غض بصر اور نفس – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

آپ نظریں جھکائے بیٹھا کیے\nکوئی وارفتگی سے دیکھا کیے \n(رابعہ)\n\nاگر تو آپ کے بڑوں نے سمجھایا کہ بیٹا اپنی نظر کی حفاظت کرنا کسی کو تمہاری نظر سے\0\0، تمہارے دیکھنے سے بے آرامی و بے چینی کا احساس نہ ہو. اگر تو اسے عورت کے پردے کی طرح اسلامی شرعی حکم مان کر پورے دل سے اپنایا اور اپنی نظر کا پردہ رکھا تو بہترین قابل ستائش..\n\nلیکن کسی نے آپ کی اس خوبی کی تعریف کی اور کوئی آپ کی جھکی نظروں سے گھائل ہوگیا.. اور اس بات پر آپ کا نفس خوش ہوا، اترایا.. اس اتراہٹ و سر خوشی کو آپ نے مزاح کے لطیف پردے میں لپیٹ کر دوست احباب سے داد وصول کی اور اپنی اس ادا پر مزید قائم ہوگئے تو درحقیقت اب آپ غص بصر نہیں کر رہے بلکہ ”نظریں جھکا کر شکار کر رہے ہیں.“\n\nایسی جھکی نظر جو آپ کی طرف صنف مخالف کی توجہ مرکوز کروا کر آپ کے نفس کی تسکین کا سامان مہیا کر رہی ہے. . یہ ڈوری میں لگا کانٹا ہے جس سے آپ مزید شکار کر رہے ہیں تاکہ بھوکے نفس کو غذا فراہم کریں. . . یہاں بظاہر بزرگوں کی نصیحت پر عمل اور درحقیقت نفس کی تسکین مطلوب ہے.\nسوچیے دھوکا کسے دے رہے ہیں. ”خود کو“\nکہ میں تو نظریں جھکا کر بیٹھا ہوں کسی کو دیکھتا نہیں. لیکن کسی کی توجہ حاصل ہونے پر محسوس ہونے والی خوشی آپ کے درست عمل کو غلط کر دیتی ہے. .\n\n”تقوی یہ ہے کہ خود اپنے تقوی کا احساس نہ ہو“\nاور یہ ایک مشکل کام ہے . پھر وعدہ بھی تو یہی ہے نا کہ ”مشکل کے بعد آسانی ہے“\nغض بصر یہ ہے کہ دوسرے کو متاثر کرنے کی نیت نہ ہو بلکہ اپنی نظر و نفس کی حفاظت پیش نظر ہو.
\nانما الاعمال بالنیات.

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

Protected by WP Anti Spam