پرویز رشید کی برطرفی پر کوئی افسوس نہیں - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

عاصم اللہ بخش اب جبکہ کہ خود حکومت نے کہہ دیا کہ بادی النظر میں وہ ڈان کو اعلی سطحی سکیورٹی میٹنگ کے حوالے سے وہ تفصیلات جاری کرنے کے ذمہ دار پائے گئے جس کی بنیاد پر سیرل المیڈا صاحب نے چھ اکتوبر کی اشاعت میں اپنا کالم لکھا، اس کے بعد کسی ہمدردی کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟\n\nاس سطح کے اجلاسوں کی تفاصیل ”چیدہ چیدہ“ کی بنیاد پر ہی جاری کی جا سکتی ہیں، وہ بھی سرکاری بریفنگ میں. اس کا من و عن رپورٹ ہو جانا تشویش کا باعث ہے اور قابل سزا بھی. رازداری برقرار رکھنے کی ذمہ داری پوری نہ کرنے اور بطور وفاقی وزیر حلف کے پاسداری میں غفلت پر ان کے خلاف ایسی ہی سخت کارروائی ضروری تھی. یاد رہے نیشنل کمانڈ اتھارٹی بھی لگ بھگ انہی افراد پر مشتمل ہے جو اس میٹنگ میں شریک تھے. اگر رازداری کا یہ عالم ہے تو پھر ایٹمی اثاثوں سے متعلق ہماری یقین دہانیوں کا اللہ ہی حافظ ہے.\n\nجو دوست تواتر سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس خبر میں نیا کیا تھا، سب کچھ وہی ہے جو پہلے ہی کہا جا رہا تھا؟ ان کی معصومیت کو سلام کے بعد عرض ہے کہ الزام اور ”اقبال جرم“ میں بہت کلیدی فرق ہوتا ہے. جو کہا جا رہا تھا وہ محض ایک الزام تھا. الزام کو ثابت کرنا الزام لگانے والے کی ذمہ داری ہے جبکہ اقبال جرم کے بعد حجت تمام ہو جاتی ہے، اب صرف سزا سنانا باقی رہ جاتا ہے.\n\nکوئی وجہ بھی اتنی بڑی نہیں ہو سکتی جس کے لیے ایسی حرکت کو جواز فراہم کیا جا سکے. تاہم، آئندہ ایسی کسی بھی صورتحال سے بچنے کے لیے جہاں ذمہ داران کی گرفت ضروری ہے وہاں اس پر غور کرنا بھی بہت اہم ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ایسا کام ہوا. اگر یہ سب منصوبہ بندی سے ہوا تو یہ انتہائی فرسٹریشن کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے. کہیں یہ تنگ آمد بجنگ آمد کا معاملہ تو نہیں تھا؟ اگر ایسا تھا تو پھر ان وجوہات کو ختم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے.\n\nمثلاً، یہ تاثر کہ سیاسی افراتفری یا منفی میڈیا کیمپین کی ڈوریں کہیں سے ہلائی جاتی ہیں، اس کی عملاً نفی ہونا چاہیے.\n\nیہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ ون آن ون میٹنگ میں اگر وزیراعظم کو مبینہ طور ”شٹ اپ کال“ جاری کی گئی تو کیا وہ خبر ایک ٹیلی ویژن اینکر تک نواز شریف صاحب نے پہنچائی؟ یا مریم نواز شریف نے ایک دوسرے اینکر کو فون کر کے اطلاع دی کہ میں نے اخبار نویس کو وائبر پر 8 کالیں کی؟ یا پھر یہ بات سرتاج عزیز صاحب نے سوشل میڈیا تک پہنچائی کہ ایک خاتون لکھاری کو انہوں نے کابل بھیجا، بھارتی خفیہ ایجنسی کے لوگوں سے ملاقات کرنے کے لیے ؟\n\nنیشنل سیکیورٹی اہم ترین معاملہ ہے اور اسے خالصتاً وہیں تک محدود رہنا چاہیے تاکہ اس کی ساکھ محفوظ رہے اور جب بھی اس کا حوالہ دیا جائے، یہ قوم کو متحد کر کے سیسہ پلائی دیوار بنا دے. اس کی آڑ میں دیگر اہداف کے حصول کی کوشش، یا ایسا ہونے کا تاثر، نیشنل سیکیورٹی کے اس اہم ترین وصف کو شدید زک پہنچا سکتا ہے.\n\nکسی بھی قوم اور اس کی افواج کے لیے اس سے بڑھ کر نقصان دہ بات ممکن نہیں.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!