیں لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ بھیڑ بھیڑیے کی کھال پہن کر بھی شکاریوں سے نہیں بچ سکتی اور گیدڑ شیر کا لباس پہن کر بھی بادشاہ نہیں کہلا سکتا۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں