دھرنے اور آج کا اسلام آباد - نورین تبسم

اسلام آباد اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت، اُس کا دل، ایک خوبصورت شہر، جس کا موسم مالک کی فیاضی کا اورجس کی دلکشی اور نکھار انسان کی تنظیمی صلاحیتوں کا آئینہ دار ہے، جس کے خوبصورت گھر مکینوں کی آسودگی کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں، جس کے قبرستان دیکھ کر انسان کے دل میں مٹی سے ملن کی خواہش بیدار ہو جاتی ہے، جس کے پہاڑ کا سحر انسان کو زندگی اورموت کے درمیان تارِعنکبوت بھلا دیتا ہے، جس کی بل کھاتی سڑکوں پر چمچماتی نئے سے نئے ماڈل کی گاڑیاں شاہ سواروں کی بےنیازی کا منہ بولتا ثبوت پیش کرتی ہیں، جس کے پوش علاقوں کے برانڈڈ شاپنگ پلازہ مہنگائی اورغربت کے منہ پرطمانچے رسید کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس کی مہذب سول سوسائٹی ملک وقوم کےغم میں آئے روز ”دھرنے اور واک“ کا اہتمام کرتی ہے، لبرل گھرانوں کے تعلیم یافتہ نوجون لڑکے اورلڑکیاں کندھے سے کندھا ملائے ملکی مفاد کی خاطر اپنی خواب گاہوں اور درس گاہوں سے اٹھ کر ایک مقصد( کاز) کے لیے جمع ہوتے ہیں۔\n\nاسلام آباد پاکستان کا سب سے جدید اور پوش شہر ہے۔ ڈی چوک کے آس پاس ”بلیو ایریا“ کا سب سے مہنگا تجارتی مرکز ہو یا شہر کے مختلف سکیٹر، پرتعیش طعام گاہوں اور نت نئے ماڈل کی گاڑیوں کی رونق سےمزین ہیں۔ اگرچہ غربت و افلاس چوکوں اور چوراہوں پر پیشہ ور بھکاریوں کے روپ میں نظر آتی ہے، شہر کے قرب میں سانس لیتی کچی آبادیاں آقاوغلام کے ازلی تاثر کی غمازی کرتی ہیں، سڑکوں پر جا بجا لگے ناکوں سے حالات کی سنگینی کا پتہ چلتا ہے مگر راوی ہرطرف چین ہی چین لکھتا ہے۔ سی ڈی اے کے زیراہتمام ہفتے میں تین روز لگنے والے بازار نہ صرف متوسط طبقے بلکہ ہر قسم کے طبقات کے لیے ایک نعمت مترقبہ سے کم نہیں، جہاں ضروریات زندگی سے تعیشات زندگی کی ہر چیز کی خریداری ہر کوئی اپنی جیب کے مطابق کر سکتا ہے. عام شہری قاعدے قانون کی پابندی کرتے ہوئے باقاعدگی سے ٹیکس دیتے ہیں۔ بجلی پانی گیس اورصحت وصفائی جیسی بنیادی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔\n\nکہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہاں مشکلات اور پریشانیاں نہیں۔ جرائم اور اشرافیہ کی زیادتیاں نہیں، بلکہ یہاں تو جرائم بھی اتنے مکمل انداز میں اور دن دہاڑے ہوتے ہیں کہ لوٹنے والا نام ونشان تک نہیں چھوڑتا۔ قبضہ مافیا آبائی گھروں اور زمینوں میں رہنے والوں کو قانون کا سہارا لے کر یوں صفائی سے بےدخل کرتا ہے کہ برسوں مقدمات اپنی موجودگی کی گواہی دینے میں گزر جاتے ہیں۔ جج کے سامنے لاکھ چیخ پکار کرو کہ ایک بندہ تمہارے سامنے زندہ کھڑا ہے اس کی شہادت اہم ہے یا کسی جعلی دعوے دار کی۔ قانون اسلام آباد میں بھی اندھا ہے۔ یہاں قائم سب سے بڑی عدالت انصاف کے باوجود انصاف یہاں کوسوں دور ہے۔ یہاں کی پولیس بھی ”کارکردگی“ میں ”وقت“ پڑنے پر کسی بڑے صوبے کی پولیس سے کم نہیں۔ یہاں بھی جان مال سے لے کر ایمان تک ”سب“ بکتا ہے۔گاڑیوں کی چوری اور گھروں میں دن رات کے فرق کے بغیر ڈاکے بھی معمول کے جرائم میں شامل ہیں۔\n\nلیکن ان سب باتوں کے باوجود اندھا انقلاب یا اندھی تقلید اندھے قانون سے نجات کا حل نہیں۔\nبنیادی طور پر دیکھا جائے تو اسلام آباد موسم اور لوگوں کے مزاج، وسائل اور مسائل کے اعتبار سے ایک معتدل اور منظم شہر ہے۔ کاش ہمارے آج کے ”مخلص رہنما“ جو قوم کے درد میں ”خوار“ ہو رہے ہیں۔ میرے وطن کی ان زمینوں کو دھرنے اور نیا پاکستان بنانے کے لیے منتخب کرتے جہاں کے لوگ آج بھی پتھر کے زمانے میں سانس لے رہے ہیں۔ جہاں کے موسم کی سختی اور حالات کے جبر نے انسان کا انسان سے رشتہ ختم کر دیا ہے۔ جہاں بھوک وافلاس کا عفریت خونی رشتوں کو نگل رہا ہے۔ جہاں ہمارے وطن کا قانون نہیں چلتا۔ کاش کوئی وہاں کی بادشاہی کو للکارنے کی ہمت پیدا کرسکتا۔\n\nکاش کوئی ”عظیم نجات دہندہ“، ”بڑا انقلابی رہنما“ ان محکوم و مجبور پسے ہوئے لوگوں کو احتجاج کے ہیوی بجٹ میں سے ایک وقت کی روٹی ہی کھلا دیتا۔ ایک روز کے لیے پینے کا صاف پانی ہی مہیا کر سکتا۔ لاکھوں چاہنے والوں اورعقیدت مندوں کی طاقت ان کے لیے راستہ بنانے پر لگا دیتا۔ یہ انقلاب کا وہ انداز ہوتا جو اس سے پہلے کسی نے دیکھا نا سنا ہوتا۔ عوام کی سطح پر آ کر بادشاہیت ختم کرنے کا وہ عہد ہوتا جو اشرافیہ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دیتا۔گھنٹی سے یاد آیا کہ یہ تو\n”بلی کے گلے میں گھنٹی کون ڈالے“ والا مشکل کام تھا، جس کی زد میں ”اپنے“ ہی آتے ہیں۔\n\nہر بار کیوں ہم عام عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے؟ ہمیں بےوقوف بنایا جاتا ہے۔ کیا کبھی کسی بڑے نے اپنی ملکیت میں آنے والے ملک کے ایک حصے کو روشن مثال بنایا ہے؟\n\nاحتجاج کا طریقہ غلط ہے۔ اس میں صرف عوام کا نقصان ہے۔ مہذب معاشروں میں بھی اس طرح کےاحتجاج ہوتے ہیں کوئی شک نہیں کہ بےاثر بھی رہتے ہیں لیکن کبھی کوئی طریقہ اتنا کارگر بھی ہوتا ہے کہ بغیر کسی شور کےاپنی بات منوا لی جاتی ہے۔ دور نہ جائیں صرف گزشتہ 30 سالہ ملکی تاریخ کا مشاہدہ کرلیں یہ بھی زیادہ لگے تو اس صدی کے پندرہ سال دیکھ لیں۔ ہر آنے والا پہلے سے بدتر ثابت ہوا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جعلی ڈگریوں والے صاحبان ِاقتدارکی طرح ہم بھی اپنی تاریخ سے ناآشنا ہیں یا جان بوجھ کر نظر چراتے ہیں۔ یہ جانے بنا کہ تاریخ اپنے آپ کو باربار دُہراتی جاتی ہے جب تک کہ اُس سے سبق نہ سیکھ لیا جائے۔\n\nہم عوام کے لیے حوصلے اور ہمت کی دعا ہے اور ہمارے نام نہاد قائدین جو خواہ حکومت میں ہیں یا اپوزیشن میں، ان کے لیے جوش سے بڑھ کر ہوش کی تمنا ہے، جنہوں نے ”تخت یا تختہ“ کو اپنی ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔\n\nآخری بات\nاسلام آباد گرایک الف لیلوی شہر ہے تو ”ڈی چوک“ اس کی جادو نگری جہاں جتنے جوش وخروش سے میلے لگتے ہیں۔ اُتنے ہی جوش سے کامیاب ہو کر ختم بھی ہو جاتے ہیں۔ کرتب دکھانے والا بھی خوش۔ ناچنے والا بھی خوش اور پلے سے پیسے خرچ کر کے دیکھنے والا بھی کان لپیٹ کر گھر لوٹتا ہے۔ آگے کی کہانی کس نے دیکھی؟ کس نے سنی؟ عوام پہلے بھی تماشائی تھے اور آج بھی تماشائی ہیں۔ میوزیکل چئیرز کے، انا کی موسیقی میں محو رقص بڑوں کے اس کھیل میں عام عوام کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلے جا رہے ہیں۔\n\nاُس شہر ِبےمثال میں دوردراز کے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو ایک نظریے کا ٹیکہ لگا کر لانا اور دنوں خوار کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے کسی بھوکے کو فائیوسٹار ہوٹل کی سیر کرائی جائے، پھر اس کے باہر والے باغیچے میں فرش پر بٹھا کرمحرومی اور مایوسیوں کا نوحہ سنایا جائے۔ ان بھوکوں کی برداشت کا امتحان لیا جائے۔ پھر اپنا پٹارا سمیٹ کر پچھلے دروازے سے اسی ہوٹل کے آرام دہ کمرے میں نیندیں پوری کی جائیں اور عام عوام کو دبی زبان میں ”گوٹو ہیل“ کہہ دیا جائے اور وہ سچ میں اپنے اپنے جہنم میں لوٹ جائیں۔ اپنے پیارے دیس کے باسیوں سے دلی معذرت کہ ہم سب کہیں نہ کہیں گروی رکھے ہوئے ہیں۔\n\nاللہ ہم سب کے حال پر رحم کرے اور مستقبل کے لیے وہ فیصلے کرنےکی توفیق دے جو ہمارے دین ایمان اور وطن کی سلامتی کے علم بردار ہوں۔ آمین\nپاکستان زندہ باد

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں