کٹر پنجابی، کٹر پاکستانی اور کٹر اردو ادیب

%d8%aa%d8%a7%d8%b1%da%91%d8%a7 مستنصرحسین تارڑ عہدِ حاضر میں جہاں اردو زبان و ادب کا قابلِ فخر سرمایہ ہیں، وہیں اپنی شخصیت اور عادات وگفتار کے لحاظ سے قابلِ تقلید ”تعصب“ اور اُس کے توازن کی عمدہ مثال ہیں۔\nلکھاری جس مٹی میں پلا بڑھا ہواس کی خوشبو سے کبھی فرار حاصل نہیں کر سکتا۔ اور مٹی سے وابستہ اس کے پڑھنے والے بھی اُسے اِسی طور محسوس کرتے ہیں۔ کسی لکھاری کو پسند کرنے والوں کو درحقیقت اس کے لفظ میں اپنے دل اپنی سوچ سے قربت کی مہک آتی ہے۔ وہ لکھاری جو ہمارے دل کے تار چھو جاتا ہے اس ساز کی ایک جھلک دیکھنے کی خواہش سے انکار نہیں کیا جا سکتا خاص طور پر اگر وہ ہمارے عہد اور ہماری دنیا میں ہمارے قریب بھی کہیں موجود ہو۔ قاری اور لکھاری کا گم نام سا رشتہ ساز و آواز کی مانند ہے، بےشک آواز ساز کے بنا مکمل تو ہے لیکن ساز آواز کو چہار سو پہنچا ضرور دیتا ہے، ورنہ دل کی بات دل ہی میں رہ جاتی ہے۔ ہم انسان ہر رشتے ہر احساس میں بنیادی طور پر بُت پرست واقع ہوئے ہیں جہاں ذرا سی روشنی دکھائی دی، سجدہ کر لیا۔ شخصیت کا بُت پہلی نظر یا پہلی ملاقات میں ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ لکھنے والا اپنے افعال و کردار میں ہمارے جیسا عام انسان ہی ہے۔ کبھی بت یوں ٹوٹتا ہے جب ہم قول و فعل کا تضاد دیکھتے ہیں یا لفظ اور کردار میں کہیں سے بھی مماثلت دکھائی نہ دے۔ اکثر کاغذی رشتے، صوتی ہم آہنگی جب رسائی کی حدت میں جذب ہوتے ہیں تو خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بےجان لگتے ہیں تو کبھی پُرشور ڈھول کی طرح اندر سے خالی۔ اس لمحے ہماری محبت ہمارا عشق چپکے سے دل کے مدفن میں اُتر جاتا ہے۔ یاد رہے”بت ٹوٹنے کے لیے ہی ہوتے ہیں۔“ یہ بہت اچھی بات ہے کہ اس طرح انسان حقیقت اور تصور کے مابین گومگو کی کیفیت سے نکل جاتا ہے۔ اس میں اس لکھاری کا ذرا سا بھی قصور نہیں کہ\n”بُت ہم خود بناتے ہیں اور اپنی خواہشوں کے مندر میں اونچا مقام دیتے ہیں۔“\n\nاپنے محبوب لکھاری مستنصرحسین تارڑ سے ملاقات کرنے والے ان کے لفظ کے عشق میں سرشار کیا کہتے ہیں، ذرا سنیے۔\n\n24 اکتوبر 2016ء ...... ایک ملاقات ....... از سید عرفان احمد\n\n

گھنٹہ پہلے مستنصر صاحب سے اُن کے لکھائی والے کمرے میں ملاقات ہوئی۔\nآج سارا دن نزلے اور بخار کی وجہ سے بستر پر لیٹ لیٹ کر اُکتاہٹ اور بوریت سی ہونے لگی۔ شام کو خیال آیا کہ مستنصر صاحب سے اُن کے نئے گھر میں ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی، اُن سے ملا جائے۔ غیر مناسب وقت کی پروا نہ کرتے ہوئے رات آٹھ بجے اُن کے گھر کے دروازے پر پہنچ گیا۔ فون کیا اور اپنا نام بتایا۔ نام پہچانتے ہوئے انہوں نے کہا ’’کِدّر پھرنا پیا ایں؟‘‘۔ میں نے کہا ایسے ہی آپ سے ملنے کا خیال آ گیا تھا۔

\n\nمستنصر حسین تارڑ ’’کِتھے ویں ایس ویلے؟ انہوں نے پوچھا۔\n’’تُہاڈے گیٹ تے‘‘ میں نے جواب دیا۔\n’’اچھا میں گیٹ کھلوانا واں‘‘\nملازمہ نے کہیں سے چابی ڈھونڈ کر دروازہ کھولا اور مجھے مستنصر صاحب کے لکھائی والے کمرے میں بٹھا دیا۔ اُن کی غیرحاضری کوغنیمت جان کر اردگرد کی چند تصویریں کھینچیں۔ چند منٹوں بعد مستنصر صاحب آ گئے اور پہلے والا سوال دہرایا۔ میں نے کہا کہ صبح سے نزلے اور بخار سےگھر پر تھا اور اب آپ سے ملنے آ گیا ہوں۔ میری بےساختہ ہنسی نکل گئی جب انہوں نے کہا ’’میرے کولوں پراں ای رو‘‘۔ اُن کے لہجے میں پیار و محبت اور مذاق اکٹھے ہی تھے۔\nتھوڑا پیلوں آ جانا سی، تینوں تھوڑا وقت تے دیندا۔ ھُن میرا لکھن دا ویلا ہُندا پیا اے‘‘۔"\nمستنصر صاحب اپنی آنے والی کتابوں کا بتانے لگے اور اُن کی جو تحریریں انگریزی زبان میں چند لوگ ترجمہ کر رہے ہیں۔ اُن کے دوستوں نے انہیں اپنی ٹی وی کی زندگی اور اُس سے جڑے واقعات کو کتابی شکل دینے کا کہا تھا۔ اس کا ذکر جب انہوں نے اپنی اہلیہ سے کیا تو انہوں نے اسے ویٹو کر دیا۔ میں نے کہا کہ ٹی وی سے متعلقہ جو واقعات ہم آپ سے سنتے رہتے ہیں وہ واقعی اس قابل ہیں کہ انہیں ضبطِ تحریر میں لایا جائے۔ ایک تاریخ ہے جو محفوظ ہو جائے گی۔ اس پر انہوں نے کہا ’’لکھاری پر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب اُس کا مقابلہ اپنے آپ سے ہو جاتا ہے اور اپنے آپ سے لڑنا آسان نہیں۔ اب مجھے کچھ لکھنا ہے تو پہلے سے بڑھ کر لکھنا ہے،یہ میرا خود سے مقابلہ ہے‘‘۔\nکیہڑی کتاب لینی اُوں‘‘ میں اُٹھنے لگا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا۔"\n’’تہاڈیاں کافی کتاباں ہین نے میرے کول، رہن دیو‘‘۔ میں نے رسماً کہا۔ دل تو کر رہا تھا کہ کہہ دوں کہ ساریاں دے دوو۔\n’’فیر وی، دس کوئی‘‘ انہوں نے پھر پوچھا\n’’بہاؤ دے دیو‘‘\nمستنصرصاحب نے اُٹھ کر کتابوں کے ریک سے بہاؤ نکالی اور اپنے شفیق جملے اور دستخطوں کے ساتھ مجھے عنایت کی۔ میرے اصرار کے باوجود کہ رہنے دیں، مستنصر صاحب باہر نکل کر دروازے تک مجھے چھوڑنے آئے۔\nپتھر کے پہاڑ اور اور انسان کے پہاڑ بننے میں فرق یہ ہے کہ پتھر کے پہاڑ کا سر جھک نہیں سکتا۔ انسان جب پہاڑ بنتا ہے تو کسی بڑے ظرف والے انسانی پہاڑ کا سر انکساری اور اعلیٰ ظرفی سے جھک جاتا ہے اور یہ ادا اُسے اور بلند کر دیتی ہے۔\nمستنصر صاحب کے یار دوست اگر کبھی غلطی سے اُن سے اردو میں گفتگو کرنے لگیں تو مستنصر صاحب اکثر یہ جملہ بولتے ہیں:\nتیری طبیعت ٹھیک اے، اردو پیا بولنا ایں؟\n..........................................\nعمارہ خان کہتی ہیں،\nمیں ان کو اپنی فیملی میں پنجابی ہی بولتے دیکھا ہے۔میں نے اپنی زندگی میں سر جیسے انکساری برتنے والے انسان نہیں دیکھے.. ان سے مل کے نہیں لگتا کہ یہ ایک لیجنڈ ہیں.. اور یہ ہی چیز سر کو سب میں بہت نمایاں کرتی ہے..\nدوسری بات سر کا اپنی زبان پہ قائم رہنا واہ شاندار.. آج کے زمانے میں جب لوگ اپنے گھر پنجابی نہیں بولتے سر ڈنکے کی چوٹ پہ ہر محفل, ڈنر, تقریب میں بولتے ہیں .. انسان کو اپنے اصل کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔\n..........................................\nابوبکر سیال کہتے ہیں،\nمجھے بھی ٹوکا تھا کہ کونسے علاقے سے ہو تو میں نے سرائیکی بیلٹ کا بتایا اور اردو میں بات کی۔ تو انہوں نے کہا کہ اتنی گاڑھی اردو مت بولو اور پنجابی میں بات کرو۔ میری بھی جھجھک ختم ہوئی اور پنجابی تو میٹھی زبان ہے ہی۔\n..........................................\nحرفِ آخر از نورین تبسم\nاپنی زمین ہر انسان کی پہچان ہے تو زمین سے نسبت اس کو سربلندی عطا کرتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا۔۔۔\nزمین اچھی طرح ان کی جڑیں جب تھام لیتی ہے\nدرختوں کی بھی پھر طوفاں میں گردن خم نہیں ہوتی\n\nتاثرات بشکریہ ..... مستنصرحسین تارڑ ریڈرز ورلڈ

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!